پوچھا ’’سٹوری بورڈ کیا ہوتا ہے؟‘‘ وہ خاموش رہیں اور میں نے پوچھا ’’ فلم کی پروڈکشن میں کتنے کیمرے استعمال ہوتے ہیں‘‘ اس نے جواب دیا ’’آٹھ‘‘۔ دوسرے صاحب کالم نگار تھے‘ میں نے ان سے پوچھا ’’ آپ مطالعے کو روزانہ کتنا وقت دیتے ہیں؟‘‘ جواب دیا ’’ مجھے مطالعے کے لیے وقت نہیں ملتا‘‘۔ میں نے پوچھا ’’کیا آپ ملک کے پانچ بڑے کالم نگاروں کے نام بتا سکتے ہیں؟‘‘ نوجوان نے فوراً پانچ نام بتا دیے‘ میں نے ان پانچ کالم نگاروں کے کالموں کا ٹائٹل پوچھا‘ نوجوان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ تیسری خاتون نیوز کاسٹنگ کی ’’مہارت‘‘ رکھتی تھیں‘ میں نے ان سے پوچھا ’’ امریکا کی کل ریاستیں کتنی ہیں؟‘‘ وہ خاموش رہیں‘ میں نے پوچھا ’’ پاکستان کے صدر کا نام کیا ہے؟‘‘ وہ خاموش رہیں‘ میں نے پوچھا ’’ سینٹ کے کل ارکان کی تعداد کتنی ہے‘‘ وہ خاموش رہیں۔ میں نے تینوں ماہرین کا شکریہ ادا کیا اور اس کے بعد پوری کلاس سے پوچھا ’’ آپ میں سے جاب کون کون کرنا چاہتا ہے‘‘ 70 میں سے 61 ہاتھ کھڑے ہو گئے‘ میں نے ان 9 طالب علموں سے نوکری نہ کرنے کی وجہ پوچھی جنہوں نے ہاتھ کھڑے نہیں کیے تھے‘ تین خواتین نے جواب دیا ’’ ہماری منگنی ہو چکی ہے‘ ایم اے کے بعد شادی ہو جائے گی‘‘۔ دو نوجوان ملک سے باہر جا رہے تھے‘ دو نوجوان سرکاری ملازم تھے‘ وہ کوالی فکیشن بڑھانے کے لیے ایم اے کر رہے تھے جب کہ دو نوجوان ایم اے کے بعد والد کا کاروبار سنبھالنا چاہتے تھے۔ میں اب 61 نوجوانوں کی طرف مڑا‘ میں نے ان سے پوچھا ’’ آپ کی تنخواہ کہاں سے سٹارٹ ہونی چاہیے‘‘ مختلف نوجوانوں نے مختلف فگرز دیے لیکن 50 ہزار روپے پر اتفاق رائے ہو گیا‘ میں نے اب 61 نوجوانوں سے عرض کیا ’’ ملک میں اب دو مسئلے ہیں‘ آپ کی کلاس کے 90 فیصد لوگ نوکری کرنا چاہتے ہیں جب کہ پاکستان میں ہر سال 23 فیصد نوکریاں کم ہو رہی ہیں‘ پاکستان تیسری دنیا کا غریب ملک ہے‘ ملک میں ستر ٹیلی ویژن چینلز ہیں‘ یہ تمام چینلز مالیاتی بحران کی وجہ سے ملازمین میں کمی کر رہے ہیں‘ یہ ’’تین پوسٹوں پر ایک شخص‘‘ کی پالیسی پر کاربند ہیں‘ اخبارات کی حالت بھی چینلز سے مختلف نہیں‘ اخبار میں سال سال تک کوئی آسامی پیدا نہیں ہوتی جب کہ ہماری یونیورسٹیاں سال میں ماس کمیونی کیشن کے دس ہزار طالب علم پیدا کر رہی ہیں اور ان میں سے نوے فیصد طالب علم نوکری کرنا چاہتے ہیں اور آپ کی طرح شروع میں پچاس ہزار روپے تنخواہ لینا چاہتے ہیں‘ دوم‘ آپ کو کچھ نہیں آتا‘ آپ ایم اے کرنے کے باوجود 24 مضامین میں سے کسی مضمون کے ایکسپرٹ نہیں ہیں‘ آپ میں سے صرف 12 لوگوں کو ڈرائیونگ کی جاب مل سکتی ہے اور وہاں بھی اگر ڈرائیونگ لائسنس ضروری ہوا تو میرٹ پر صرف چار لوگ رہ جائیں گے اور کمپنی نے اگر ڈرائیونگ سکول کا سر ٹیفکیٹ مانگ لیا تو یہ چار بھی ’’ڈس کوالی فائی‘‘ہو جائیں گے‘‘۔ میری گفتگو یقینا نامعقول اور نان پریکٹیکل تھی‘ شاید اسی لیے پوری کلاس اور کلاس کے اساتذہ ناراض ہو گئے‘ اساتذہ کا کہنا تھا‘ ہم نے آپ کو طالب علموں کو ’’اِن کریج‘‘ کرنے کے لیے بلایا تھا لیکن آپ نے انہیں ’’ڈس کریج‘‘ کر دیا‘ میں نے اساتذہ سے پوچھا ’’کیا آپ کے بچے برسر روزگار ہیں‘‘ چائے کی میز پر دس استاد تھے‘ ان میں سے 7 استاد بزرگ تھے‘ ان کے بچے تعلیم مکمل کر چکے تھے‘ ان سات کے سات اساتذہ کے بچے بے روزگار تھے‘ میں نے بچوں کی ڈگریوں کی تفصیل پوچھی‘ دو بچے ڈاکٹر تھے‘ تین انجینئر تھے‘ دو ایم بی اے تھے اور ایک استاد کی بچی سافٹ ویئر انجینئر تھی‘ یہ بچے ٹیکنیکل شعبوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار تھے‘ میں نے ان سے پوچھا ’’ آپ کے بچے ٹیکنیکل شعبوں میں گریجوایشن کرنے کے باوجود کیوں بے روزگار ہیں‘‘ اساتذہ نے جواب دیا ’’ملک میں میرٹ نہیں‘ ہمارے بچے سفارش اور رشوت نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگار ہیں‘‘ میں نے عرض کیا ’’ رشوت اور سفارش سرکاری ملازمت کے لیے درکار ہوتی ہے‘آپ کے بچے پرائیویٹ سیکٹر میں جائیں‘‘ اساتذہ نے جواب دیا ’’بچے پرائیویٹ سیکٹر میں سینکڑوں مرتبہ اپلائی کر چکے ہیں مگر انہیں انٹرویو تک کی کال نہیں آئی‘‘ میں نے پوچھا ’’ بچوں کو کال کیوں نہیں آتی‘‘ اساتذہ کا کہنا تھا ’’ سفارش اور رشوت‘‘ میں نے عرض کیا ’’ جی نہیں‘ جابز کم ہیں اور امیدوار زیادہ چناںچہ آپ کے بچے اعلیٰ تعلیم کے باوجود بے روزگار ہیں اور یہ ٹیکنیکل شعبوں کی حالت ہے جب کہ آپ مجھ سے ماس کمیونی کیشن کے طلباء اور طالبات کو ’’اِن کریج‘‘ کروانا چاہتے ہیں‘‘ اساتذہ خاموش ہو گئے۔ پاکستان میں بے روزگاری انتہا کو چھو رہی ہے‘ ملک میں ڈیڑھ کروڑ پڑھے لکھے‘ ڈگری ہولڈرز بے روزگار ہیں جب کہ بے روزگاروں کی مجموعی تعداد پانچ کروڑ سے زائد ہے‘ یہ 5 کروڑ لوگ نوکریاں بھی چاہتے ہیں‘ بھاری تنخواہیں بھی اور مراعات بھی لیکن صلاحیت دیکھی جائے تو یہ ڈرائیونگ تک نہیں جانتے‘ یہ کمپیوٹر پر ٹائپ نہیں کر سکتے‘ یہ حساب نہیں کر سکتے اور یہ درخواست نہیں لکھ سکتے مگر یہ لوگ اس کے باوجود ایسی نوکریوں کی تلاش میں ہیں جن میں تنخواہیں لاکھوں میں ہوں‘ کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کے مواقع وسیع ہوں‘ اختیارات وزیراعظم کے برابر ہوں لیکن کام اور کارکردگی صفر ہو‘ میرا خیال ہے دنیا کی کوئی حکومت‘ دنیا کا کوئی نظام اس اپروچ اور بے روزگاری کے اس ہجوم کا مقابلہ نہیں کر سکتا‘ یہ ان پانچ کروڑ لوگوں کا مسئلہ حل نہیں کر سکتا‘ ہم اب اس مسئلے کے حل کی طرف آتے ہیں۔ اس مسئلے کے چار حل ہیں‘ ایک‘ آپ لوگوں کی اپروچ کو نوکری سے ذاتی کام پر شفٹ کریں‘ حکومت ’’سیلف ایمپلائمنٹ‘‘ پر کام کرے اور یہ ڈیٹا کالج کے طلباء کے ساتھ شیئر کرے‘ دو‘ ملک میں گریجوایشن کے بعد ماسٹر یا ایم اے میں داخلے کے لیے دو سال کا عملی تجربہ لازمی قرار دے دیا جائے‘ طالب علم بی اے کرے‘ عملی زندگی میں جائے‘ وہاں دو سال گزارے اور اس کے بعد ماسٹر لیول کی تعلیم کے لیے اپلائی کر سکے‘ دو سال کے عملی تجربے کے دوران بھی جو طالب علم ذاتی کام شروع کرے‘ اسے 80 نمبر دیے جائیں اور نوکری کرنے والے کو 20 نمبر۔ تین‘ اعلیٰ تعلیم مہنگی بھی کر دی جائے اور مشکل بھی۔ یونیورسٹیاں کسی بھی شعبے میں سال میں سو سے زائد طالب علم نہ لے سکیں‘ سلیبس کو 80 فیصد پریکٹیکل اور 20 فیصد تھیوریٹیکل بنا دیا جائے‘ اہل طالب علموں کی فیس معاف کر دی جائے‘ باقی طالب علموں کو بینکوں کے ذریعے ’’ ایجوکیشن لون‘‘ کی سہولت دے دی جائے‘ ملک کی تمام سرکاری آسامیاں ’’سی ایس ایس‘‘ جیسے امتحانات کے ذریعے پُر کی جائیں تا کہ کم از کم سرکاری نوکریوں میں سفارش اور رشوت ختم ہو جائے اور چار‘ ملک میں ’’ٹیلنٹ ایکسپورٹ‘‘ کا ادارہ بنایا جائے‘ یہ ادارہ دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ ’’ہیومن ریسورس ایکسپورٹ‘‘ کے معاہدے کرے‘ ان ممالک کی ضرورت کے مطابق یونیورسٹی کے بچوں کو ٹریننگ اور تعلیم دے اور اس کے بعد ان نوجوانوں کو ان ممالک میں بھجوا دے‘ یہ پڑھے لکھے پاکستانیوں اور پاکستان دونوں کے لیے بہتر ہو گا۔ ہم نے اگر بے روزگاری کے مسئلے کو سنجیدہ نہ لیا تو یہ نام نہاد پڑھے لکھے نوجوان مستقبل کے خودکش حملہ آور ثابت ہوں گے اور ہم اگر طالبان سے بچ بھی گئے تو بھی ہم خود کو ان نااہل بے روزگار خود کش حملہ آوروں سے نہیں بچا پائیں گے کیوںکہ یہ ڈیڑھ کروڑ لوگ ملکی سلامتی کے لیے اصل خطرہ ہیں۔




















































