سالک حسین کے مزید انکشافات

  جمعرات‬‮ 4 اگست‬‮ 2022  |  0:00

میں نے سالک حسین سے پوچھا ’’چودھری پرویز الٰہی کو جب آسانی کے ساتھ وزارت اعلیٰ مل رہی تھی‘ یہ خوش بھی تھے تو پھر انہیں بنی گالا جانے اور اپنا وعدہ توڑنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ یہ ہنس کر بولے ’’یہ ہمارے لیے بھی حیران کن تھا‘ 28مارچ کے دن بارہ بجے تک تمام معاملات ٹھیک چل رہے تھے‘ پرویز صاحب کی گیارہ بجے اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر بات ہوئی‘

انہوں نے ڈار صاحب کا شکریہ ادا کیا اور فیصلہ ہوا شام کو میاں نواز شریف بھی فون کریں گے لیکن پھر مونس الٰہی نے بتایا پی ٹی آئی کا وفد تھوڑی دیر میں آ رہا ہے‘ والد صاحب نے کہا‘ یہ اب کیا لینے آ رہے ہیں؟ پرویز صاحب کا جواب تھا ہن اینا نوں مگروں لان واسطے مل لینے آں (ہم ان سے پیچھا چھڑانے کے لیے مل لیتے ہیں) تھوڑی دیر میںپرویز خٹک‘ شاہ محمود قریشی اور اسد عمر آ گئے‘ ہم سب ان سے ملے‘ وہاں وجاہت حسین‘ طارق چیمہ‘ مونس الٰہی اور حسین الٰہی بھی موجود تھے‘ طارق چیمہ کی شاہ محمود سے تلخ کلامی ہو گئی‘ چیمہ صاحب نے صاف کہہ دیا‘ میںعمران خان کو ووٹ نہیں دوں گا‘ خواہ کچھ بھی ہو جائے‘ پرویز صاحب نے بھی صاف انکار کر دیا اور یوں یہ وفد مایوس واپس چلا گیا لیکن شاہ محمود قریشی جاتے جاتے پورچ میں مونس الٰہی کو سرگوشی میں کہہ گئے‘ طارق چیمہ آپ کا کام خراب کر دیں گے‘ ہم نے یہ سرگوشی سن لی‘ گھنٹے بعد مونس الٰہی نے سب کو بتایا‘ ملٹری سیکرٹری کا فون آیا ہے‘ وزیراعظم پرویز الٰہی سے بنی گالا میں ملنا چاہتے ہیں‘ والد صاحب اور چودھری وجاہت کا ردعمل تھا ہمیں اب ملنے کی کیا ضرورت ہے؟

ہماری بات پکی ہو چکی ہے‘ ہم پی ڈی ایم کے امیدوار ہیں‘ پرویز صاحب کا جواب تھا‘ ہم عمران خان سے مل کر اس سے بھی پیچھا چھڑا لیتے ہیں‘ والد صاحب انہیں روکتے رہے لیکن یہ نہ مانے‘ یہ باپ بیٹا جب جانے لگے تو شجاعت صاحب نے ان سے کہا‘ آپ دونوں اس کے ساتھ کوئی وعدہ نہ کرنا‘ دونوں نے کہا‘ بالکل ٹھیک‘ یہ جب گاڑیوں میں بیٹھنے لگے تب بھی والد صاحب نے پرویز صاحب کو بلایا‘

وہ نہیں آئے‘ مونس آیا اور والد نے اس سے کہا‘ کوئی وعدہ نہ کرنا یوں یہ چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد اے آر وائی پر ٹکرز چلنے لگے اور ہم سب نے سر پکڑ لیے‘وجاہت صاحب شدید غصے میں تھے‘ پرویز صاحب واپس آ کر سیدھے اپنے کمرے میں گئے اور دروازہ اندر سے لاک کر کے سو گئے‘

یہ دس بجے تک سوتے رہے‘ مونس الٰہی نے ہمیں قائل کرنے کی کوشش کی لیکن ان کے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں تھی‘ پرویز الٰہی رات دس بجے کمرے سے باہر آئے تو یہ مکمل طور پر نچڑے ہوئے مایوس انسان تھے‘ ان کے بال بکھرے ہوئے تھے اور چہرہ اترا ہوا تھا‘ یہ ہمارے سامنے صوفے پر ڈھیر ہو گئے اور سر جھکا لیا‘ شجاعت صاحب نے ان کی طرف دیکھا تو انہوں نے صرف اتنا کہا‘

میں کنفیوز ہو گیا تھا اور یہ اس کے بعد خاموش ہو گئے‘ بہرحال چودھری ظہور الٰہی کا خاندان ٹوٹ گیا‘‘۔میں نے ان سے پوچھا ’’کیا اس دن کسی کا فون آیا تھا جس کی وجہ سے چودھری پرویز الٰہی نے اپنا ارادہ بدل دیا؟‘‘چودھری سالک حسین کا جواب تھا ’’ہمارے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہاں البتہ پرویز الٰہی صاحب نے دو بار آرمی چیف کو فون کیا تھا‘

پہلے دن جب ن لیگ کا وفد ہمارے گھر آیا اور دوسرے دن جب پی ٹی آئی کے لوگ آئے تھے‘‘ میں نے پوچھا ’’اور بات کیا ہوئی تھی؟‘‘ سالک حسین کا جواب تھا ’’جنرل قمر جاوید باجوہ نے دونوں مرتبہ جواب دیا تھا یہ آپ کا اپنا سیاسی فیصلہ ہے‘ ہم سیاسی معاملات سے الگ ہو چکے ہیں‘ ہم آپ کو مشورہ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں‘ آپ اپنا فیصلہ خود کریں‘‘

میں نے پوچھا ’’یہ بات ناقابل فہم ہے پرویز الٰہی جب پی ڈی ایم کے وزیراعلیٰ بن رہے تھے تو پھر یہ اچانک کیسے بدل گئے؟‘‘ سالک حسین کا جواب تھا ’’ہم خود حیران ہیں لیکن اس گیم کے اصل آرکی ٹیکٹ مونس الٰہی ہیں‘ یہ شاید محسوس کر رہے تھے ن لیگ میں ان کی گنجائش کم ہو گی‘

پی ٹی آئی میں پولیٹیکل سپیس زیادہ ہے‘ یہ وہاں چودھری پرویز الٰہی کے بعد وزیراعلیٰ بن سکتے ہیں لہٰذا یہ پی ڈی ایم کے مذاکرات میں بھی ان ایزی ہو جاتے تھے‘ ان کے حکومت کے ساتھ بھی آخری وقت تک رابطے رہے تھے لہٰذا یہ چودھری پرویز الٰہی کو کھینچ کر اُدھر لے گئے‘‘

میں نے پوچھا ’’چودھری وجاہت آخری وقت تک آپ کے ساتھ تھے‘ یہ ان کے ساتھ کیوں مل گئے؟‘‘ ان کا جواب تھا ’’چودھری شجاعت بوڑھے اور علیل ہیں‘ شاید وجاہت فیملی ان کے بعد چودھری ظہور الٰہی کی لیگیسی کیری کرنا چاہتی ہے تاہم یہ درست ہے 28 مارچ کی رات تک یہ چودھری پرویز الٰہی اور مونس سے شدید ناراض تھے‘‘ میں نے پوچھا ’’آپ اور طارق چیمہ نے 11 اپریل کو پی ڈی ایم کو ووٹ دیا‘

یہ فیصلہ کس کا تھا؟‘‘ یہ بولے ’’ طارق چیمہ نے 27 اور 28 مارچ کو خود ہی اعلان کر دیا تھا میں اپنی بات کا پہرہ دوں گا جب کہ میں نے اس رات سیاست چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا‘ میں نے والد سے بات کی تو انہوں نے مجھ سے کہا‘ تم خاموش رہو جب ووٹنگ کا وقت آئے گا تو جا کر پی ڈی ایم کو ووٹ دے دینا لہٰذا میں ووٹنگ کا انتظار کرنے لگا‘‘۔

میں نے پوچھا ’’کیا فیملی کے اندر پہلے سے اختلافات تھے یا 28 مارچ واحد وجہ بنی؟‘‘ انہوں نے تسلیم کیا ’’خاندان کے اندر مسائل چل رہے تھے‘ شجاعت صاحب نے پرویز الٰہی کو بچوں کی طرح پالا تھا‘ شجاعت صاحب کی شادی ہوئی تھی تو پرویز صاحب اس وقت دس گیارہ سال کے لڑکے تھے‘

شجاعت صاحب نے انہیں گود لے لیا اور پوری زندگی انہیں اپنے سگے بھائیوں سے زیادہ عزت دی لیکن پرویز صاحب اور ان کے بچوں نے اس محبت کا کبھی بھرم نہیں رکھا‘‘ میں نے پوچھا ’’مثلاً‘‘ وہ بولے ’’مثلاً میاں چنوں میں ہماری شوگر مل تھی‘ وہ ٹھیک ٹھاک چل رہی تھی‘ پرویز صاحب کی منڈی بہائوالدین کی مل نقصان میں جا رہی تھی‘ انہوں نے ہمیں کہا‘ یہ ایک گندہ کاروبار ہے‘

اس میں بدنامی بہت ہے‘ ہم اس سے نکل جاتے ہیں‘ ہم نے ان کی بات مان لی یوں انہوں نے دونوں شوگر ملیں بیچ دیں لیکن ہمیں بعد میں پتا چلا یہ اندر ہی اندر رحیم یار خان میں شوگر مل لگا رہے تھے‘ انہوں نے ہماری چلتی ہوئی شوگر مل اپنی بند ہوتی شوگر مل کے ساتھ بیچ دی اور اپنی نئی اور بڑی مل لگا لی اور ہماری والدہ پرویز صاحب کی بہن ہیں‘

ان لوگوں نے ان کے جعلی دستخط کر کے خاندانی زمین اپنے نام ٹرانسفر کر لی‘ ایسے بے شمار ایشوز موجود تھے لیکن میں ان کا ذکر نہیں کرنا چاہتا‘‘ میں نے پوچھا ’’عمران خان کے ساتھ پرویز الٰہی کی ڈیل کس نے کرائی تھی؟‘‘ یہ ہنس کر بولے ’’ہم سب کا خیال ہے یہ ڈیل بشریٰ بی بی کے لیول پر ہوئی تھی‘ خسرو بختیار نے مونس الٰہی کا بیگم صاحبہ کے ساتھ رابطہ کرایا تھا‘

یہ دونوں آخری وقت تک ان کے ساتھ رابطے میں تھے‘ ہمارے خاندان سے منسلک ایک اور خاتون بھی درمیان میں تھیں‘ یہ فرح گوگی کی دوست ہیں شاید انہوں نے بھی کوئی کردار ادا کیا ہو‘‘ میں نے پوچھا ’’ یہ خاتون کون ہیں؟‘‘ سالک حسین نے فوراً جواب دیا ’’میں ان کا ذکر نہیں کرنا چاہتا‘‘ میں نے پوچھا ’’آپ بشریٰ بی بی کو گارنٹر سمجھتے ہیں‘‘

یہ ہنس کر بولے ’’پورے ملک میں صرف بشریٰ بی بی عمران خان کی گارنٹی دے سکتی ہیں‘ یہ عمران خان کے معاملے میں اسٹیبلشمنٹ اور امریکا سے بھی تگڑی ہیں اور ہماری اطلاعات کے مطابق وہی گارنٹر ہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’پی ٹی آئی کے لوگ دعویٰ کرتے ہیں چودھری پرویز الٰہی کی بیگم یعنی مونس الٰہی کی والدہ اور یعنی آپ کی پھوپھی پی ٹی آئی کی ممبر ہیں‘‘ یہ ہنس کر بولے ’’مونس کی والدہ اور پرویز الٰہی صاحب کی بیگم چودھری شجاعت حسین کی ہمشیرہ ہیں‘

یہ پی ٹی آئی میں باقاعدہ شامل ہیں یا نہیں میں یقین سے نہیں کہہ سکتا تاہم یہ حقیقت ہے یہ عمران خان کی فین بھی ہیں اور یہ لبرٹی چوک کے ہر احتجاج میں بھی شریک ہوتی ہیں‘ پرویز صاحب جب بھی عمران خان کے خلاف بولتے تھے تو یہ انہیں بھی منع کرتی تھیں‘‘ میں نے پوچھا ’’چودھری شجاعت نے 22 جولائی کا خط کس کے کہنے پر لکھا تھا‘‘

یہ بولے ’’آصف علی زرداری نے چودھری صاحب کو تیار کیا تھا‘ یہ ساڑھے پانچ گھنٹے چودھری صاحب کے پاس بیٹھے اور انہیں راضی کر لیا‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا زرداری صاحب اس دن پرویز الٰہی سے بھی ملنا چاہتے تھے‘‘ ان کا جواب تھا ’’جی نہیں یہ صرف شجاعت صاحب سے ملنے آئے تھے اور خط کی بات صرف ان دونوں کے درمیان تھی‘ اس میں کوئی تیسرا شخص شامل نہیں تھا‘‘

میں نے پوچھا ’’آپ نے ن لیگ کے ساتھ مل کر ٹھیک فیصلہ کیا؟‘‘ یہ مسکرا کر بولے ’’میں بہت مطمئن ہوں‘ میاں شہباز شریف انتہائی محنتی‘ کلچرڈ‘ اور دوسروں کو عزت دینے والے انسان ہیں‘ یہ عزت ہمیں عمران خان سے نہیں ملی تھی‘ مونس نے مجھے ایک دن کہا تھا

ن لیگ والے جس دن تمہیں چھتر ماریں گے تمہیں اس دن ہماری باتیں یاد آئیں گی لیکن یہاں معاملہ باکل مختلف ہے‘ مجھے کام کرنے کا موقع بھی مل رہا ہے اور عزت بھی ہے‘دوسرا ہم نے اپنی بات کا بھرم رکھنے کے لیے اپنے خاندان کی قربانی دے دی مگر ہم وعدے سے نہیں پھرے لہٰذا ہم مطمئن ہیں‘‘۔



زیرو پوائنٹ

مونس الٰہی سے ملاقات

میری سوموار 8 اگست کو ایک مشترکہ دوست کے گھر میںوزیراعلیٰ پنجاب کے صاحب زادے مونس الٰہی سے ملاقات ہوئی‘ ملاقات ان کی خواہش پر ہوئی اور ان کا کہنا تھا آپ مجھ سے جو بھی پوچھیں گے میں آپ کو سچ سچ بتائوں گا اورفیصلہ آپ پر چھوڑ دوں گا‘ میں نے پہلا سوال کیا ’’آپ جب عمران خان ....مزید پڑھئے‎

میری سوموار 8 اگست کو ایک مشترکہ دوست کے گھر میںوزیراعلیٰ پنجاب کے صاحب زادے مونس الٰہی سے ملاقات ہوئی‘ ملاقات ان کی خواہش پر ہوئی اور ان کا کہنا تھا آپ مجھ سے جو بھی پوچھیں گے میں آپ کو سچ سچ بتائوں گا اورفیصلہ آپ پر چھوڑ دوں گا‘ میں نے پہلا سوال کیا ’’آپ جب عمران خان ....مزید پڑھئے‎