Once For All

  منگل‬‮ 6 اکتوبر‬‮ 2020  |  0:01

شوکت عزیز کا دور تھا‘ یہ 2005ءمیں سنگا پور کے دورے پر گئے‘ لی کو آن یو کی عمر اس وقت 81سال تھی اور یہ 31سال وزیراعظم رہنے کے بعد کابینہ میں وزیر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے‘ سنگا پور حکومت نے ان کے لیے خصوصی قلم دان تخلیق کر دیا تھا‘یہ اتالیق وزیر  بن چکے تھے ‘شوکت عزیز سٹی بینک میں ملازمت کے دور میں سنگا پور رہے تھے اور یہ لی کو آن یو سے بہت متاثر تھے‘ سنگا پور کو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دلدلی مٹی سے ابھرتے دیکھا تھا چناں چہ یہ وزیراعظم بننے کے بعد سنگا پور پہنچ گئے۔

وزیراعظم لی پاکستان کو بہت اچھی طرح جانتے تھے‘ یہ مختلف ادوار میں درجنوں مرتبہ پاکستان آئے تھے‘ یہ ہمارے

مسائل‘ خامیوں اور خوبیوں کو بہت اچھی طرح سمجھتے تھے‘ شوکت عزیز اور لی کو آن یو کی ملاقات ہوئی‘ وزارت خارجہ کے ایک افسر بھی وہاں موجود تھے‘ مجھے اس افسر نے دو وزراءاعظم کی گفتگو کا ایک دل چسپ اینگل بتایا۔شوکت عزیز نے بزرگ سیاست دان سے پوچھا ”ہم اگر آپ سے پاکستان کے تمام مسائل کا کوئی ایک حل پوچھیں تو آپ ہمیں کیا مشورہ دیں گے“ لی کوآن یو نے قہقہہ لگایا اور بولے ”پرائم منسٹر! دل چسپ بات یہ ہے مجھے آج تک پاکستان کا جو بھی صدر اور وزیراعظم ملا اس نے مجھ سے یہ سوال ضرور پوچھا‘ میں نے سات سال قبل اسی جگہ بیٹھ کر میاں نواز شریف کو پاکستانی قوم کے تین المیے بتائے تھے‘ میں اس سے پہلے بے نظیر بھٹو اور جنرل ضیاءالحق کو بھی آپ لوگوں کا ایشو سمجھا چکا ہوں لیکن وہ لمبی چوڑی گفتگو تھی‘ میں اب آپ کو صرف ایک مسئلہ اور اس کا ایک ہی حل بتاﺅںگا اور وہ مسئلہ آپ کا ”مدر ایشو“ ہے یعنی مسائل کی ماں‘ آپ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں کریں گے یہ ماں اس وقت تک روزانہ بچے دیتی رہے گی اور ہر بچہ بڑا ہو کر اژدھا بنتا رہے گا“ شوکت عزیز خاموشی سے سنتے رہے‘ لی کو آن یو بولے ”آپ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے آپ نے آج تک یہ فیصلہ نہیں کیا ملک کس نے چلانا ہے اور آپ جب تک یہ فیصلہ نہیں کریں گے آپ اس وقت تک آگے نہیں بڑھیں گے“۔

وہ رکے‘ مسکرائے اور بولے ”وزیراعظم آپ یقین کریں میں اگر آج پاکستان کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنا چاہوں تو مجھے نہیں معلوم میں نے آپ سے مذاکرات کرنے ہیں‘ صدر جنرل پرویز مشرف سے کرنے ہیں ‘ جنرل احسن سلیم حیات (یہ اس وقت وائس چیف آف آرمی سٹاف تھے) یا جنرل اشفاق پرویز کیانی (یہ اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی اور مستقبل کے آرمی چیف تھے) یا پھر جسٹس افتخار محمد چودھری (یہ اس وقت سپریم کورٹ کے جج تھے اور مستقبل کے چیف جسٹس تھے) سے کرنے ہیں۔

آپ خود بتائیے میں اگر سنگا پور میںبیٹھ کر کنفیوز ہوں تو پاکستان کے اندر موجود اتھارٹیز کی کیاحالت ہو گی؟“ لی کو آن یو رکے‘ لمبا سانس لیا اور بولے ”ہم بھی شروع میں ایسی صورت حال کا شکار تھے‘ پورا ملک مختلف ڈائریکشنز میں بھاگ رہا تھا لیکن پھر ہم نے ہر اتھارٹی کو اتھارٹی بنا دیا‘ سارے ادارے خود مختار ہو گئے اور یہ اپنے سارے فیصلے قوانین کے مطابق کرنے لگے اور یہ آخر میں صرف ایک شخص کو جواب دہ ہو گئے اور وہ شخص تھا وزیراعظم اور وزیراعظم براہ راست پوری قوم کو جواب دہ تھا اور بس۔

آپ یقین کریں ہم دن دگنی اور رات دس گنی ترقی کرنے لگے“ وہ رکے‘ لمبا سانس لیا اور عاجزی کے ساتھ بولے ”آپ بھی جلد سے جلد فائنل اتھارٹی کا فیصلہ کر لیں‘ آپ کسی کو بھی آخری اتھارٹی مان لیں‘ آپ یہ اختیار صدر کو دے دیں‘ وزیراعظم کو دے دیں یا پھر چیف جسٹس‘ آرمی چیف یا ڈی جی آئی ایس آئی کو دے دیں لیکن دے دیں آپ کا ملک پھر چلے گا‘ دنیا میں وہ گاڑی نہیں چلتی جس کے دو ڈرائیورز ہوں اور وہ دونوں سٹیئرنگ پر بیٹھے ہوں اور آپ پورا ملک چلانا چاہتے ہیں۔

یہ کیسے ممکن ہے چناں چہ آپ جتنی جلدی فیصلہ کر لیں گے آپ کے لیے اتنا ہی اچھا ہو گا ورنہ آپ کے دائیں بائیں موجود ملکوں کی سپیڈ آپ کو ریت کی طرح اڑا دے گی“ شوکت عزیز نے کرسی پر پہلو بدلا اور آہستہ آواز میں کہا ”سر اب صورت حال بالکل مختلف ہے‘ صدر نے تمام انتظامی اختیارات مجھے دے دیے ہیں‘ کابینہ فیصلوں میں آزاد ہے“ لی کو آن یو مسکرائے اور بولے ”آپ کی بات میں سب کچھ ہے‘ آپ نے فرمایا‘ صدر نے سارے انتظامی اختیارات مجھے دے دیے ہیں۔

جہاں تک میرا خیال ہے پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت ہے اور پارلیمانی جمہوریت میں وزیراعظم اور صدر دونوں کو پارلیمنٹ اختیار دیتی ہے‘ آپ کے صدر نے اختیارات کہاں سے لیے ہیں اور یہ آپ کو براہ راست اختیارات کیسے دے سکتے ہیں؟ دوسرا دنیا میں اگر کوئی فرد واحد اختیارات دیتا ہے تو وہ واپس بھی لے سکتا ہے چناں چہ اگر کل صدر نے آپ سے اختیارات واپس لے لیے اور آپ ڈمی پرائم منسٹر یا ربڑ سٹیمپ بنا دیے گئے تو پھر کیا ہوگا اور تیسرا“۔

لی کو آن یو مسکرائے اور کہا ”نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے بھی یہی کہا تھا اور میں نے ان کی بات پر یقین کر لیا تھا مگر وہ دونوں اپنی ٹرم پوری نہیں کر سکے تھے‘ وہ دونوں اس وقت ملک میں بھی نہیں ہیں چناں چہ میری آپ سے صرف ایک درخواست ہے‘ آپ اگر میچ جیتنا چاہتے ہیں تو پھر کپتان کا فیصلہ کر لیں‘ آپ چھ چھ کپتانوں کے ساتھ میچ جیتنا تو دور کھیل بھی نہیں سکیں گے“۔ شوکت عزیز نے اس کے بعد موضوع بدل دیا۔یہ بات تلخ تھی لیکن تھی حقیقت اور یہ حقیقت آج بھی اس ملک میں آن‘ بان اور شان کے ساتھ موجود ہے۔

ہم سب ایک ایسی جماعت میں کھڑے ہیں جس کے چھ امام ہیں اور ہر امام اپنی اپنی فقہ کے مطابق نماز پڑھا رہا ہے چناں چہ جماعت رکوع کے وقت سجدہ کر دیتی ہے اور سجدے کے وقت قیام فرمانے لگتی ہے‘ ہمیں بہرحال قیادت کے اس کنفیوژن سے نکلنا ہوگا ورنہ ہم اور ہماری یہ حماقت دونوں نہیں رہیں گی‘ آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ آج کا پاکستان دیکھ لیں‘ کیا ہمارے تمام ریاستی ادارے ”فائنل اتھارٹی“ تلاش نہیں کر رہے‘ کیا یہ حقیقت نہیں فیٹف کے قوانین بھی پارلیمنٹ میں طے نہیں ہوتے اور گلگت بلتستان کے الیکشن اور جغرافیائی ہیئت کا فیصلہ بھی آرمی چیف ہاﺅس میں ہوتا ہے۔

محمد زبیر بھی میاں نواز شریف اور مریم نواز کے مقدمات آرمی چیف کے ساتھ ڈسکس کرتے ہیں ‘ ملک چلانے کے لیے مشیروں کا بندوبست بھی فوج کو کرنا پڑتا ہے‘ تعلیمی نصاب کا وزن بھی فوج کے کندھوں پر آ پڑتا ہے‘ سعودی عرب اور چین سے قرضے بھی آرمی چیف کو لینا پڑتے ہیں اور کورونا سے مقابلے کے لیے بھی فوج کو این سی او سی بنانا پڑتی ہے اور سیاسی جماعتوں کو اکٹھا بٹھانے کی ذمہ داری بھی بالآخر فوج کو نبھانا پڑتی ہے‘ کیا یہ درست نہیں؟۔

آج بیورو کریسی اسلام آباد کی بجائے راولپنڈی کی طرف دیکھتی ہے اور عدلیہ کو سمجھ نہیں آ رہی اس نے کس کو بلا کر جواب طلبی کرنی ہے اور صنعت کار اور بزنس مین بھی کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر بھاگ رہے ہیں اور سفیروں کو بھی سمجھ نہیں آ رہی وہ کس کے پاس جائیں‘ غیر ملکی سربراہان بھی کنفیوز ہو چکے ہیں اور ہم سب بھی لہٰذا آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیں کیا ملک میں اس وقت اتھارٹی کا کنفیوژن نہیں؟ میرے ایک بزنس مین دوست نے اس صورت حال پر بڑا خوب صورت تبصرہ کیا۔

اس کا کہنا تھا نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کہتی تھیں ہمیں صرف حکومت ملی تھی اقتدار نہیں جب کہ عمران خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہیں حکومت بھی نہیں ملی اور یہ دو سال سے اقتدار کے بجائے حکومت مانگ رہے ہیں جب کہ چند دن قبل ایک محفل میں ایک صاحب نے اس سے زیادہ خوب صورت تبصرہ کیا‘ اس کا کہنا تھا‘ حکومت چھوڑ دیجیے‘ اس وقت اپوزیشن بھی کنفیوژن کا شکار ہے کہ اس نے تحریک کس کے خلاف چلانی ہے؟۔

یہ صورت حال اس ملک کو کھا جائے گی چناں چہ میری درخواست ہے ہم کپتان کا فیصلہ کر لیں‘ ہم فوج کو اختیارات دینا چاہتے ہیں‘ ہم ایک بار کھل کر دے دیں‘ ہم وزیراعظم کو ملک کا سربراہ سمجھتے ہیں ہم اسے ایک ہی بار سیاہ و سفید کا مالک بنا دیں‘ ہم پارلیمنٹ کو سپریم سمجھتے ہیں‘ ہم اسے سپریم بنا دیں اور ہم اگر سپریم کورٹ آف پاکستان کو فائنل اتھارٹی سمجھتے ہیں تو پھر ہم اسے اتھارٹی مان لیں‘ ہم ججوں کی کونسل بنا دیں اور پارلیمنٹ اور کابینہ کا ہر فیصلہ کونسل کے سامنے رکھ دیا کریں۔

یہ جس کی منظوری دے دے ہم اس پر کام شروع کر دیں اور کونسل جسے مسترد کر دے ہم اسے منسوخ کردیں‘ ہم ملک کو اگر سیاسی حکومت اور انتظامی حکومت دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو ہم ونس فار آل یہ کر دیں تاکہ یہ روز کی بک بک اور جھک جھک تو ختم ہو‘ عوام کم از کم اطمینان سے کام تو کر سکیں‘ یہ کیا بات ہوئی ہم فٹ بال کی طرح کبھی اس ڈی میں پہنچ جاتے ہیں اور کبھی اس ڈی کی طرف لڑھکنے لگتے ہیں‘ہم روز اپنا کپتان‘ اپنا کمانڈر تلاش کرتے رہتے ہیں۔

ہمیں یہ سلسلہ ہر صورت روکنا ہوگا‘ ہم خود روک لیں تو اچھی بات ہے ورنہ پھر دنیا ہمارا بازو مروڑ کر ہم سے یہ کروائے گی‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ بھی اب ہم سے تنگ آ چکی ہے‘یہ بھی اب کنفیوز رہ رہ کر تھک چکی ہے۔نوٹ: سوشل میڈیا پر میرے نام سے ایک بار پھر جعلی ٹویٹس کا سلسلہ چل رہا ہے‘ میں آٹھویں مرتبہ عرض کر رہا ہوں میں ٹویٹر پر ایکٹو نہیں ہوں‘ میرے نام سے چلنے والے تمام ٹویٹراکاﺅنٹس جعلی ہیں اور یہ ساری ٹویٹس شرارت اور سوشل میڈیا ٹیررازم ہیں۔


زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎