وہ وقت کب آ ئے گا

  اتوار‬‮ 4 اکتوبر‬‮ 2020  |  0:01

میرے ایک دوست ہیں‘ تین نسلوں سے کاروباری ہیں‘ کراچی میں بزنس کرتے ہیں‘ والد احمد آباد (گجرات) کے چھوٹے سے گاؤں میں دکان چلاتے تھے‘ خاندان پاکستان بننے کے بعد کراچی آ گیا‘ والد کاروبار کے سلسلے میں چٹاگانگ گئے‘مشرقی پاکستان میں فیکٹریاں لگانا شروع کیں اور یہ 17 فیکٹریوں کے مالک بن گئے‘ 1971ء میں فسادات شروع ہو گئے‘ یہ لوگ جان بچا کر بھاگے اور لاشیں پھلانگ کر واپس کراچی پہنچے‘ نئے سرے سے کام شروع کیا اور ایک بار پھر قدموں پر کھڑے ہو گئے‘ یہ اب ملک کے چند بڑے بزنس مینوں میں شمار ہوتے ہیں اور چار ارب روپے سالانہ ٹیکس دیتے ہیں۔

یہ چند دن قبل میرے پاس تشریف لائے‘ گفتگو کے دوران بنگلہ دیش کا تذکرہ شروع ہوا تو

مجھے پہلی مرتبہ پتا چلا یہ سال میں تین چار مرتبہ بنگلہ دیش جاتے ہیں‘ میں نے وجہ پوچھی‘ یہ مسکرا کر بولے‘ میرا ایک بھائی اور والدہ دونوں چٹاگانگ میں رہتی ہیں‘ میں حیران ہو گیا‘ یہ بولے‘ ہم چٹاگانگ میں سب سے بڑے انڈسٹریل گروپ تھے‘ بنگلہ دیش بننے کے بعد ہمارا سب کچھ مشرقی پاکستان میں رہ گیا تھا‘ بنگلہ دیش بننے کے بعد شیخ مجیب الرحمن نے میرے والد کو ڈھاکہ بلوایا اور دوبارہ کام شروع کرنے کی درخواست کی‘ ہمارے والد انکار نہ کر سکے چناں چہ ہم نے وہاں تھوڑا تھوڑا کام شروع کر دیا‘ آج بھی میری والدہ اور ایک بھائی چٹاگانگ میں ہیں‘ میں ان سے ملنے جاتا رہتا ہوں‘ میں نے ان سے پوچھا‘ آپ کو 1970ء اور آج کے چٹاگانگ میں کیا فرق محسوس ہوتا ہے‘ یہ ہنس کر بولے ”ہم اس زمانے میں شہر کی سڑکوں پر کرکٹ کھیلا کرتے تھے لیکن آج جب میں صبح ائیرپورٹ کے لیے نکلتا ہوں تو میلوں تک سر ہی سر ہوتے ہیں اور ڈرائیور دس منٹ کا سفر تین گھنٹوں میں طے کرتا ہے“ میں نے پوچھا ”کیا یہ فرق آبادی کی وجہ سے ہے“ وہ ہنس کر بولے ”ہرگز نہیں‘ چٹاگانگ میں دراصل ایکسپورٹ پروسیسنگ زون ہے‘ اس میں 180 انٹرنیشنلفیکٹریاں ہیں‘ یہ تمام لوگ کام کے لیے صبح وہاں جاتے ہیں چناں چہ سڑکوں پر انسانوں کا سیلاب دکھائی دیتا ہے اور اس سیلاب کا 90 فیصد عورتوں پر مشتمل ہوتا ہے‘ بنگلہ دیش کا اصل کمال خواتین ہیں‘ ان لوگوں نے خواتین کو کارآمد بنا دیا چناں چہ ملک ترقی کر رہا ہے‘ آپ وہاں کسی طرف نکل جائیں‘ آپ کو وہاں عورتیں کام کرتی دکھائی دیں گی چناں چہ میں جب بھی چٹاگانگ جاتا ہوں‘ مجھے یہ فرق حیران کر دیتا ہے“۔

میرے دوست ٹھیک فرما رہے تھے‘ بنگالیوں نے 1971ء کے بعد خواتین کو ایکٹو لائف میں شامل کرنا شروع کر دیا تھا‘گرامین بینک اور براک جیسی آرگنائزیشنز نے مردوں کی بجائے عورتوں کو قرضے دینا شروع کر دیے اور یوں خواتین آہستہ آہستہ مردوں سے آگے نکلتی چلی گئیں یہاں تک کہ آج 82 فیصد جوان بنگالی خواتین کام کرتی ہیں‘ آپ بنگلہ دیش کی کسی منڈی‘ شاپنگ سنٹر‘ آفس یا پھر فیکٹری میں چلے جائیں آپ کو وہاں ہر طرف خواتین نظر آئیں گی جب کہ پاکستان میں صرف ایک فیصد خواتین ”ورکنگ وومن“ ہیں۔

یہ بنگلہ دیش کے اکنامک ماڈل کا پہلا حصہ ہے‘ آپ اب اس ماڈل کا دوسرا اور تیسرا حصہ بھی دیکھیے‘ 1971ء تک بنگلہ دیش کی معیشت ”امپورٹ بیسڈ“ تھی‘ کھانے کا سامان تک باہر سے آتا تھا‘ مشرقی پاکستان میں باتھ روم بھی مغربی پاکستان بنواتا تھا لیکن بنگلہ دیش نے آہستہ آہستہ اپنی معیشت کو امپورٹ سے ایکسپورٹ میں تبدیل کر دیا یہاں تک کہ 2018ء میں بنگلہ دیش کی ایکسپورٹس 45 بلین ڈالرز تھیں‘ یہ اس سال 47 بلین تک پہنچ چکی ہیں اوریہ 2021ء میں اپنی پچاسویں سالگرہ 50 بلین ڈالرز کی ایکسپورٹس کے ساتھ منائیں گے اور بنگلہ دیش نے یہ فیصلہ آج سے دس سال پہلے کیا۔

بنگالی حکومت نے 2011ء میں اعلان کیا تھا ہم نے پچاسویں سالگرہ تک (2021ء) پچاس بلین ڈالرز کی ایکسپورٹس کا ٹارگٹ اچیو کرنا ہے اور یہ تقریباً اس ٹارگٹ کے قریب پہنچ چکے ہیں‘ اس کا جی ڈی پی بھی 348 بلین ڈالرز ہو چکا ہے اورگروتھ 7 اعشاریہ 9 فیصد ہے‘ یہ اس لحاظ سے دنیا کی 39ویں معیشت بن چکا ہے‘ اس کے مقابلے میں ہماری گروتھ منفی 0.4 ہو چکی ہے‘ جی ڈی پی 280 بلین ڈالرزہے اور ہم 22 کروڑ لوگ صرف 20 بلین ڈالرز کی ایکسپورٹس کرتے ہیں۔

آپ یہ حقیقت بھی ملاحظہ کیجیے بنگلہ دیش میں کاٹن پیدانہیں ہوتی لیکن یہ کپاس امپورٹ کر کے 20 بلین ڈالرز کا تیار کپڑا‘ 19 بلین ڈالرز کا دھاگا‘ سوا بلین ڈالرز کے جوتے (جاگرز) اور ایک بلین ڈالرز کی کاٹن ایکسیسریز ایکسپورٹ کرتا ہے جب کہ کاغذ اور گرم کپڑے کی ایکسپورٹ 603 ملین ڈالرز‘ مچھلی 532 ملین ڈالرز‘ چمڑا 368 ملین ڈالرز‘ ٹوپیاں 332 ملین ڈالرز‘ کھالیں 140 ملین ڈالرز اور پلاسٹک کی مصنوعات کی ایکسپورٹ 113 ملین ڈالرز ہے۔ یہ بڑی تیزی سے دنیا کے دس بڑے ایکسپورٹرز کی لسٹ کی طرف بھی بڑھ رہا ہے اور بنگلہ دیش کے فارن ایکس چینج ریزروز بھی39 بلین ڈالرزہیں جب کہ ہمارے ریزروز 19بلین ڈالرز ہیں۔

بنگلہ دیش کی کرنسی کا نام ٹکا ہے‘ 1971ء میں پاکستان کے ایک روپے کے چار ٹکا آتے تھے‘ آج ایک ٹکا پاکستان کے اڑھائی روپے کے برابر ہے‘ آج بھارتی اور بنگلہ دیشی کرنسی برابر ہو چکی ہے اور آپ یہ بھی ذہن میں رکھیں بنگلہ دیش نے یہ ساری معیشت کمائی ہے‘ اس میں کوئی کولیشن سپورٹ فنڈ‘ وار آن ٹیرراور افغان جہاد کے پیسے شامل نہیں ہیں‘ یہ ان کے ہاتھوں کی کمائی ہے جب کہ ہم امریکا‘ عربوں اور چین کے سب سے بڑے جنگی سپورٹر ہونے کے باوجود کاسہ گدائی لے کر گلی گلی پھر رہے ہیں۔

یہ بنگالی کون ہیں؟ کیا یہ وہی لوگ نہیں ہیں ہم جن کے ساتھ ہاتھ تک ملانے کے روادار نہیں ہوتے تھے‘ یہ وہی لوگ نہیں ہیں جنہیں ہم چھوٹے قدوں‘ تنگ چھاتیوں اور کالی رنگت کی وجہ سے فوج اور پولیس میں بھرتی نہیں کرتے تھے؟ ہم جنہیں ویٹرز اور خانساموں سے اوپر سٹیٹس دینے کے لیے تیار نہیں تھے‘ ہم جنہیں کنٹرول کرنے کے لیے مغربی پاکستان سے میجر جنرل اور چیف سیکرٹری بھجوا دیتے تھے اور وہ وائسرائے بن کر پورے مشرقی پاکستان کو کنٹرول کرتے تھے۔

ہم جن کے بارے میں کہتے تھے بنگالیوں کو باتھ رومز اور ٹوائلٹس کی کوئی ضرورت نہیں‘ یہ سرکنڈوں کے پیچھے بیٹھ کر سب کچھ کر لیتے ہیں اور ہم جن کے لیڈروں کو دھوتی والے بھی کہا کرتے تھے اور انہیں اٹھا کر جیلوں میں پھینک دیتے تھے‘ ہم 1971ء تک ان کے بارے میں کہا کرتے تھے یہ ہم سے الگ رہ کر ایک سال نہیں گزار سکیں گے اور یہ روتے ہوئے ہمارے پاس آئیں گے لیکن آج 49 سال بعد بنگلہ دیشی کہاں ہیں اور ہم کہاں ہیں؟ ہم بہادر‘ دانشور‘ چالاک اور خوب صورت ہونے کے باوجود نیچے سے نیچے جا رہے ہیں جب کہ بنگالی بدصورت‘ بے وقوف‘ نالائق اور بزدل (یہ ہماری اشرافیہ کہا کرتی تھی‘ میری رائے بنگالیوں کے بارے میں بالکل مختلف ہے) ہونے کے باوجود ترقی پر ترقی کرتے جا رہے ہیں۔

بنگلہ دیش کی آبادی 1971ء میں ساڑھے چھ کروڑتھی اور ہم چھ کروڑتھے لیکن آج یہ ساڑھے سولہ کروڑ ہیں اور ہم 22کروڑہیں یعنی بنگالیوں نے اپنی آبادی تک کنٹرول کرلی اور ہم اپنی آبادی پر بھی قابو نہ پا سکے‘ ہم دھڑادھڑ پھیلتے چلے جا رہے ہیں‘ ہماری شرح خواندگی73سال بعد 60فیصداور بنگلہ دیش کی49سال میں 74فیصد ہو گئی‘ ہم آج بھی مارشل لاء کے خوف کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جب کہ بنگلہ دیش میں ہر گزرتے دن کے ساتھ جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہو رہی ہیں۔

اور آپ المیے پر المیہ دیکھیے‘ کراچی کے وہ بزنس مین اور صنعت کار جو 1971ء میں جان بچا کر مغربی پاکستان آئے تھے وہ اب بنگلہ دیش میں فیکٹریاں لگا رہے ہیں‘ یہ لوگ آج کے پاکستان سے بھاگ کر سابق پاکستان میں پناہ لے رہے ہیں‘ ان کی کرکٹ ٹیم بھی ہم سے بہتر ہو چکی ہے‘ یہ عدل وانصاف میں بھی ہم سے آگے ہیں‘ ان کی ٹیکس کولیکشن بھی ہم سے بہتر ہے اور سیاحت بھی‘ یہ جرائم میں بھی ہم سے بہت پیچھے ہیں‘ وہاں ہمارے مقابلے میں مذہبی رواداری بھی کہیں زیادہ ہے اور بنگلہ دیش عالمی سطح پر بھی ہم سے بہت آگے نکل چکا ہے۔

او آئی سی ہمارے مقابلے میں ان کی بات زیادہ سنتی ہے اور یورپی یونین اور اقوام متحدہ بھی ان کو ہم سے زیادہ اہمیت دیتی ہے‘ کیوں؟ کیا ہم نے کبھی سوچا! آخر ہم میں کوئی نہ کوئی خامی تو ہو گی؟ ہماری اپروچ‘ ہمارے ماڈل میں کوئی نہ کوئی خرابی تو ہو گی جس کی وجہ سے ہم پیچھے جا رہے ہیں اور کالے کلوٹے بنگالیوں میں کچھ نہ کچھ تو ہوگا جس کی وجہ سے یہ 49 سال میں ہم سے آگے نکل گئے ہیں‘کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہم کسی کونے میں بیٹھ کر ٹھنڈے دل ودماغ سے یہ سوچ سکیں‘ہم اپنا محاسبہ کر سکیں‘ اگر وہ وقت اب بھی نہیں آیا تو پھر کب آئے گا؟ خدا کے لیے سوچیے۔


زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎