مراکواور مراکو کے لوگ

  جمعرات‬‮ 5 دسمبر‬‮ 2019  |  0:01

جامع الکتبیہ مراکش کی بلند ترین عمارت ہے‘ یہ مسجد یعقوب المنصورنے 1190ءمیں بنائی‘ یہ مسجد بعد ازاں شہید کر دی گئی تاہم ایک قدیم مینار بچ گیا‘ مراکو میں مسجدوں کے مینار چوکور بنائے جاتے ہیں‘ یہ اندر سے کھلے ہوتے ہیں‘ جامع الکتبیہ کا مینار بھی چوکور اور بڑا ہے‘ سیڑھیوں کی جگہ ریمپ ہے‘ پرانے زمانے میں موذن اذان دینے کے لیے گھوڑے پر مینار کے آخری سرے تک پہنچتا تھا‘ یہ اذان کے بعد مینار پر سفید جھنڈا لہرا دیتا تھا۔

یہ جھنڈا نماز کے وقت کی نشانی ہوتا تھا‘ خواتین ‘بزرگ اور معذور لوگ جھنڈا دیکھ کر گھروں میں نماز ادا کر لیا کرتے تھے‘ جمعرات کو مینار پر نیلا جھنڈا لہرا دیا جاتا تھا‘ یہ اہل شہر کے لیے پیغام ہوتا

تھا کل جمعہ ہے اور تمام شہریوں کو نماز جمعہ کے لیے مسجد آنا چاہیے‘ مراکو میں جماعت دو دو بار ہوتی ہے‘ ظہر کی پہلی جماعت ڈیڑھ بجے ہوتی ہے‘ جماعت کے بعد مسجد بند کر دی جاتی ہے‘ مسجد دوسری بار تین بجے کھولی جاتی ہے تاکہ وہ لوگ جو ڈیڑھ بجے نماز ادا نہیں کر سکے وہ تین بجے ظہر پڑھ لیں‘ عصر کے لیے بھی دو بار اہتمام کیا جاتا ہے اور مغرب‘ عشاءاور فجر کے لیے بھی دو دو جماعتیں ہوتی ہیں‘ قاری خوش الحان ہیں‘ یہ کمال خوب صورت تلاوت کرتے ہیں‘ مذہب مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں ہے‘ علماءکرام حکومت کی مرضی کے بغیر خطبہ نہیں دے سکتے‘ تبلیغ بھی نہیں کی جا سکتی‘ مراکش شہر میں مسجد کے تقدس کی وجہ سے کوئی عمارت جامع الکتبیہ سے بلند نہیں بنائی جاتی لہٰذا آپ کو پورے شہر میں چوتھی منزل کی عمارت نہیں ملتی‘ مراکو کے لوگ انتہائی مذہبی اور بے انتہا لبرل ہیں‘ نماز‘ روزے اور حج کا اہتمام بھی کرتے ہیں اور ناچ گانے کا پورا پورا بندوبست بھی رکھتے ہیں‘ خواتین بہت متحرک ہیں‘ آپ کو پورا ملک خواتین کے کنٹرول میں دکھائی دیتا ہے‘ عورتیں جہاز سے لے کر دکان تک چلاتی ہیں‘ شادی کرنا اور پھر طلاق لے کر دوسری شادی کرنا عام سی بات ہے‘ کسی بھی عمر کا مرد کسی بھی عمر کی خاتون کو شادی کی دعوت دے سکتا ہے اوروہ مائینڈ نہیں کرتی۔

ہم لوگ لڑکے کو جہیز دیتے ہیں جب کہ مراکو میں لڑکا لڑکی کو جہیز دیتا ہے‘ دولہے لڑکی کو سونے کا کمر بند بنا کر دیتے ہیں چناں چہ یہ کمر بند کے خرچ سے بچنے کے لیے پتلی پتلی کمر کی لڑکیاں پسند کرتے ہیں‘ مراکو کی خواتین حسن‘ جسمانی صفائی اور خدمت میں پوری دنیا کی عورتوں سے آگے ہیں‘ یہ لوگ سٹیم باتھ کو حمام کہتے ہیں‘ حمام پورے ملک میں عام ہیں‘ آپ کسی شہر میں چلے جائیں آپ کو گلی محلے میں چھوٹے بڑے ہر سائز کے حمام ملیں گے۔

عورتیں اور مرد دونوں ہر ہفتے حمام جاتے ہیں‘ سیاہ رنگ کا دیسی صابن جسم پر لگاتے ہیں اور پھر حمام کے پہلوان انہیں رگڑ کر سیدھا کر دیتے ہیں‘ حماموں میں لوگوں کو دیگ کی طرح مانجھ کر صاف کیا جاتا ہے چناں چہ آپ کو کسی مرد‘ کسی عورت کے چہرے‘ گردن‘ ہاتھ‘ کہنیوں اور پاﺅں پر میل دکھائی نہیں دے گی‘ یہ لوگ سر سے پاﺅں تک صاف ہوتے ہیں‘ صفائی ان کے مذہب میں پورا ایمان ہے‘ یہ خود کو بھی صاف رکھتے ہیں‘ اپنے گھروں کو بھی اور گلیوں‘ چوکوں اور بازاروں کو بھی۔

آپ کسی شخص کے گھر چلے جائیں‘ آپ کو وہاں فرش پر تنکا تک نظر نہیں آئے گا‘ یہ گھروں میں خوشبودار لکڑیاں بھی جلاتے ہیں لہٰذا ان کے پورے گھر مہک رہے ہوتے ہیں‘ ہاتھوں اور بالوں میں بھی خوشبو لگاتے ہیں‘ آپ جس سے بھی ہاتھ ملائیں آپ کو اپنے ہاتھ سے خوشبو آئے گی‘ مراکو کی عورتیں بے انتہا خدمت گزار ہوتی ہیں‘ یہ کھانا بنانے کی ایکسپرٹ بھی ہوتی ہیں اور مساج اور گھرداری کی بھی‘ یہ اپنے مردوں کے پاﺅں بھی دھوتی ہیں‘ ان کے جسم بھی دباتی ہیں اور کھانا کھلا کھلا کر انہیں اپنا گرویدہ بھی بنا لیتی ہیں لہٰذا عام خیال کیا جاتا ہے مراکن عورت جادوگرنی ہوتی ہے۔

شہروں کے درمیان گراﺅنڈز ہیں‘ یہ گراﺅنڈز سوشل سرکل ہیں‘ یہ رات کو فوڈ سٹریٹ بن جاتے ہیں‘ شہری میدان میں جمع ہوتے ہیں اور جی بھر کر تفریح کرتے ہیں‘ مراکش کے چوک کا نام جامع الفناءہے‘ یہ الکتبیہ کے قریب واقع ہے‘ شام کے وقت یہ لائیو تھیٹر اور لائیو فوڈ پارک بن جاتا ہے‘ لوگ کھانے پینے کے سٹال لگا لیتے ہیں‘ جوس‘ قہوہ خانے اور ڈرائی فروٹس کی دکانیں بھی سج جاتی ہیں اور لوگ زمین پر بیٹھ کر گانا بجانا بھی شروع کر دیتے ہیں۔

سیاح شام کے وقت یہاں آ جاتے ہیں‘ موج مستی کرتے ہیں اور صبح کے وقت تمام سٹالز ختم ہو جاتے ہیں‘ گراﺅنڈ دھو کر صاف کر دیا جاتا ہے‘ یہ تفریحی سرگرمی پورے مراکو میں عام ہے‘ لوگ ہر شہر میں شام کے وقت باہر نکلتے ہیں اور دل کھول کر انجوائے کرتے ہیں۔مراکو سیاحتی ملک ہے‘ ہر سال ڈیڑھ کروڑ سیاح مراکو آتے ہیں‘ حکومت نے سیاحوں کو بے تحاشا حقوق دے رکھے ہیں‘ پورے ملک میں کوئی محکمہ اور کوئی اہلکار سیاحوں کو تنگ نہیں کرتا۔

ائیرپورٹ سے لے کر ہوٹل اور ہوٹل سے شاپنگ سنٹر تک سیاحوں کو وی آئی پی پروٹوکول ملتا ہے‘ سیاح شکایت کر دے تو فوراً پولیس پہنچ جاتی ہے اور ڈرائیور سے لے کر افسر تک کسی کو نہیں چھوڑتی‘ ٹیکسیاں پرانی ہیں لیکن عام ہیں تاہم ٹیکسی ڈرائیور بارگیننگ کرتے ہیں‘ یہ قالین فروشوں کی طرح ہزار درہم مانگ لیں گے اور آخر میں دس درہم میں سودا ہو گا‘ دکان دار بھی بارگیننگ کرتے ہیں اور انتہا کر دیتے ہیں‘ آپ گھنٹہ لگا کر ہزار درہم کی چیز سو درہم میں خرید کر نکلتے ہیں اور وہ چیز اگلی دکان پر پچاس درہم میں بک رہی ہوتی ہے۔

جلابا ان کا لباس ہے‘ یہ لمبا کرتہ ہوتا ہے‘ یہ گردن اور کندھوں سے شروع ہوتا ہے اور پنڈلیوں تک چلا جاتا ہے‘ یہ ہر شخص پہنتا ہے‘ خواتین سکارف لیتی ہیں لیکن یہ اجنبی مردوں کے ساتھ گفتگو میں کوئی حرج نہیں سمجھتیں‘ عورتیں بہت بااعتماد اور نڈر ہیں‘ یہ رات کے وقت بھی پھرتی رہتی ہیں اور کوئی ان کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا‘ یہ لوگ عربی اور فرنچ دونوں زبانیں جانتے ہیں‘ تعلیم لازمی ہے‘ ملک کا ہر بچہ سکول ضرور جاتا ہے بالخصوص خواتین پڑھی لکھی ہیں۔

لوگ جوش اور محبت دونوں سے بھرپور ہیں‘ آپ کسی کی طرف دیکھیں یا سلام کریں وہ سگے رشتے دار کی طرح والہانہ انداز سے جواب دے گا‘ وہ آپ کے ساتھ بغل گیر بھی ہو جائے گا اور آپ کا ہاتھ یا ماتھا بھی چوم لے گا‘ یورپ میں ڈسکوز تین دن کھلتے ہیں‘ جمعہ‘ ہفتہ اور اتوار جب کہ مراکو میں یہ کام پورا ہفتہ جاری رہتا ہے‘ ملک کے ہر حصے میں ڈسکوز ہیں اور نوجوان کھل کر پیتے اور ڈانس کرتے ہیں‘ شراب صرف بارز‘ ڈسکوز اور ہوٹلوں میں ملتی ہے۔

سڑکوں پر پینے کی اجازت نہیں تاہم لوگ مخصوص جگہوں پر پی کر خواہ الٹے ہو جائیں حکومت اور لوگ ان کی طرف نہیں دیکھتے‘ کوئی کسی کی پرائیویٹ لائف میں دخل نہیں دیتا‘ حکومت ٹیکس کے معاملے میں بہت سخت ہے‘ اگر کوئی شخص ٹیکس دیے بغیر چلا جائے اوروہ دس سال بعد واپس آئے ‘ پولیس اسے جہاز سے گرفتار کر لے گی اور وہ جب تک پورا ٹیکس ادا نہ کر دے وہ جیل سے باہر نہیں آئے گا‘ یہ لوگ کھانے پینے کے بہت شوقین ہیں‘ کھانے بہت مزیدار اور لذیذ بناتے ہیں۔

یہ سارا سارا دن لگا کر کھانا تیار کرتے ہیں اور شام کو مل کر کھاتے ہیں‘ تاجین‘ کس کس اور پاستیلازیادہ مشہور ہیں‘ مرچیں اور مصالحے استعمال نہیں کرتے‘ کھانے زیتون میں پکاتے ہیں‘ سالاد بہت استعمال کرتے ہیں‘ آپ کسی ریستوران پر چلے جائیں وہ مین کورس سے پہلے میز پر سالاد کا انبار لگا دے گا‘ سوپ میں ہریرا پسند کرتے ہیں‘ یہ ہمارے شوربے سے ملتا جلتا ہے‘ گوشت خور ہیں‘ چھوٹے گوشت کی مزیدار تاجین بناتے ہیں‘ چکن بھی کھاتے ہیں لیکن ان کا چکن خشک ہوتا ہے اور سوجی میں دفن ہوتا ہے۔

یہ ”کس کس“ کہلاتا ہے‘ یہ ”کس کس“ پر سبزیوں کا شوربہ بھی ڈالتے ہیں‘ پودینے کا قہوہ پورے ملک میں پیا جاتا ہے اور بے تحاشا پیا جاتا ہے‘ لوگ قہوے کی چینک لے کر گلیوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور گھنٹوں پیتے رہتے ہیں‘ کھانا آہستہ آہستہ اور دیر تک کھاتے ہیں‘ کھانے کے بعد فروٹ بھی کھاتے ہیں اور ڈرائی فروٹ بھی‘ یہ نہ صرف اپنی ضرورت کی سبزیاں اور فروٹ خود اگاتے ہیں بلکہ یورپ کو بھی سپلائی کرتے ہیں‘ یورپ ان سے گوشت بھی خریدتا ہے۔

طنجہ اور سپین کی بندر گاہ طریفا کے درمیان صرف پندرہ منٹ کا فاصلہ ہے‘ آپ طنجہ کے اولڈ ٹاﺅن قصبہ کی فصیل پر کھڑے ہو کر مسافر بردار جہازوں کو طنجہ سے سپین جاتے اور سپین سے طنجہ آتے دیکھ سکتے ہیں‘ دونوں اطراف کی عمارتیں تک دکھائی دیتی ہیں‘ یورپ کو سبزیوں اور فروٹس کی ترسیل اسی ذریعے سے ہوتی ہے‘ سپین سمندر کے نیچے ٹنل بچھا رہا ہے‘ یہ ٹنل بن گئی تو یورپ سے مراکو اور مراکو سے یورپ بائی روڈ آنا ممکن ہو جائے گا۔

لوگ دو منٹ میں ایک براعظم سے دوسرے براعظم میں پہنچ جائیں گے‘ مراکو کے گھر بھی بہت دل چسپ ہوتے ہیں‘ یہ باہر سے سادہ اور ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں‘ آپ کسی گھر کے سامنے کھڑے ہو کر مکینوں کی معاشی حیثیت کا اندازہ نہیں کر سکتے‘ غریب اور امیر دونوں گھر کی بیرونی دیوار سے برابر دکھائی دیں گے لیکن آپ جوں ہی گھر کے اندر داخل ہوں گے تو زمین زمین اور آسمان آسمان بن جائے گا‘ امیر گھر کے اندر لاکھوں کروڑوں درہم لگا تے ہیں لیکن یہ باہر سے اسے بدصورت بنا دیں گے‘ کیوں؟

کیوں کہ یہ لوگ نظر بد کے قائل ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں گھر اگر باہر سے خوبصورت ہوں گے تو گزرنے والے نظر لگا کر گزریں گے یوں یہ آفتوں کا شکار ہو جائیں گے لہٰذا یہ باہر کی بجائے اندر پر توجہ دیتے ہیں‘ مراکن آرکی ٹیکٹ صحن اور فواروں کے بغیر مکمل نہیں ہوتا‘ آپ جوں ہی کسی گھر میں داخل ہوتے ہیں‘آپ صحن‘ صحن کے درمیان سنگ مرمر کا فوارہ‘ نیلی‘ سفید اور سبز ٹائلیں‘ مالٹے کے درخت اور انگور کی بیلیں دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں‘ گھر کی تمام کھڑکیاں‘ برآمدے اور دروازے صحن میں کھلتے ہیں‘کیوں کھلتے ہیں؟یہ میں آپ سے کل عرض کروں گا‘ آپ کل اس کالم کا اگلا حصہ ملاحظہ کیجیے گا۔