دہی پراٹھا

  منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018  |  0:01

چاچا طیفا گوجرانوالہ شہر کا ایک دلچسپ کردار تھا‘ وہ خوبصورت اور خوش لباس تھا‘ اچھا کھاتا‘ اچھا پیتا اور اچھا رہتا تھا‘ ہمیشہ طلے والا کھسہ اور بوسکی کی قمیض پہنتا تھا اور لٹھے کا لاچا باندھتا تھا‘ دہی اور پراٹھا چاچے طیفے کا ناشتہ ہوتا تھا اور وہ ہمیشہ شہر کے معززین میں بیٹھتا تھا لیکن چاچے نے اس سارے تام جھام اور شب شبا کے باوجود پوری زندگی تنکا دہرا نہیں کیا‘ والدین نے اسے سکول میں داخل کرایا مگر چاچا دوسری تیسری جماعت سے آگے نہ جا سکا‘

والدین نے کام سکھانے کی کوشش کی لیکن چاچے نے ہر کوشش ناکام بنا دی‘ وہ پوری زندگی کوئی کام نہیں سیکھ سکا‘ وہ لڑکپن تک والدہ کے پلو کے سائے میں رہا‘ ماں لوگوں

کے گھروں میں برتن مانجھ کر اسے پالتی رہی‘ وہ ہمسایوں سے پراٹھا‘ مکھن اور لسی مانگ کر لاتی تھی اور چاچا کھا پی کر سو جاتا تھا‘ جوان ہوا تو یہ ذمہ داری اس کی بیگم کے سر پر آ پڑی‘ وہ بے چاری سارا دن لوگوں کے گھروں میں جھاڑو پوچا کرتی‘ شام کو تھکی ہاری گھر آتی‘ دوسروں کے گھروں سے لایا ہوا سالن گرم کرتی اور چاچا کھا پی کر‘ ڈکار مار کر سو جاتا ‘ چاچے کو ہر صبح دہی اور پراٹھا لازمی چاہیے ہوتا تھا‘ بیوی ہر صورت یہ بندوبست کر کے رکھتی تھی‘ وہ اٹھتا تھا‘ چنگیر سے پراٹھا نکالتا تھا‘ دہی کے ساتھ کھاتا تھا‘ صاف کپڑے پہنتا تھا اور مونچھوں کو تاﺅ دے کر باہر نکل جاتا تھا‘ باہر اس کے تین چار ٹھکانے ہوتے تھے‘ وہ شہر کے دو سیاستدانوں کے ڈیروں پر بیٹھ جاتا تھا یا پھر فراخ دل سیٹھ اس کا ٹارگٹ ہوتے تھے‘ وہ ان کے پاس بیٹھتا تھا اور پورا دن ان کی ہاں میں ہاں ملا کر گزار دیتا تھا‘ وہ جو کہتے تھے چاچا ”واہ واہ کیا بات ہے“ کا نعرہ لگا کر حقے کی نلی منہ میں دبا لیتا تھا‘ پنجاب کے زیادہ تر خوش حال لوگوں‘ سیٹھوں اور سیاستدانوں کو چاچے طیفے جیسے ویلوں کی ضرورت رہتی ہے‘ یہ لوگ ان کےلئے ڈھول کی حیثیت رکھتے ہیں‘ یہ بجتے ہیں تو ان کی واہ واہ ہوتی ہے لہٰذا آپ کو آج بھی پنجاب کے زیادہ تر ڈیروں پر چاچے طیفے جیسے لوگ نظر آتے ہیں‘ یہ ڈیرے عمر بھر چاچے کا دن گزارتے رہے‘

یہ اسے حقہ‘ پانی‘ لسی اور دوپہر کا کھانا فراہم کرتے رہے‘ چاچے کو بعض اوقات رات کا کھانا بھی ان سے مل جاتا تھا‘ یہ اسے نئے کپڑے اور جوتے بھی لے دیتے تھے اور اسے کبھی کبھار سو دو سو روپے بھی دے دیئے جاتے تھے‘ چاچا سارا دن ڈیرے بھگتا کر رات کو تھک ہار کر گھر آجاتا تھا‘ بیوی نے صاف ستھرا بستر بچھایا ہوتا تھا‘ وہ بستر پر گر کر خراٹے لینے لگتا تھا اور وہ اگر کبھی بھوکا ہوتا تھا تو گھر کے دروازے پر کھڑا ہو کر بیوی سے پوچھ لیتا تھا ”صغریٰ آج تم کیا لائی ہو“

بیوی ڈرتے ڈرتے کھانے کے بارے میں بتاتی تھی اور اگر کھانا چاچے کی مرضی کا نہیں ہوتا تھا تووہ چاچی کی ٹھیک ٹھاک ٹھکائی کر دیتا تھا‘ سزا کے اس عمل کے دوران چاچا بار بار یہ کہتا تھا ”تمہیں ایسے کنجوس لوگوں کے گھروں میں کام کرنے کی کیا ضرورت ہے‘ یہ ہر دوسرے دن دال پکا لیتے ہیں‘انہیں شرم ہی نہیں آتی“ وہ چاچی کی ٹھکائی کے بعد وہی سبزی اور وہی دال کھاتا تھا اور بستر پر ڈھیر ہو جاتا تھا‘ صبح اٹھ کر معمول کے مطابق دہی اور پراٹھا پھڑکاتا تھا اور یہ دیکھے بغیر کہ اس کے بچوں کو ناشتہ نصیب ہوا یا نہیںوہ بوسکی کی قمیض پہن کر باہر نکل جاتا تھا‘ چاچے نے پوری زندگی یہ معمول جاری رکھا‘

بیوی بیمار ہوئی یا کوئی بچہ‘ محلے والے پیسے جوڑ کر اس کا علاج کرا دیتے تھے‘ بچیوں کی شادیاں عزیز‘ رشتے داروں نے کرا دیں‘ بچے کام کی عمر کو پہنچے تو وہ ورکشاپوں میںدھندہ کر کے چاچے کے دہی پراٹھے کا بندوبست کرتے رہے اور وہ اگر خود کبھی بیمار ہو گیا تو کسی ڈیرے دار‘ کسی سیٹھ نے دواءدارو کر دیا‘ چاچا ایک بھرپور زندگی گزار کر خالق حقیقی سے جا ملا‘ مرنے کے بعد بھی اہل محلہ نے پیسے جمع کئے‘ کفن دفن کا بندوبست کیا‘ بچوں نے مانگ تانگ کر سوئم اور چالیسواں کر دیا‘ ایک سیٹھ نے چاچے کی قبر پکی کرا دی اور یوں چاچا طیفا چاچا مرحوم اور اللہ بخشے چاچا طیفا ہو گیا۔

چاچا طیفا پاکستان کا صرف ایک کردار نہیں‘ آپ اپنے دائیں بائیں نظر دوڑائیں‘ آپ کو ایسے بے شمار چاچے طیفے مل جائیں گے‘ آپ کے خاندان کے اندر بھی ایسے لوگ ہوں گے ‘یہ لوگ پوری عمر تنکا دہرا نہیں کرتے لیکن یہ اس کے باوجود ایک شاندار اور بھرپور زندگی گزارتے ہیں‘ پنجابی میں ایسے لوگوں کو ”مفت بر“ کہا جاتا ہے‘ مفت بروں کی معیشت کے چار سورس ہوتے ہیں‘ رشتے دار‘ ادھار‘ ڈیرے اور بول بچن‘ یہ لوگ پوری زندگی عزیزوں اور رشتے داروں کے ٹکڑے توڑتے ہیں‘ یہ شروع میں والدین کی کمائی پر پلتے ہیں‘ پھر کوئی بھائی‘ بہن یا کزن ان کی ذمہ داری اٹھا لیتا ہے‘

کوئی نہ کوئی رشتے دار ترس کھا کر انہیں رشتہ بھی دے دیتا ہے اور پھر یہ لوگ سکائی لیب کی طرح بیوی کے بھائیوں کے سر پر آ گرتے ہیں‘ یہ‘ ان کی بیوی اور بچے سالوں کی کمائی پر پلتے رہتے ہیں‘ اگر سالوں میں دم خم نہ ہو تو ان کی بیوی لوگوں کے برتن مانجھ کر‘ لوگوں کے فرش دھو کر انہیں اور اپنے بچے پال لیتی ہے‘ ادھار ان کا دوسرا سورس آف انکم ہوتا ہے‘ یہ پوری زندگی دائیں بائیں موجود لوگوں کی جیبوں سے رقم نکلواتے رہتے ہیں‘ یہ جس سے ملتے ہیں ایمرجنسی تخلیق کر کے اس سے دو چار ہزار روپے نکلوا لیتے ہیں اور وہ دن مزے سے گزار لیتے ہیں‘ ڈیرے بھی ان کا سورس آف انکم ہوتے ہیں‘

یہ کسی نہ کسی ایسے شخص کے ڈیرے‘ بیٹھک یا تھڑے پر جا بیٹھتے ہیں جہاں سے انہیں تمباکو‘ نسوار اور کھانا مل جاتا ہے اور ان کا چوتھا سورس آف انکم بول بچن ہوتا ہے‘ یہ چرب زبانی کے استاد ہوتے ہیں‘ یہ معمولی سے مفاد کےلئے جھوٹ کا انبار لگا دیتے ہیں‘ یہ جھوٹ ان کی فیکٹری‘ ان کی دکان ہوتے ہیں‘ یہ پوری زندگی زبان کی کمائی کھاتے ہیں‘ میں اکثر اپنے دوستوں سے عرض کرتا ہوں ہمارے ملک میں تین سہولتیں ہر شخص کو حاصل ہیں‘ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جس میں ہر شخص کی شادی ہو جاتی ہے‘

آپ کو سڑک پر ایسے درجنوں فقیر ملیں گے جن کے پیچھے ان کی بیوی بھی کھڑی ہوگی اور تین چار بچے بھی‘ یہ سہولت دنیا میں کسی دوسرے ملک کے باسیوں کو حاصل نہیں‘ دو‘ ہمارے ملک میں کوئی بھی شخص تنکا دہرا کئے بغیر شاندار زندگی گزار سکتا ہے‘ ہمارا پورا ملک ایسے مفت بروں سے بھرا ہوا ہے اور تین‘ ہمارے ملک میں ہر شخص کو قبر نصیب ہو جاتی ہے‘ ہم لوگ اجنبی شخص کےلئے بھی کفن دفن کا بندوبست کر دیتے ہیں‘ باقی دنیا میں جو شخص افورڈ نہیں کر سکتا حکومت اس کو اجتماعی قبر میں دفن کر دیتی ہے یا پھر اس کی لاش جلا کر راکھ فروخت کر دیتی ہے اور یہ راکھ بعد ازاں دندان سازی میں استعمال ہوتی ہے جبکہ مفت خوروں کے اس ملک میں لاوارث لاشیں بھی لاوارث نہیں رہتیں‘ انہیں بھی عزت‘ احترام اور جنازہ نصیب ہو جاتا ہے۔

آپ اگر کسی دن اپنے اردگرد موجود مفت خوروں کو دیکھیں گے اور پھر اپنے ملک کی نفسیات پر نظر ڈالیں گے تو آپ بڑی آسانی سے ارض پاک کو سمجھ جائیں گے‘ ہم من حیث القوم مفت بر اور منگتے ہیں‘ ہم نے تو آزادی بھی لڑ کر نہیں لی تھی مانگ کر لی تھی‘ ہم منگتے پیدا ہوتے ہیں اور منگتے فوت ہوتے ہیں‘ ہمارے نظریات‘ افکار‘ روایات‘ مذہب اور رہن سہن تک ادھار اور مفت خوری پر مبنی ہے‘ ہم سب اپنی ذات میں چاچا طیفا ہیں‘ ہم مانگ کر دہی پراٹھا کھاتے ہیں‘ سارا دن کاہل بیل کی طرح دوسروں کے دروازے پر پڑے رہتے ہیں اور شام کو یہ طعنہ دے کر ”تم روز دال مانگ کر لاتی ہو“ بیوی کو پھینٹا لگا دیتے ہیں‘

ہم ستر سال میں اپنی مسجدیں تک خود مختار نہیں کر سکے‘ ہر مسجد کے منبر سے چندے کی درخواست ہوتی ہے اور نمازی مسجد کو دس بیس روپے دے کر ہی گھر آتے ہیں‘ ہمارے سرکاری دفتر ہوں‘ سکول ہوں‘ ہسپتال ہوں یا پھر ڈیم ہوں ہمارا سارا نظام چندے اور خیرات پر چل رہا ہے‘ امداد اور قرض ہماری پوری معیشت ان دو ستونوں پر کھڑی ہے چنانچہ ہماری ہر حکومت بھکاری ہوتی ہے اور وزیر خزانہ چیف بھکاری‘ ہم جب تک جھولی نہ پھیلا لیں‘ ہمیں اس وقت تک آرام نہیں آتا اور یہ نیچے سے لے کر اوپرتک ہماری سائیکی ہے‘

آپ دیکھ لیجئے ہماری حکومت نے جب تک پیسے نہیں مانگے تھے یا حکومت کو بھیک نہیں ملی تھی ہماری پوری قوم افسردگی اور پژمردگی کا شکار تھی‘ ہماری سٹاک ایکسچینج روزانہ کی بنیاد پر نیچے گر رہی تھی اور روپیہ کمزور سے کمزور ہوتا چلا جا رہا تھا لیکن سعودی عرب نے ہمیں جوں ہی قرضہ اور موخر ادائیگیوں پر پٹرول دینے کا اعلان کیا (ابھی صرف اعلان ہوا ہے‘ پیسے نہیں ملے)ہماری رگوں میں تازہ خون دوڑنے لگا‘ ہم ایک دوسرے کو مبارک باد بھی دینے لگے اور ہماری سٹاک ایکسچینج اور روپیہ بھی مضبوط ہوگیا‘

ہم دوبارہ زمین پر آ گئے چنانچہ آپ خود فیصلہ کیجئے قدرت چاچے طیفے جیسے لوگوں کی قوم کو جوتے نہیں مارے گی تو کیا کرے گی؟ آپ کسی دن سڑک پر کھڑے ہو کر مانگتے لوگوں اور حکومت دونوں کا موازنہ کر لیجئے آپ کو ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ملے گا‘ آپ کو سڑک کا بھکاری مینڈیٹ کے بغیر بھکاری ملتا ہے جبکہ ہماری حکومت مینڈیٹ یافتہ بھکاری ہوتی ہے‘ دونوں کی نظریں سخی تلاش کر رہی ہوتی ہیں اور ہاتھ دوسروں کے سامنے پھیلے ہوتے ہیں لہٰذا جب پوری قوم ایسی ہو گی تو پھر اللہ کا فضل کیسے اور کہاں سے نازل ہو گا؟اور یہ حقیقت ہے اللہ سب کی حالت بدل دیتا ہے لیکن یہ بھکاریوں کو مرنے تک محتاج رکھتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں