کیا قائداعظم کو پتہ نہیں تھا

  جمعرات‬‮ 6 ستمبر‬‮ 2018  |  0:01

چودھری فواد‘ ایاز صادق‘ شہلا رضا اور احسن اقبال کی رائے سننے میں کیا حرج ہے؟ یہ چاروں ایک دوسرے کے شدید سیاسی مخالف ہونے کے باوجود تین دن سے ڈاکٹر میاں عاطف کے معاملے میں ایک پیج پر ہیں‘ ہمیں ان کی بات بھی سن لینی چاہیے‘یہ کیا کہہ رہے ہیں ہم اس طرف آنے سے پہلے عاطف میاں کا پروفائل دیکھیں گے‘ عاطف میاں کے والدین پاکستانی ہیں‘ابتدائی تعلیم پاکستان سے حاصل کی اور یہ1993ءمیں اعلیٰ تعلیم کےلئےامریکا چلے گئے‘

میسا چیوسیٹس یونیورسٹی سے ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں ایم ایس سی اور پھر اکنامکس میں پی ایچ ڈی کی‘یہ امریکا کی ٹاپ یونیورسٹی پرنسٹن میں پبلک پالیسی اینڈ فنانس کے پروفیسر ہیں‘ وڈروولسن سکول کے جولیس رابن اووٹز سنٹر کے ڈائریکٹر ہیں اور یہ

پاکستان کے پہلے اور واحد معاشی ماہر ہیں جن کا نام آئی ایم ایف کے 25 بڑے معاشی ماہرین کی فہرست میں آیا‘ یہ انٹرنیشنل ڈیبٹ مارکیٹس کے ماہر ہیں‘ دنیا بھر کے مقروض ملک قرضوں سے جان چھڑانے کےلئے ان سے مشورہ لیتے ہیں‘ آج سے چار پانچ سال قبل دنیا کے بڑے معاشی ماہرین نے ان کا نام نوبل انعام کےلئے پیش کرنے کا فیصلہ کیا لیکن پھر پاکستانی ہونا رکاوٹ بن گیا چنانچہ یہ اس وجہ سے اس ”آپشن“ سے ڈراپ ہو گئے تاہم شاید مستقبل میں یہ امکانات دوبارہ پیدا ہو جائیں‘ عمران خان ان کے فین ہیں‘ یہ امریکا جاتے تھے تو یہ عاطف میاں سے ملتے تھے‘ یہ ان کی ذہانت اور مہارت دونوں سے بہت متاثر ہیں چنانچہ انہوں نے 2014ءکے دھرنے کے دوران 13 ستمبر کو پہلی بار عاطف میاں کا نام لیا‘ عمران خان کا کہنا تھا‘ میری حکومت آئی تو میں عاطف میا ں جیسے لوگوں کو وزیرخزانہ بناﺅں گا‘ عمران خان کے اعلان نے پاکستان میں جہاں عاطف میاں کو متعارف کرا دیا وہاں یہ انکشاف بھی ہوا یہ احمدیہ جماعت سے تعلق رکھتے ہیں‘

یہ جماعت پاکستان میں غیر مسلم ڈکلیئرڈ ہے‘ عمران خان پر تنقید شروع ہوگئی ‘ عمران خان نے عاطف میاں پر یوٹرن لے لیا‘ ان کا کہنا تھا ”میں نہیں جانتا تھا یہ احمدی ہیں“ عاطف میاں کے اپنے اعترافات کے مطابق یہ 2002ءمیں احمدیہ جماعت میں شامل ہوئے تھے‘ والدین نے انہیں 1993ءمیں اعلیٰ تعلیم کےلئے ایم آئی ٹی بھجوایا تھا‘ یونیورسٹی میں احمد شیخ نام کے ایک قادیانی مبلغ کے ساتھ ان کی ملاقات ہوئی‘ یہ قادیانیوں کے خلاف تھے لیکن یہ احمد شیخ کی شخصیت سے متاثر ہوئے‘

قادیانیت کی کتابوں کا مطالعہ کیا اور 2002ءمیں قادیانیت کا فارم بھر دیا‘ یہ اس وقت مجلس خدام احمدیہ میں بھی کام کر رہے ہیں اور یہ لندن میں احمدیوں کے مرکز قادیان کے مالیاتی امور کے انچارج بھی ہیں‘والدین نے احمدیت قبول کرنے پران کی شدید مذمت کی تھی۔ہم اگر مذہبی رجحانات سے بالاتر ہو کر دیکھیں تو بے شک عاطف میاں ایک شاندار‘ بین الاقوامی شہرت یافتہ معاشی ماہر ہیں‘ فنانشل ٹائمز نے ان کی کتاب ہاﺅس آف ڈیبٹ  کو سال کی بہترین کتاب ڈکلیئر کیا‘ عاطف میاں یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی ہیں‘

عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد 18 رکنی اکنامک ایڈوائزری کونسل بنائی‘عاطف میاں کو اس کونسل میں پرائیویٹ سیکٹر ممبر کی حیثیت سے شامل کیا گیا‘ یہ کونسل حکومت کو معاشی شعبے میں مشورے دے گی‘ یہ اٹھارہ ارکان حکومتی یا ریاستی ملازم نہیں ہیں‘ یہ کسی قسم کی مراعات‘ تنخواہ اور سہولتوں کے حق دار بھی نہیں ہیں‘ میاں نواز شریف کی حکومت نے بھی اکنامک ایڈوائزری کونسل بنائی تھی‘ وہ کونسل چار سال چلتی رہی‘ ممبر آتے تھے‘ وزیر خزانہ انہیں حکومت کی معاشی فتوحات کی چھوٹی سی پریذنٹیشن دیتے تھے‘

تقریر کرتے تھے‘ کھانا کھلاتے تھے اور واپس بھیج دیتے تھے‘ یہ ارکان کے مشورے تو رہے دور یہ ان کے سوال تک نہیں سنتے تھے‘یہ اجلاس چار سال ہوئے‘ آخری سال پانامہ کیس کی نظر ہوگیا‘ چار برسوں میں کونسل سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا گیا‘ عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کونسل کی صدارت یہ خود کیا کریں گے اور ارکان کی رائے کو دیکھ کر معاشی پالیسیاں بنائیں گے‘ یہ بہت اچھا فیصلہ ہے‘ امریکا اور یورپ میں صدور اقتصادی ایڈوائزری کونسل کی صدارت کرتے ہیں اور یہ اجلاس ہر دو ماہ بعد ہوتے ہیں‘

عمران خان اگر یہ بھی کر گئے تو ملک کی معاشی سمت درست ہو جائے گی‘ ہم مقروض معیشت کے مالک ہیں‘ پاکستان کے قرضے 28 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں‘ گردشی قرضے 1200 ارب روپے ہیں‘ ہماری درآمدات اور برآمدات کا گیپ بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے اور معاشی بدحالی بھی سیلاب کی طرح ہماری طرف دوڑ رہی ہے‘ پی آئی اے‘ سٹیل مل‘ ریلوے اور واپڈا جیسی کارپوریشنیں ہر سال ہزار ارب روپے پی جاتی ہیں‘ ہمیں ان حالات میں معاشی ماہرین کی ضرورت ہے اور عاطف میاں بین الاقوامی معاشی ماہر ہیں‘

یہ اپنی خدمات مفت پیش کر رہے ہیں‘ یہ کوئی عہدہ بھی نہیں لے رہے اور یہ پاکستان میں بھی مقیم نہیں ہوں گے‘ یہ آئیں گے‘ ایڈوائزری کونسل کے اجلاس میں شریک ہوں گے‘ حکومت کو مشورہ دیں گے اور واپس چلے جائیں گے‘ ہمیں اگر ان کا مشورہ اچھا لگا تو ہم قبول کر لیں گے ورنہ انکار کر دیں گے‘ ہمارا کیا جائے گا؟ کیا ہمارے پاس اس سے بہتر کوئی آپشن موجود ہے؟ عاطف میاں سے اگر امریکا اور یورپ کے ادارے فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘ اگر عرب دنیا کی حکومتیں‘ اگر ترکی‘ ملائیشیا اور انڈونیشیا فیس دے کر ان کی مہارت سے مستفید ہو تے ہیں تو ہم یہ خدمات مفت کیوں نہیں لے سکتے؟

ہم اگر عیسائی‘ یہودی اور بھارتی تاجروں سے تجارت کر سکتے ہیں‘ ہم ان سے علاج کرا سکتے ہیں‘ ہم ان سے مشاورت کر سکتے ہیں اور ہم اگر اپنی مذہبی کتابیں چھاپنے کےلئے یہودونصاریٰ سے کاغذ اور سیاہی خرید سکتے ہیں توپھر ہمیں عاطف میاں جیسا ”نان مسلم“ کیوں قبول نہیں؟ کیا یہ ملک صرف مسلمانوں کا ہے اور مسلمان بھی دیوبندی ہونے چاہئیں! ہم نے پہلے ہندوﺅں کو نکالا‘ پھر پاکستانی یہودیوں کو‘ پھر چن چن کر پڑھے لکھے اور ماہر عیسائیوں کو‘ پھر مہذب‘ صلح جو اور کامیاب بزنس مین پارسیوں کو اور اب ہم ہر اس قادیانی کے پیچھے لگ گئے ہیں جو اس ملک میں کام کرنا چاہتا ہے‘کیوں؟

ملک میں اس وقت بھی تقریباً چار ملین قادیانی ہیں‘ ہمیں ان پر کوئی اعتراض نہیں لیکن عاطف میاں جیسا پڑھا لکھا اور عالمی معاشی ماہر قبول نہیں‘ کیوں؟ کیا پڑھا لکھا اور بین الاقوامی ماہر ہونا جرم ہے؟ ملک میں اگر کسی قادیانی کو اعلیٰ عہدہ نہیں ملنا چاہیے تو پھر قائداعظم محمد علی جناح نے سر ظفراللہ کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ کیوں بنایا تھا‘ وہ باقاعدہ ڈکلیئرڈ قادیانی تھے لیکن وہ اس کے باوجود دنیا کے پہلے وزیر خارجہ تھے جنہوں نے اقوام متحدہ میں فلسطین کا ایشو اٹھایا‘

وہ پہلے ایشیائی اور واحد پاکستانی تھے جنہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کی اورعالمی عدالت انصاف کے صدر بنے‘ کیا قائداعظم نہیں جانتے تھے قادیانی غیر مسلم ہیں اور یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کسی سرکاری عہدے کے اہل نہیں ہیں‘ قائداعظم نے تو اسلامی جمہوریہ کےلئے قانون بنانے کی ذمہ داری بھی پاکستانی ہندو جوگندر ناتھ منڈل کے حوالے کر دی تھی ‘ وہ پاکستان کے پہلے وزیرقانون تھے لیکن آج ملک میں وہ لوگ عاطف میاں کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں جو 1947ءتک پاکستان کے وجود کے خلاف تھے‘کیوں ‘ آخرکیوں؟۔

ہم ایک دلچسپ ملک کے دلچسپ باسی ہیں‘ ہم آج تک ملک میں ملاوٹ‘ جعلی ادویات‘ جھوٹ‘ منافقت‘ رشوت خوری‘ بے راہ روی اور کرپشن نہیں روک سکے‘ آج بھی اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے محروم ہیں اور ملک میں کوئی ایک ایسا شہر نہیں جس میں پینے کا صاف پانی مل رہا ہو لیکن آپ دلچسپ ملک کے دلچسپ لوگوں کی ترجیحات ملاحظہ کیجئے‘ یہ لٹھ لے کر عاطف میاں کے پیچھے دوڑ رہے ہیں‘یہ دنیا کے نامور معاشی ماہر سے مفت مشورہ لینے کےلئے بھی تیار نہیں ہیں‘ ہم آخر چاہتے کیا ہیں؟

ہمیں اگر اس ملک میں غیر مسلم قبول نہیں ہیں‘ ہم اگر اس ملک میں کسی غیر مسلم کو برداشت کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں تو پھر ہمیں ایک بار ہی اس کا اعلان کر دینا چاہیے‘ ہمیں پھر ایک بار ہی تمام غیر مسلموں کو جلاوطن کر دینا چاہیے تاکہ یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کےلئے ختم ہو جائے‘ ہم اگر یہ نہیں کر سکتے تو پھر ہمیں چند بڑے فیصلے کرناہو ںگے‘ ہمیں مذہب کوپرائیویٹ سٹیٹس دینا ہو گا‘ ہمیں اس ملک میں رہنے والے تمام شہریوں کو مذہب‘ رنگ‘ نسل اور قبیلے سے بالاتر ہو کر برابری کے حقوق دینا ہوں گے‘

اگررانا بھگوان داس اور جسٹس کارنیلئس سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بن سکتے ہیں توپھر یہ ملک کے صدر کیوں نہیں بن سکتے؟ اگرعاطف میاں پاکستانی شہری ہیں تو یہ پھر اکنامک ایڈوائزری کونسل کے رکن کیوں نہیں ہو سکتے اور پارسی اگر ملک کی تجارتی پالیسیوں کے آرکی ٹیکٹ ہو سکتے ہیں تو پھر یہ لوگ وزیر کیوں نہیں بن سکتے‘ یہ لوگ ملک کی خدمت کیوں نہیں کر سکتے؟ یہ ملک اس سرزمین پر پیدا ہونے والے تمام لوگوں کا ملک ہے‘ ہم اگر غیرمسلموں کو پیدا ہونے سے نہیں روک سکتے تو پھر ہم انہیں ملک میں کام کرنے سے کیسے روک سکتے ہیں؟

رسول اللہ ﷺ نے اگر عبداللہ بن ابی کو منافق اعظم ڈکلیئر ہونے کے باوجود ریاست مدینہ سے بے دخل نہیں کیا تھا تو پھر ہم اس ملک میں غیر مسلموں کو کام سے روکنے والے کون ہوتے ہیں؟ ہمیں اپنے دل‘ سوچ اور ظرف تینوں بڑے کرنا ہوں گے ورنہ آج ہم جب اسلام کے نام پر ان لوگوں کو نکال رہے ہیں تو کل کوئی ہم سے بڑا مسلمان ہمیں بھی اس ملک سے نکال دے گا‘ وہ ہمیں محب وطن ماننے کےلئے تیار نہیں ہوگا چنانچہ میرا خیال ہے چودھری فواد‘ ایاز صادق‘ شہلا رضا اور احسن اقبال کی رائے سننے میں کوئی حرج نہیں‘ ہمارے علماءکرام کو یہ پہلو بھی دیکھ لینا چاہیے‘ یہ بھی سن لینا چاہیے‘ ہو سکتا ہے یہ لوگ درست کہہ رہے ہوں‘ یہ صحیح سوچ رہے ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں