وہ کام جو عمران خان کر سکتے ہیں

  جمعرات‬‮ 2 اگست‬‮ 2018  |  0:01

مورخ جب بھی لکھیں گے یہ 2018ءکے الیکشنزکو انتہائی متنازعہ اور”آپریشن ردوبدل“ قرار دیں گے‘ یہ الیکشن کیسے تھے؟ یہ تنازعہ اپنی جگہ لیکن یہ بھی حقیقت ہے عمران خان الیکشن جیت چکے ہیں اور یہ رو دھو کر حکومت بھی بنا لیں گے مگر کیا ان کی حکومت ملک کو واقعی بدل دے گی؟یہ جواب سردست مشکل ہے تاہم وہ مسئلے ضرور ڈسکس کئے جا سکتے ہیں جو عمران خان حل کر دیں گے یا یہ کر سکتے ہیں۔پہلا ایشو نئے صوبے

ہیں‘ جرمنی یورپ کا سب سے بڑا ملک ہے‘ اس کی آبادی سوا 8کروڑ ہے لیکن ہمارے پنجاب کی آبادی 11کروڑ ہے گویا ہمارا ایک صوبہ یورپین یونین کے سب سے بڑے ملک سے آبادی میں 34فیصد بڑا ہے‘ جرمنی کی16سٹیٹس(صوبے) ہیں لیکن ہم

70 برسوں میں ملک میں کوئی نیا صوبہ نہیں بنا سکے چنانچہ پنجاب کی تحصیل روجھان کے غریب لوگ اپنے کاموں کےلئے دو دن کی مسافت طے کر کے لاہور آنے پر مجبور ہیں‘ ہم اگر انٹرنیشنل سٹینڈر دیکھیں تو پنجاب کو اب تک چار حصوں میں تقسیم ہو جانا چاہیے تھا لیکن ماضی کی حکومتوں نے ذاتی مصلحتوں کی وجہ سے اس ایشو پر توجہ نہیں دی‘ قومی اسمبلی میں پنجاب کی141 سیٹیں ہیں چنانچہ اگر پنجاب آپ کے ہاتھ میں ہے تو آپ پورے ملک پر حکومت کر سکتے ہیں‘ جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف دونوں کٹھ پتلی حکومتیں بنانا چاہتے تھے لہٰذا انہوں نے بھی پنجاب میں نئے صوبے نہیں بننے دیئے اور ذوالفقار علی بھٹو‘ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف بھی کیونکہ پنجاب کی بنیاد پر پورے ملک پر حکومت کرتے رہے چنانچہ وہ بھی پنجاب کی تقسیم میں رکاوٹ بنے رہے‘ یہ سیاسی مجبوری پنجاب کی تباہی کی بنیاد بن گئی اور یہ اب ”گورن ایبل“ نہیں رہا‘ آپ اب کچھ بھی کر لیں آپ ایک چیف سیکرٹری‘ ایک آئی جی اور ایک وزیراعلیٰ کے ذریعے یہ صوبے نہیں چلا سکتے‘ آپ کو پنجاب بہرحال تین چار حصوں میں تقسیم کرنا پڑے گا اور میرا خیال ہے

عمران خان کیونکہ بیس تیس چالیس سال تک حکومت نہیں کرنا چاہتے‘ یہ اپنے بچوں کو بھی سیاستدان نہیں بنانا چاہتے لہٰذا یہ اپنی مدت پوری ہونے سے پہلے پنجاب کو دو سے تین حصوں میں تقسیم کر جائیں گے‘ یہ ترین فیملی کو جنوبی پنجاب کا وزیراعلیٰ بھی بنوا دیں گے اور یہ اگر ممکن ہوا تو کے پی کے میں ہزارہ اور سندھ میں کراچی اور حیدرآباد کو بھی صوبہ بنا جائیں گے۔پانی پاکستان کا بہت بڑا ایشو ہے‘ ہم بڑی تیزی سے خشک سالی کی طرف بڑھ رہے ہیں‘ ڈیم ہماری لائف لائین ہیں‘ دیامیر بھاشا اور منڈا ڈیم فوری بننے چاہئیں‘

ملک بھر میں دو سے تین ہزار مصنوعی جھیلیں بھی بننی چاہئیں‘ یہ جھیلیں برسات میں پانی جمع کریں اور خشک موسموں میں ملک کی آبی ضروریات پوری کریں‘ پورا ملک پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہے‘ ملک میں ہائیپاٹائٹس کے دو کروڑمریض ہیں‘ ہم نے ستر برسوں میں سیلابوں سے نبٹنے کا بھی کوئی سسٹم نہیں بنایا‘ مون سون آتا ہے اور لاکھوں خاندانوں کو تباہ کر جاتا ہے‘ ہماری حکومتوں کو پانی میں کوئی بلے بلے یا واہ واہ دکھائی نہیں دیتی تھی چنانچہ ایوب خان کے بعد پانی پر کوئی کام نہیں ہوا‘

شہریوں کو پینے کا صاف پانی ملا اور نہ ہی ڈیم اور جھیلیں بنائی گئیں‘ مجھے محسوس ہوتا ہے عمران خان یہ کام بھی کر جائیں گے‘ یہ ڈیم بھی بنا جائیں گے‘ مصنوعی جھیلیں بھی تعمیر کر دیں گے اور یہ شہروں میں صاف پانی کی سکیمیں بھی شروع کرا دیں گے‘ جہانگیر ترین نے شوکت عزیز کے دور میں پانی پر بہت کام کیا تھا‘ یہ عمران خان کی بہت مدد کر سکتے ہیں تاہم یہ یاد رہے یہ کام اگر حکومت کے پہلے سو دنوں میں شروع ہو گئے تو یہ ان شاءاللہ مکمل ہو جائیں گے ورنہ یہ اس حکومت میں بھی ترجیحات کی فہرست میں پیچھے سے پیچھے چلتے جائیں گے اور یوں قوم کا مزید وقت اور سرمایہ برباد ہو جائے گا‘

ٹیکس ملک کا بہت بڑا ایشو ہے‘ بیس کروڑ لوگوں کے اس ملک میں صرف 18لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں‘ ملک میں سینکڑوں کی تعداد میں پریشر گروپس ہیں‘ حکومت جب بھی ٹیکس لگانے لگتی ہے یہ پریشر گروپس حکومت کو بلیک میل کر لیتے ہیں‘ ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی جاگیرداروں اور ہاﺅسنگ سیکٹر مالکان کے دباﺅ میں آ جاتی تھی اور پاکستان مسلم لیگ ن تاجروں اور صنعت کاروں کے ہاتھوں بلیک میل ہو جاتی تھی‘ یہ لوگ ان پارٹیوں کے فنانسر بھی تھے اور ووٹرزبھی چنانچہ یہ پارٹیاں انہیں ناراض کرنے کا رسک نہیں لیتی تھیں

لہٰذا ملک میں ستر برسوں میں ٹیکس کولیکشن کا کوئی اچھا سسٹم نہیں بن سکااور ریاست سسٹم چلانے کےلئے ”ان ڈائریکٹ“ ٹیکس لگانے پر مجبور ہو تی رہی‘ پاکستان کا ٹوٹل بجٹ چھ ہزار ارب روپے ہوتا ہے‘ اس میں ایف بی آر کا حصہ 3361 ارب ہے‘ حکومت باقی رقم کےلئے کشکول لے کر در در پھرتی ہے یا پھر قرض پر قرض لیتی چلی جاتی ہے‘ عمران خان نے وعدہ کیاتھا یہ آٹھ ہزار ارب روپے ٹیکس جمع کر کے دکھائیں گے‘ یہ کام مشکل نہیں‘ میاں نواز شریف کے دور میں ٹیکس کولیکشن 1946 ارب روپے سے3361 ارب روپے تک پہنچ گئی تھی‘

عمران خان اگر عوام کا اعتماد جیت لیتے ہیں تو آٹھ ہزار ارب کا ہدف مشکل نہیں ہو گا لیکن اس کےلئے انہیں تاجروں اور سرمایہ کاروں کو نچوڑنا پڑے گا‘ اسد عمر تقریباً وزیر خزانہ بن چکے ہیں‘ یہ فطرتاً دبنگ انسان ہیں چنانچہ مجھے محسوس ہوتا ہے عمران خان یہ کام بھی کر جائیں گے‘ یہ واقعی ٹیکس کولیکشن میں اضافہ کر لیں گے اور یہ ملک کی بہت بڑی سروس ہو گی تاہم اس کےلئے انہیں بے شمار پریشر گروپوں کا مقابلہ کرنا پڑے گا‘ انہیں ان ”الیکٹ ایبلز“ کی ناراضی بھی برداشت کرنا پڑے گی جو اپنی دولت کی حفاظت کےلئے ان کی پارٹی میں پناہ گزین ہوئے ہیں لیکن یہ اگر ان کا مقابلہ کر گئے تو قوم انہیں ہمیشہ یاد رکھے گی۔

پولیس بھی ہمارے ملک کا بہت بڑا ایشو ہے‘ انگریز نے یہ پولیس ہندوستان پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کےلئے بنائی تھی‘ پولیس کو ڈیڑھ سو سال ہو چکے ہیں لیکن یہ آج تک غلامی کے دور سے باہر نہیں آئی‘ یہ ڈیڑھ سو سال سے حکمرانوں کی انا کو سلام اور عام آدمی کی چھترول کرتی آ رہی ہے‘ آپ کے گھر اگر خدانخواستہ چوری ہو گئی ہے تو آپ پہلے چور کے ہاتھوں لٹیں گے اور پھر آپ مرنے تک پولیس سے لٹتے رہیں گے‘ عوام کو ایف آئی آر کٹوانے کےلئے بھی سفارش کی ضرورت ہوتی ہے‘

آپ کسی روز خودکش حملہ آوروں کا ڈیٹا دیکھ لیں آپ کو آدھے سے زائد خودکش حملہ آوروں کے پیچھے پولیس کا ٹارچر ملے گا‘ آپ سسٹم کا کمال دیکھئے میاں شہباز شریف دس سال پنجاب پولیس کے ”سپریم کمانڈر“ رہے لیکن یہ جوں ہی کرسی سے اٹھے‘ یہ خود پولیس گردی کے شکار ہو گئے‘ آپ میاں شہباز شریف کی 12 اور 13 جولائی کی تقریریں نکال کر دیکھ لیں یہ آپ کو ”بھگت سنگھ“ محسوس ہوں گے لہٰذا پولیس کی اصلاح ضروری ہے‘ ہم جب تک پولیس کو سیاست سے آزاد‘ ٹرینڈ اور عوام کا دوست نہیں بنائیں گے

ہم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکیں گے اور مجھے محسوس ہوتا ہے عمران خان یہ کام بھی کر جائیں گے‘ یہ پولیس کو پروفیشنل اور سیاسی ہتھکڑیوں سے آزاد کر دیں گے اور یہ بھی ملک کی بہت بڑی خدمت ہو گی‘ پاکستان تحریک انصاف کے پی کے میں پولیس سسٹم کی تبدیلی کا کریڈٹ لیتی ہے‘ یہ بات بڑی حد تک درست ہے لیکن یہ آئی جی پولیس ناصر خان درانی کا کارنامہ تھا‘ یہ ایک اچھے‘ ایماندار اور ماہر پولیس افسر ہیں‘ یہ 16مارچ 2017ءکو ریٹائر ہو گئے تھے‘

میرا مشورہ ہے پاکستان تحریک انصاف انہیں کسی حلقے سے ضمنی الیکشن لڑا کر پنجاب اسمبلی میں لے آئے‘ وزیر داخلہ کا قلم دان دے اور پنجاب پولیس کو تبدیل کرنے کا ٹاسک دے دے‘ یہ پنجاب پولیس کو تبدیل کر دیں گے اور یہ اگر ممکن نہ ہو تو حکومت انہیں وزیراعلیٰ پنجاب کا مشیر بنا کر بھی کام چلا سکتی ہے‘ کرپشن ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے‘ آپ کسی سرکاری دفتر میں چلے جائیں آپ کو چپڑاسی سے سیکرٹری تک پورا سسٹم کرپشن کی دلدل میں دھنسا ملے گا‘

آپ فائل کو پہئے لگائے بغیر ملک میں کوئی کام نہیں کرا سکتے‘ آپ کرپشن کی انتہا دیکھئے ہم دنیا کے واحد اسلامی ملک ہیں جس میں حج کا سکینڈل نکل آیا ‘ جس میں لوگ مسجد اور قبرستان کی زمین بھی نہیں چھوڑتے اور جس میں لوگ دولت کےلئے والد تک کو قتل کر دیتے ہیں‘ ہمارے ملک میں کرپٹ لوگوں کے باقاعدہ ریکٹ ہیں یوںیہ قوم کے اربوں روپے ڈکار جاتے ہیں اورکوئی ان کا بال تک بیکا نہیں کرپاتا‘ عمران خان کی ساری زندگی کرپشن کے خلاف جہاد میں گزری‘

یہ اپنی پہلی تقریر سے آخری تقریر تک کرپشن کے خلاف نعرے لگاتے رہے لہٰذا مجھے محسوس ہوتا ہے یہ ملک میں کرپشن کا بھی کوئی نہ کوئی ٹھوس علاج دریافت کر لیں گے‘ یہ کرپشن کا سوراخ بھی بند کر دیں گے‘ میرا مشورہ ہے عمران خان اس کا آغاز اپنی ذات اور اپنے ساتھیوں سے کریں‘ یہ اپنے تمام ایم این ایز‘ ایم پی ایز اور پارٹی کے اہم عہدیداروں کے ٹیکس گوشواروں اور اثاثوں کا اوپن آڈٹ کرائیں‘ اپوزیشن اور عوام دونوں آڈٹ کا حصہ ہوں اور پاکستان تحریک انصاف کے جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے رہے

یا جو اثاثوں کے مقابلے میں کم ٹیکس ادا کرتے رہے یا جن پر قرضے کھانے یا آف شور کمپنیاں بنانے کے الزامات ہیں آپ ان کا کڑا احتساب کریں اور آپ اپنے ان ایم این ایز کو بھی پکڑیں جنہوں نے الیکشن کے کاغذات جمع کرانے تک اپنی ٹیکس ریٹرنز جمع نہیں کرائی تھیں اور آپ اس ارب پتی بزنس مین کے خلاف بھی تفتیش کرائیں جس نے خاور فرید مانیکا کے صاحبزادے محمد موسیٰ مانیکا کو چھ کروڑ روپے کی بنٹلے گاڑی گفٹ کی‘ یہ نوجوان ابھی طالب علم ہے‘

یہ راتوں رات چھ لاکھ روپے کی گاڑی سے چھ کروڑ کی گاڑی پر کیسے آ گیا اور گفٹ دینے والے صاحب اس تحفے کے بدلے میں کیاحاصل کرنا چاہتے ہیں؟ یہ تحقیق بھی ہونی چاہیے اور مجھے محسوس ہوتا ہے عمران خان یہ بھی کرالیں گے اور یہ اپنے ارکان کے آڈٹ کی روایت بھی قائم کر جائیں گے اور اگر یہ بھی ناکام ہو گئے تو پھر اس ملک کا واقعی اللہ حافظ ہے۔عمران خان کے پاس صرف ایک سال ہے‘ یہ اگر ایک سال میں کچھ کر گئے تو انہیں کرسی سے کوئی نہیں ہلا سکے گا اور اگر یہ سال ضائع ہوگیا تو پھر یاد رکھیں ہمارے ملک میں آج تک صرف دو قسم کے وزراءاعظم آئے ہیں‘ وہ جو جیل سے نکل کر وزیراعظم بنے یا پھر وہ جو وزارت عظمیٰ سے سیدھے جیل گئے‘ باقی جو اللہ کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں