ڈاکٹر سعید اختر کی کہانی

  جمعرات‬‮ 14 جون‬‮ 2018  |  0:01

ڈاکٹر رفیق آرائیں میرے بہت پرانے دوست ہیں‘ میری ان سے پہلی ملاقات 1996ءمیں ہوئی‘ یہ ملاقات دوستی میں تبدیل ہوئی اور یہ دوستی آج تک قائم ہے‘ یہ دنیا کے ان محدود لوگوں میں شامل ہیں جن سے آپ کو کبھی نقصان نہیں ہوتا‘ جو ہمیشہ آپ کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ‘ ڈاکٹر رفیق آرائیں نے 2012ءمیں ڈاکٹر سعید اختر سے میرا رابطہ کرایا‘ یہ دونوں پاکستان میں کڈنی ٹرانسپلانٹ کا پہلا چیریٹی ہسپتال بنانا چاہتے تھے اور یہ اس

کےلئے جگہ تلاش کر رہے تھے‘ مجھے ڈاکٹر سعید اختر کی کہانی نے بہت انسپائر کیا‘ میں کئی ہفتے خمار میں رہا۔ڈاکٹر سعید اختر کے والد خانیوال کی مارکیٹ کمیٹی میں ملازم تھے‘ ان کے بڑے بھائی ائیر فورس میں ملازم ہو گئے‘

یہ کراچی پوسٹ ہوئے تو یہ جاتے ہوئے سعید اختر کو بھی ساتھ لے گئے‘ ڈاکٹر سعید اختر نے سندھ میڈیکل کالج سے 1983ءمیں ایم بی بی ایس کیا اور اعلیٰ تعلیم کےلئے باہر جانے کا فیصلہ کر لیا‘ خاندان افورڈ نہیں کر سکتا تھا چنانچہ یہ سکالرشپ تلاش کرنے لگے‘ جنیوا سے ایک سکالر شپ آیا‘ ڈاکٹر سعید اختر نے اس سکالرشپ پر امریکی ریاست کنیکٹی کٹ کی مشہور درسگاہ ییل یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا‘ ییل 3سو17 سال پرانی یونیورسٹی ہے‘ یونیورسٹی کے60لوگوں نے نوبل انعام حاصل کیا‘ یہ دنیا میں 16ویں نمبر پر آتی ہے اور اس کا میڈیکل کالج دنیا کی شاندار ترین طبی درسگاہوں میں شمار ہوتا ہے‘ ڈاکٹر سعید اختر امریکا اترے اور امیگریشن آفیسر کو بتایا ”میں ییل یونیورسٹی کا طالب ہوں“ تو امیگریشن آفیسر نے کاﺅنٹر سے باہر آ کر ان سے ہاتھ ملایا‘ ڈاکٹر صاحب علم کی یہ قدر دیکھ کر حیران رہ گئے‘ یہ امریکا میں ان کی پہلی حیرت تھی‘ دوسری حیرت یونیورسٹی کا ماحول تھا‘ ڈاکٹر صاحب کو نوبل انعام یافتہ پروفیسروں کی سادگی‘ محبت‘ شفقت اور علم سے لگاﺅ نے حیران کر دیا‘ یہ پروفیسر رابرٹ شوق‘ڈاکٹرالفریڈ ایون اور ڈاکٹرنینسی ریڈل جیسے بین الاقوامی ماہرین کو

سلام کرتے تھے تو یہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کافی شاپ میں لے جاتے تھے اور یہ جب تک پوچھتے رہتے تھے‘ یہ انہیں بتاتے رہتے تھے‘ ڈاکٹر صاحب نے ییل یونیورسٹی سے پبلک ہیلتھ میں ماسٹر کیا‘ یہ سرجن بننا چاہتے تھے چنانچہ یہ ایم اے کرنے کے بعد نیویارک چلے گئے اورمیمونائیڈز میڈیکل سنٹرمیں داخلہ لے لیا‘ یہ وہاں چھ سال سرجری سیکھتے رہے یہاں تک کہ یہ یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ سرجری کے ماہر ہو گئے‘ ٹیکساس ریاست کی ٹیکساس ٹیک یونیورسٹی میں یورالوجی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین کےلئے پوسٹ نکلی‘

ڈاکٹر سعید اختر نے انٹرویو دیا اور یہ سلیکٹ ہو گئے‘ یہ شعبے کی تاریخ کے نوجوان ترین چیئرمین تھے‘ ڈاکٹرصاحب کو وہاں ہیلتھ مینجمنٹ سیکھنے کا موقع ملا‘ ڈیپارٹمنٹ کیسے بنائے جاتے ہیں‘ لوگ کیسے سلیکٹ کئے جاتے ہیں‘ آلات کہاں سے اور کیسے خریدے جاتے ہیں اور پی سی ون کیسے بنایا اور مکمل کیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ‘ ڈاکٹر صاحب کو وہاں یہ تمام چیزیں سیکھنے کا موقع ملا‘ اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر صاحب کو ڈاکٹر بننے اور 12 سال کی اعلیٰ تعلیم کے بعد خوش حالی سے بھی نوازا‘

لوبوک کاﺅنٹی میں ان کا شاندار گھر تھا‘ یہ فلائنگ کے شوقین تھے‘ انہوں نے دو چھوٹے جہاز بھی خرید لئے اور یہ بڑی گاڑیوں کے بھی مالک بن گئے چنانچہ لائف بیسٹ ہو گئی‘ یہ ہر طرف سے سکھ میں آ گئے لیکن پھر ایک عجیب واقعہ پیش آیا اور ان کی زندگی 180 ڈگری پر تبدیل ہو گئی۔ڈاکٹر سعید اختر کے ٹاﺅن لوبوک سے ساٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر کینن ائیر بیس تھا‘ یہ امریکا کا مرکزی ائیر بیس ہے‘1991ءکی گلف وار کے دوران اس ائیر بیس سے پائلٹس اور ائیرفورس کا عملہ سعودی عرب گیا تھا‘

یہ لوگ طویل عرصہ سعودی عرب میں رہے‘ حجاز مقدس کے قیام کے دوران بے شمار پائلٹس اور عملہ مسلمان ہو گیا‘ یہ لوگ امریکا واپس آنے کے بعد جمعہ پڑھنے کےلئے لوبوک کی مسجد میں آتے تھے‘ ڈاکٹر سعید اختر کی ان سے ملاقاتیں شروع ہوئیں تو پتہ چلا یہ اصل مسلمان ہیں‘ وہ لوگ اخلاقیات اور معاملات میں صحابہ کرامؓ جیسے تھے‘ قول کے پکے‘ وعدے کے پورے اور سچے اور کھرے‘ وہ لوگ غیبت کرتے تھے اور نہ چغلی‘وہ آہستہ بولتے تھے‘ آہستہ چلتے تھے اور ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتے تھے‘

ڈاکٹر سعید اختر نے ان کی دیکھا دیکھی قرآن مجید‘ سیرت اور احادیث کا مطالعہ شروع کیا اور پھر یہ اندر سے تبدیل ہو گئے‘ ڈاکٹر صاحب کو اسلام کے مطالعے سے پتہ چلا دین کے دو حصے ہیں‘ عبادات اور مخلوق کی خدمت‘ ہم مسلمان عبادات پر زیادہ توجہ دیتے ہیں لیکن ہم مخلوق کی خدمت میں مار کھا جاتے ہیں‘ یہ نکتہ انہیں لڑ گیا اور انہوں نے مخلوق کی خدمت کا فیصلہ کر لیا‘ یہ جانتے تھے پاکستان میں گردوں کے امراض میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے‘ ملک میں ٹرانسپلانٹ کی ٹیکنالوجی بھی موجود نہیں‘

مریض یورپ اور امریکا آتے ہیں یا پھر بھارت جاتے ہیں اور اس پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں‘ عام آدمی یہ افورڈ نہیں کرسکتا چنانچہ یہ سسک سسک کر مر جاتا ہے‘ یہ حقیقت ڈاکٹر صاحب کو 2000ءمیں امریکا سے پاکستان گھسیٹ لائی‘ یہ اسلام آباد آئے اور شفاءانٹرنیشنل میں کام شروع کر دیا‘ یہ امریکا میں پریکٹس کے عادی تھے‘ امریکا میں مریض صرف مریض ہوتا ہے‘ یہ غریب یا امیر نہیں ہوتا‘ یہ ہسپتال جاتا ہے اور ڈاکٹر اس کا علاج شروع کر دیتا ہے‘

علاج کے بعد سوچا جاتا ہے مریض کے اخراجات ذاتی اکاﺅنٹ سے ادا ہوں گے‘ انشورنس کمپنی دے گی یا پھر حکومت ادائیگی کرے گی لیکن پاکستان میں بالکل مختلف سسٹم تھا‘ شفاءانٹرنیشنل ایک پرائیویٹ ہسپتال تھا‘ یہ مہنگا تھا اور غریب مریض یہ مہنگا علاج افورڈ نہیں کر سکتے تھے‘ ڈاکٹر صاحب نے چند دن بعد اپنے پی اے کو بلا کر کہا” آپ کسی مریض کو واپس نہ بھجواﺅ‘ وہ غریب ہے یا امیر اسے سیدھا میرے پاس آنے دو“ یہ حکم دینے کی دیر تھی‘ ڈاکٹر سعید اختر کے پاس لائین لگ گئی‘

یہ روز چالس پچاس مریض مفت دیکھنے لگے لیکن یہاں ایک اور مسئلہ پیدا ہو گیا‘ گردے کے امراض صرف دوا تک محدود نہیں ہوتے‘نوے فیصد کیسوں میں آپریشن ضروری ہوتا ہے‘ آپریشن ایک مہنگا کام ہوتا ہے اور پرائیویٹ ہسپتال یہ سہولت مفت فراہم نہیں کر سکتے چنانچہ مائیں آتی تھیں اور اپنے بچے ڈاکٹر صاحب کی جھولی میں ڈال کر رونا شروع کر دیتی تھیں‘ جوان مریض ڈاکٹر صاحب کے پاﺅں پکڑ لیتے تھے اور بوڑھے ہاتھ جوڑ کر سامنے کھڑے ہو جاتے تھے‘ ڈاکٹر صاحب سے ان کا یہ دکھ دیکھا نہیں جاتا تھا‘

ڈاکٹر صاحب نے یہ حالات دیکھے تو پتہ چلا بیماری اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا امتحان ہوتی ہے لیکن جب بیماری کےساتھ غربت مل جائے تو یہ امتحان عذاب میں تبدیل ہو جاتا ہے‘ اللہ تعالیٰ کے رسول نے شاید اسی لئے غربت سے پناہ مانگی تھی‘ ڈاکٹر صاحب روز اپنی کھلی آنکھوں سے اس عذاب کا مظاہرہ دیکھتے تھے‘ ان دنوں ایک اور واقعہ پیش آیا‘ اس واقعے نے ڈاکٹر صاحب کو ہلا کر رکھ دیا‘ ڈاکٹر صاحب کے پاس 25 سال کا ایک نوجوان لڑکا آیا‘ اس کے گردے پر کینسر تھا‘ یہ کینسر قابل علاج تھا‘

ڈاکٹر صاحب نے نوجوان سے کہا‘ آپ کی معمولی سی سرجری ہو گی اور آپ اس کے بعد مکمل صحت مند زندگی گزاریں گے‘ وہ نوجوان چلا گیا‘ وہ چھ ماہ بعد دوبارہ آیا تو کینسر اس کے جگر‘ پھیپھڑوں اور حلق تک پہنچ چکا تھا‘ وہ ناقابل علاج ہو چکا تھا‘ ڈاکٹر صاحب نے غصے سے نوجوان سے پوچھا ”تم نے سرجری کیوں نہیں کروائی“ نوجوان نے روتے ہوئے بتایا ”میں یہاں سے نکل کر بزنس آفس میں گیا‘ میں نے آپ کی رسید دکھائی تو انہوں نے بتایا آپریشن پر لاکھ روپے خرچہ آئے گا‘

میں اتنی رقم کا بندوبست نہیں کر سکتا تھا چنانچہ میں گھر واپس چلا گیا“۔ ڈاکٹر صاحب کو بہت افسوس ہوا اور انہوں نے نوجوان سے کہا‘ بندہ خدا تم کم از کم میرے پاس آ جاتے‘ میں تمہارا کوئی نہ کوئی بندوبست کر دیتا‘ نوجوان نے جواب دیا‘ میں بہت مایوس ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کو محسوس ہوا یہ فیل ہو گئے ہیں‘ یہ یہاں کچھ نہیں کر سکیں گے‘ ڈاکٹر صاحب کے بقول ”میں نے سامان باندھا اور امریکا واپس جانے کا فیصلہ کر لیا لیکن پھر قرآن مجید نے راستہ روک لیا‘ میرے اندر سے آواز آئی‘

تم اللہ کی خوشنودی کےلئے یہاں آئے تھے‘ کیا تم اللہ کے حکم کو درمیان میں چھوڑ کر چلے جاﺅ گے“۔میں نے اپنا ارادہ تبدیل کر لیا‘ میں نے سامان کھولا اور میں شفاءانٹرنیشنل کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر ظہیر کے پاس چلا گیا‘ میں نے ان سے درخواست کی آپ مجھے ہسپتال کے چار بیڈز‘ آئی سی یو‘ ایکسرے اور ڈائیلاسز کی سہولت اور آپریشن تھیٹر دے دیں‘ میں آپ کو ”کاسٹ پرائس“ دے دوں گا‘ ڈاکٹر ظہیر نے پوچھا ‘آپ ان کا کیا کریں گے‘ میں نے بتایا‘میں ضرورت مند مریضوں کا مفت علاج کروں گا‘ ڈاکٹر صاحب مان گئے‘

مجھے چار بیڈز اور دوسری سہولتیں مل گئیں‘ یہ سہولت آگے چل کر پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد بن گئی۔ڈاکٹر سعید اختراس ارینجمنٹ کے بعد سال میں دو ماہ کےلئے امریکا جاتے تھے‘ امریکا میں ایک ماہ پرائیویٹ پریکٹس کرتے تھے‘ مریض دیکھتے تھے‘ آپریشن کرتے تھے اور ایک ماہ میں اتنی رقم کما لیتے تھے جو خاندان کے سال بھر کے نان نفقے کےلئے کافی ہوتی تھی‘یہ اس کے بعد دو ہفتے کڈنی اور ٹرانسپلانٹ پر کانفرنسیں اور لیکچر لیتے تھے‘

نئی ٹیکنالوجی سیکھتے تھے اور پھر دو ہفتے پورے امریکا میں فنڈ ریزنگ کرتے تھے‘ یہ فنڈ ریزنگ سے چھ سات لاکھ ڈالر اکٹھے کر لیتے تھے اور یہ اس کے بعد اس رقم سے دس ماہ غریب مریضوں کا مفت علاج کرتے تھے‘ یہ سلسلہ 2012ءتک چلتا رہا لیکن پھر مریض بڑھ گئے‘ وسائل کم پڑ گئے اور یہ بے بس ہو گئے‘ یہ اس بے بسی میں دوبارہ ڈاکٹر ظہیر کے پاس گئے لیکن ڈاکٹر ظہیر نے انہیں اس بار مایوس کر دیا۔ آپ ڈاکٹر سعید اختر کی کہانی کا اگلا حصہ کل ملاحظہ کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں