جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

توکل علم اور عمل کے بغیر مکمل نہیں ہوتا

datetime 8  مئی‬‮  2015

چیخ کر بتاتے ہیں اللہ کے زیادہ تر نبیوں کو جنگ کے میدانوں میں بھی اترنا پڑا اور سکون اور امن کی تلاش میں ہجرتیں بھی کرنا پڑیں‘ حضرت عثمانؓ کو جب شہید کیا گیا تھا تو وہ قرآن مجید پڑھ رہے تھے‘ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ پر جب دشمنوں نے حملہ کیا تو یہ تمام تر روحانیت‘ تصوف اور توکل کے باوجود مجروح ہوئے اور انہیں دواءاور حکیم کی ضرورت بھی پڑی اور وہ دوائیں دنیاوی تھیں اوروہ اس وقت بھی یونانی‘ ہندی اور چینی کہلاتی تھیں‘ وہ ہستیاں جب دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی علم کو تسلیم کرتی تھیں تو آج ہم دین اور دنیا کے علم کو توکل کے خلاف کیوں قرار دے رہے ہیں؟ ہم جس دن ٹھنڈے دل سے علم‘ ٹیکنالوجی اور توکل اور صرف توکل کا تقابل کریں گے تو ہمارے لئے طالبان اور اسامہ بن لادن کی مثال ہی کافی ہو گی‘ یہ متوکل لوگ تھے لیکن جب جنگ ہوئی تو ٹیکنالوجی فضا سے حملے کرتی رہی اور یہ لوگ زمین پر دشمن کا انتظار کرتے رہے‘ نتیجہ آپ کے سامنے ہے! پوری اسلامی دنیا تورا بورا جیسے انجام سے خوفزدہ ہو کر کفار کے ساتھ کھڑی ہو گئی اور بوریا نشین بیچارے اکیلے رہ گئے‘ نیٹو نے 14 برسوں میں صرف ساڑھے تین ہزارنعشیں اٹھائیں ‘ افغانستان کے 20لاکھ بے گناہ لوگ مارے گئے جبکہ امیر المومنین آج تک روپوش ہیں اور شیخ اسامہ یمنی نے ایبٹ آباد میں پناہ لے لی اور سات برس تک اپنا سر باہر نہیں نکالا‘ یہ لوگ اگر متوکل تھے‘ یہ اگر اللہ کی نصرت پر یقین رکھتے تھے تو یہ میدان میں کھڑے کیوں نہیں رہے؟ اور 20 لاکھ بے گناہ افغان کیوں مارے گئے! کیاافغانوں کی یہ 20 لاکھ لاشیں ہمارے اس فکری قحط کا نتیجہ نہیں ہیں جس کی گرفت میں آ کر ہم علم اور عمل دونوں سے دور ہو چکے ہیں۔
ہم مسلمانوں کو بہرحال یہ ماننا ہو گا‘ اللہ کی مدد مانگنے سے پہلے بدر میں آنا پڑتا ہے‘ جنگ کےلئے بہترین جگہ کا تعین کرنا پڑتا ہے‘ پوری تیاری کرنا پڑتی ہے اور آپ اگر 313 ہیں تو آپ کو وہ 313 میدان میں لانے پڑتے ہیں‘ ہمیں اس مغالطے سے بھی باہر آنا ہو گا‘ ہم پر دواءسے لے کر میزائل اور گاڑی سے لے کر جہاز تک مغرب کی تمام مصنوعات حلال ہیں لیکن ان مصنوعات کی ایجاد حرام ہے‘ ہمیں یہ طریقہ بھی ترک کرنا ہو گا جس میں پیر صاحب‘ حضرت صاحب‘ امام صاحب اور مولانا صاحب پوری زندگی لوگوں کو تعویذ دیتے ہیں‘ ان کے پانی میں شفاءکی پھونک مارتے ہیں اور ان کے کندھے پر تھپکی دے کر انہیں توکل کے راستے پر روانہ کرتے ہیں لیکن جب خود زکام میں مبتلا ہوتے ہیں تو یہودیوں اور عیسائیوں کی دوائیں کھاتے دیر نہیں لگاتے‘ یہ لوگ اپنے لئے جرمن گاڑیاں پسند کرتے ہیں اور دوسروں کو فاقہ مستی اور اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پانے کا درس دیتے ہیں‘ ہم کتنے بدنصیب ہیں‘ ہم علم کے بغیر مچھر کو نہیں سمجھ سکتے لیکن ہم جاہل رہ کر اللہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں‘ کیا یہ تضاد نہیں؟اور کیا ہمیں اب تضاد سے باہر نہیں نکلنا چاہیے؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…