منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

آتش نمرود میں حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ دوسری شخصیت کون تھیں؟۔۔ حق و یقین کا حیرت انگیز واقعہ

datetime 3  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)یوں تو حق کی خاطر حضرت ابراہیم ؑ کا آتش نمرود میں کود جانے کا واقع زبان زدعام ہے اور خود حق تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت ابراہیم ؑ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا واقع بتاتے ہوئےانہیں خلیل اللہ کے لقب سے نوازا ہے مگر بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ آتش نمرود کے گلزار کی خوشبو صرف حضرت ابراہیمؑ نے ہی نہیں سونگھی تھی بلکہ ایک اور شخصیت بھی اس آگ میں آپ کے ہمراہ تھا

جس کو رب تعالیٰ نے آنیوالی نسلوں کیلئے محترم بنا دیا۔ یوں تو حضرت سارہؑ نے بھی عشق الٰہی اورنبی کی محبت میں نمرود کے خلاف احتجاجاََآتش نمرود میں حضرت ابراہیمؑ کی ہمراہی کی استدعا کرتے ہوئے کودنے کی کوشش کی تھی مگر آپ ؑ کے والد اور دیگر لوگوں نے آپ کو ایسا نہ کرنے دیا، حضرت سارہؑ اس وقت حضرت ابراہیم ؑ کے نکاح میں نہ آئی تھیں۔یہ سعادت کا مقام بھی عجیب ہے رب کائنات جسے چاہتا ہے عنایت فرما دیتا ہے۔ آتش نمرود میں حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ کوئی اور نہیں بلکہ نمرود کی ہی نو عمر بیٹی بھی تھی۔ واقعہ کچھ ایسے ہے کہ نمرود کی کم سن بیٹی نے اپنے باپ سے کہا۔ ابا جان ! مجھے اجازت دیں کہ میں ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں جلتاہوا دیکھوں۔نمرود نے اجازت دے دی اور اس نے آگ کے قریب پہنچ کر ابراہیم علیہ السلام کود یکھا کہ آپ کے اردگرد آگ بھڑک رہی ہے ۔ اس نے کسی اونچی جگہ پر چڑھ کردیکھا تو آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کررہے تھے مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام بالکل صحیح سالم تشریف فرماتھے ۔اس نے حیران ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے سوال کیا کہ اتنی بڑی آگ تمہیں جلاتی کیوں نہیں ۔ آپ ؑ نے فرمایا جس کی زبان پر بسم اللہ الرحمن الرحیم جاری ہواور دل میں خدا کی معرفت کا نور ہو۔ اس پر آگ کاا ثر نہیں ہوتا۔ نمرود کی بیٹی نے جب حضرت ابراہیمؑ کو آگ کے بھڑکتے شعلوں میں بھی مطمئن اور خوش و خرم پایا تو بولی ۔اے ابراہیم ؑ! میں بھی تمہارے پاس آناچاہتی ہوں۔

مگرچاروں طرف تو آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں آؤں کیسے ؟آپؑ نے فرمایا۔ لاالہ الااللہ ابراہیم خلیل اللہ ۔ کہہ کربے خوف چلی آؤ۔ نمرود کی بیٹی نے اس پاک کلمے کو پڑھا۔ اور فوراََ آگ میں کود پڑی ۔ خدا کی قدرت آگ اس پر سردہوگئی ۔ اور وہ اس میں صحیح سالم زندہ رہی۔ جب ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے اپنے گھر واپس آئی اور باپ کوساری سرگذشت سنائی تو نمرود سیخ پا ہو گیا

پہلے تو اسے سمجھاتے ہوئے کہا کہ میں تیرے بھلے کی بات کہتا ہوں دین ابراہیم علیہ السلام سے باز آ۔ اور بتوں کی پوجا سے منہ نہ پھیریوورنہ اچھا نہ ہوگا۔ نمرود نے اگرچہ اپنی بیٹی کو بہت ڈرایا دھمکایا مگر اس نے ایک نہ مانی۔ آخر ملعون نمرود نے اس خدا کی پیاری پرظلموں کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ جب سختیاں حد سے بڑھ گئیں تو خدا کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام آئےاور خدا کی پیاری کو وہاں سے اٹھا کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچا دیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…