پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

1979میں جب خانہ کعبہ پر حملہ ہوا تو اسکا دفا ع کرتے ہوئے تمام شدت پسندوں کو ٹھکانے لگانے والا بہادر پاکستانی جرنیل کون تھا ؟ ایمان افروز رپورٹ

datetime 4  اکتوبر‬‮  2016 |

یکم محرم الحرام مطابق 20 نومبر 1979ء منگل کی صبح امام حرم شیخ عبد اللہ بن سبیل نے نماز فجر کا سلام پھیرا ہی تھا کہ چند آدمیوں نے امام صاحب کو گھیرے میں لے لیا ان میں سے کچھ لائوڈ سپیکر پر قابض ہو گئے اس وقت حرم شریف میں ایک لاکھ کے قریب نمازی موجود تھے۔ ان حملہ آوروں کا سرغنہ 27 سالہ محمد بن عبد اللہ قحطانی تھا جس نے چار سال تک مکہ یونیورسٹی میں اسلامی قانون کی تعلیم حاصل کی تھی۔ اس کا دست راست جہیمان بن سیف العتیبہ تھا۔ ان لوگوں نے بڑی باریک بینی سے پلاننگ کر کے جنازوں کا بہروپ بنا کر چارپائیوں کے ذریعے اسلحہ کی بڑی مقدار تہہ خانوں میں جمع کر لی تھی۔

جب تمام تیاریاں مکمل ہو گئیں تو اچانک حرم کے تمام دروازے بند کر کے ان پر اپنے مسلح افراد کھڑے کر دئیے۔ایک آدمی نے عربی میں اعلان کیا کہ مہدی موعود جس کا نام محمد بن عبدا للہ ہے آ چکا ہے۔نام نہاد مہدی نے بھی مائیک پر اعلان کیا کہ میں نئی صدی کا مہدی ہوں میرے ہاتھ پر سب لوگ بیعت کرینگے۔اس گمراہ ٹولے نے مقام ابراہیم کے پاس جا کر گولیوں اور سنگینوں کے سائے میں لوگوں کو دھمکاتے ہوئے بیعت شروع کروا دی۔مذہب اسلام کی آبیاری کیلئے اسلام کے سپوت اپنی جانوں کے نذرانے دے کر اس دین کو جِلا بخشتے آئے ہیں اور شاید ابد تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ نجی ٹی وی چینل پر سینئر صحافی جاوید چوہدری کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف وکیل اور سیاستدان احمد رضا قصوری نے اس حوالے سے بتایا کہ سعودی فرمانروا شاہ خالد نے 32 علماء پر مشتمل سپریم کونسل کا اجلاس فوری طور پر طلب کر لیااور خانہ کعبہ کے دفاع کیلئے پاکستانی حکومت سے رابطہ کیاگیا اور درخواست کی کہ پاکستان خانہ خدا کے دفاع کیلئے اقدامات کرے جس پر جنرل ضیاء الحق نــے ایس ایس جی کمانڈوز کا ایک دستہ ترتیب دیا اور اسے حرم کی پاسبانی کیلئے بھیجا گیا ۔

پاک فوج نــے غیر معمولی سرعت سے تمام دہشت گردوں پر قابو پالیا بغیر کسی جانی نقصان کے اور سب کو فوری طور پر گرفتار کر لیا ۔ تمام یرغمالیوں کو رہائی دلائی گئی ۔ احمد رضا قصوری نے بتایا کہ ایس ایس جی کمانڈوز کی قیادت جو جوان کر رہا تھا اس کا نام میجر پرویز مشرف تھاجو بعد میں پاکستان کے آرمی چیف بھی بنے ۔ اس طرح اللہ تعالی نے یہ عظیم سعادت پاکستان کو عطا کی۔ اللہ ہمارے ان روحانی مراکز مکہ و مدینہ کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ اور انہیں حاسدوں کے شر سے محفوظ و مامون رکھے۔آمین

1

2

3

4

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…