بدھ‬‮ ، 24 جون‬‮ 2026 

امریکا اور اسرائیل کے درمیان طلاق ہو جائے گی، ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان فون پر گفتگو کی تفصیلات منظر عام پر

datetime 24  جون‬‮  2026 |

پشاور (نیوز ڈیسک)امریکی اخبار نیویارک ٹائمز سے وابستہ صحافیوں نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبینہ ٹیلی فونک گفتگو کی نئی تفصیلات سامنے لائی ہیں۔

صحافی میگی ہیبرمین اور جوناتھن سوان نے اپنی کتاب “Regime Change: Inside the Imperial Presidency of Donald Trump” میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے گفتگو کے دوران سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اب بہت سے یہودی ان سے ناخوش ہیں اور اگر صورتحال یہی رہی تو امریکا بھی اسرائیل سے اپنا فاصلہ اختیار کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے اس گفتگو میں انگریزی لفظ “Divorce” استعمال کیا، جس سے مراد دونوں ممالک کے تعلقات میں ممکنہ دوری یا علیحدگی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ اس فون کال کے دوران امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی موجود تھے۔

اسرائیلی میڈیا کی بعض رپورٹس میں بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا میں ان کی مقبولیت میں کمی آ رہی ہے اور کئی حلقے ان کی پالیسیوں سے ناخوش ہیں۔ مبینہ طور پر صدر ٹرمپ نے انہیں خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے معاہدے سے متعلق لچک نہ دکھائی تو واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اگرچہ ایران کے خلاف کارروائی کے ابتدائی مراحل میں امریکا اور اسرائیل کے درمیان قریبی تعاون موجود تھا، تاہم بعد ازاں بعض معاملات پر اختلافات سامنے آنے لگے۔ ایران کے ساتھ مذاکرات اور خطے میں امن کی کوششوں کے دوران دونوں قیادتوں کے درمیان بعض پالیسی معاملات پر اختلافات کی خبریں بھی سامنے آئیں۔

واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں نے بھی حالیہ عرصے میں صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا تھا کہ بعض اسرائیلی اقدامات ایران کے ساتھ طویل المدتی امن کوششوں پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایران جنگ کے حوالے سے امریکا اور اسرائیل دونوں ممالک کی قیادت کو اندرونِ ملک تنقید کا سامنا بھی رہا۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ حالیہ عبوری معاہدہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ کے بعض اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے۔

تجزیہ کار تریتا پارسی کے مطابق لبنان کی صورتحال ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے کسی بھی معاہدے کے لیے ایک اہم امتحان ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ تہران لبنان میں جنگ بندی اور اسرائیلی انخلا کے مطالبات پر زور دے رہا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی حالیہ بیانات میں لبنان میں شہری علاقوں پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے اقدامات قابل قبول نہیں ہونے چاہییں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اختلافات کے باوجود امریکا خطے میں امن کے عمل کو متاثر نہیں ہونے دینا چاہتا۔



کالم



فورنگ میں ایک رات


ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…