تہران (این این آئی)ایران میں کئی روزہ حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی مصدقہ تعداد کم از کم بھی 5,000 بنتی ہے، جن میں تقریبا 500 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ یہ بات ایک ایرانی اہلکار نے بتائی۔ ایک اعلی ایرانی اہلکار نے، جس نے درخواست کی کہ اس کی شناخت ظاہر نہ کی جائے، بتایا کہ ایران میں مہنگائی اور ملکی معیشت کی تشویشناک صورت حال کے خلاف عوامی احتجاج کے طور پر شروع ہو کر حکومت مخالف عدم اطمینان کی ایک ملک گیر مہم بن جانے والے مظاہرے کم از کم بھی 5,000 مصدقہ اموات کی وجہ بنے۔ یہ ایرانی اہلکار اپنے سرکاری فرائض کی انجام دہی اندرون ملک کرتا ہے یا بیرون ملک۔ تاہم اس کے لیے اس خبر رساں ادارے نے صرف یہ لکھا ہے کہ اسے یہ بات خطے میں ایک اعلی ایرانی اہلکار نے بتائی۔
اس اہلکار نے اپنے بیانات میں قرب 500 سکیورٹی اہلکاروں سمیت ہزاروں افراد کی موت کا ذمے دار ان دہشت گردوں اور مسلح فسادیوں کو قرار دیا، جو معصوم ایرانی باشندوں کو ہلاک کرتے رہے، اور جنہیں بیرون ملک سے مدد حاصل تھی۔اس اہلکار نے مزید بتایا کہ ان احتجاجی مظاہروں اور خونریز بدامنی میں، جو کئی ماہرین کے بقول یوں بھی ایران میں گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران نظر آنے والی سب سے بڑی حکومت مخالف اور سب سے ہلاکت خیز احتجاجی مہم تھی، سب سے زیادہ جھڑپیں اور ہلاکتیں شمال مغربی ایران کے کرد نسلی آبادی والے علاقوں میں ہوئیں۔ایران کے یہ کرد علاقے وہ ہیں، جہاں کرد علیحدگی پسند برسوں سے فعال ہیں اور جب بھی ملک میں کوئی بدامنی پیدا ہوتی ہے، تو حالات مقابلتا سب سے زیادہ وہیں پر بحرانی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔اس اہلکار کے بقول، ہلاکتوں کی اس تعداد کے بعد اموات کی حتمی تعداد میں مستقبل میں کوئی بہت بڑا اضافہ نہیں ہو گا۔















































