نئی دہلی (این این آئی)بھارت میں مبینہ طور پر چوہوں کے 200 کلو چرس کھانے کے بعد عدالت نے منشیات اسمگلنگ کے ایک مقدمے میں مرکزی ملزم رہا کر دیا۔بھارتی میڈیا کے ریاست جھارکنڈ کی عدالت نے منشیات اسمگلنگ کے ایک مقدمے میں مرکزی ملزم کو بری کر دیا اور شواہد کو سنبھالنے میں سنگین کوتاہیوں پر پولیس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ مقدمہ 2022 کا ہے، جب ریاست جھارکھنڈ میں پولیس نے قومی شاہراہ پر ایک گاڑی کو روکا اور اس میں چھپائی گئی بڑی مقدار میں چرس برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم ٹرائل کے دوران پولیس نے کہا کہ ضبط کی گئی تقریباً 200 کلو گرام چرس، جس کی مالیت تقریباً 3 کروڑ پاکستانی روپے تھی، گودام میں چوہوں نے کھا لی۔مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس افسران نے عدالت کو بتایا کہ منشیات بطور ثبوت پیش نہیں کی جا سکتیں کیونکہ مبینہ طور پر گودام میں چوہوں نے اسے کھالیا۔
جج نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان پولیس کی جانب سے کیس کے پورے طریقہ کار پر شکوک پیدا کرتا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے پولیس گواہوں کے بیانات میں کئی تضادات کی نشاندہی کی، جن میں بنیادی باتیں بھی شامل تھیں، جیسے گاڑی کو روکنے کی درست جگہ اور وقت، ملزم کو کس نے حراست میں لیا، اور دیگر مبینہ ساتھی کس طرح فرار ہوئے۔عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مصروف شاہراہ پر چرس کی اتنی بڑی مقداد ضبط کی گئی ، وہ بھی رہائشی علاقوں کے قریب ، اس کے باوجود کسی آزاد شہری گواہ کو شامل نہیں کیا گیا۔مزید برآں استغاثہ ملزم اور اس گاڑی کے درمیان کوئی تعلق ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا جس میں مبینہ طور پر منشیات برآمد کی گئی تھیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ الزامات شک سے بالاتر ثابت نہیں کیے جا سکے اور ملزم کی رہائی کا حکم دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جب کوئی مادی ثبوت باقی نہ رہے اور شواہد کی تحویل کا پورا سلسلہ ٹوٹ چکا ہو تو شک کا فائدہ ملزم کو دیا جانا چاہیے۔ یوں عدالت نے مرکزی ملزم کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔















































