ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ایران،اسرائیل تنازع نے ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کیا، ماہرین

datetime 18  جون‬‮  2025 |

کراچی (این این آئی)ماہرینِ سائنس اور حکومتی عہدیداران نے ایک ورکشاپ کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع نے مسلم امہ کے لیے تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت کو نمایاں کر دیا ہے، صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت بے پناہ امکانات رکھتی ہے جو انسانی غلطیوں کو کم کرنے اور طبی ماہرین و عملے کی معاونت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ ورکشاپ کی افتتاحی تقریب کے دوران ماہرین نے کیا۔ ورکشاپ ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ جامعہ کراچی کے سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلی جنس ان ہیلتھ سائنسز، او آئی سی-کامسٹیک اور سندھ انوویشن، ریسرچ اینڈ ایجوکیشن نیٹ ورک (سائرن) کے باہمی اشتراک سے لطیف ابراہیم جمال نیشنل انفارمیشن سینٹر میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب سے سیکریٹری صحت حکومت سندھ ریحان اقبال بلوچ، سابق وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی پروفیسر ایمریٹس ڈاکٹر عطاالرحمن، بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم(آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا شاہ، او آئی سی کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری اورڈاکٹر ریاض الدین نے خطاب کیا۔ سیکریٹری صحت ریحان اقبال بلوچ نے کہا ہے کہ محکمہ صحت سندھ صوبائی سطح پر ہیلتھ کیئر میں مصنوعی ذہانت کے نفاذ کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے صحت سے متعلق علوم میں مصنوعی ذہانت کی اہمیت پر زور دیا اور آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کی انتظامیہ کو حکومت کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن نے کہا کہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت سے متعلق ہیلتھ کیئر مارکیٹ کا حجم 2030تک100ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر جائے گا، جو اس بات کا مظہر ہے کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے طبی شعبے کو تبدیل کر رہی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا شاہ نے مسلم امہ کی ترقی کے لیے تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی اشد ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ایران و سرائیل جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے تنازعات ان اقوام کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہیں جو سائنسی اور تکنیکی لحاظ سے پسماندہ ہیں۔ انہوں نے کہاہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جو سائنس اور ٹیکنالوجی سے متحرک ہے، لہذا امہ کی بہتری کے لیے سائنسی اور تحقیقی بنیادوں پر مربوط کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت مریضوں کی نگہداشت کو انقلاب آشنا بنا سکتی ہے، نظام کو مثر بنا سکتی ہے اور صحت کے اخراجات کو کم کر سکتی ہے۔

پروفیسر رضا شاہ نے آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کو ایک عالمی معیار کا تحقیقی ادارہ قرار دیا اور کہا کہ اس کے اسکالرز قومی اور بین الاقوامی سطح پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس اہم موضوع پر ورکشاپ کے انعقاد پر منتظمین کو سراہا۔ پروفیسراقبال چوہدری نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ پاکستان میں صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت ایک انقلابی کردار ادا کر سکتی ہے، خاص طور پر جب بات ہو طبی سہولیات تک رسائی، مثر نظام اور خرید کی استطاعت جیسے چیلنجز سے نمٹنے کی۔ ڈاکٹر ریاض الدین نے اپنی تقریر میں ہیلتھ سائنسز میں مصنوعی ذہانت کے مرکز کی پیش رفت پر ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…