ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

’ہم میزائلوں سے تنگ آچکے ہیں‘، جنگ سے خوفزدہ اسرائیلی کشتیوں کے ذریعے ملک سے فرار ہونے لگے

datetime 17  جون‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے باعث ایرانی میزائل حملوں سے پریشان اسرائیلی شہری سمندری راستے سے ملک چھوڑنے لگے ہیں۔اسرائیلی روزنامہ ’ہارٹز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، فضائی سفر پر پابندیوں اور پروازوں کی معطلی کے بعد شہری کشتیوں کے ذریعے اسرائیل سے روانہ ہو کر قبرص پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہرزلیا مرینا اس وقت ایک غیر رسمی بندرگاہ نما مقام بن چکی ہے، جہاں علی الصبح لوگ جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں تاکہ کسی یاٹ کے ذریعے اسرائیل سے نکل سکیں۔

ان کا مقصد قبرص پہنچ کر وہاں سے کسی اور ملک روانہ ہونا ہوتا ہے۔فیس بک پر مختلف گروپس میں سینکڑوں افراد سمندری راستے سے انخلا کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ حیفا، ہرزلیا اور عسقلان جیسے مقامات سے نجی یاٹس مالکان 10 افراد پر مشتمل مسافر گروپس کے لیے روانگی کا انتظام کر رہے ہیں۔اکثر افراد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کے مستقل رہائشی نہیں بلکہ بیرون ملک موجود اپنے اہل خانہ کے پاس جا رہے ہیں۔

صرف چند افراد نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ وہ ایران کی جانب سے میزائل حملوں کے خطرے کی وجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔مسافروں کا کہنا ہے کہ ایک سیٹ کے لیے انہیں تقریباً 2,500 شیکل (تقریباً 700 امریکی ڈالر) ادا کرنا پڑے، جبکہ کچھ یاٹس نے 6,000 شیکل تک کی قیمت بھی مانگی۔ایک مسافر نے کہا، ’’یہ سب طلب اور رسد کا معاملہ ہے۔‘‘ بعض تیز رفتار یاٹس آٹھ گھنٹے میں قبرص پہنچا دیتی ہیں اور لگژری کیبنز کی سہولت کی وجہ سے ان کی قیمت مزید بڑھ جاتی ہے۔ایک یاٹ کے کپتان نے خبردار کیا کہ بہت سی یاٹس بغیر قانونی اجازت نامے یا انشورنس کے سفر کر رہی ہیں، جو کہ غیر قانونی ہے۔رپورٹ کے مطابق بندرگاہ پر موجود ایک جوڑے نے کھل کر تسلیم کیا کہ وہ میزائل حملوں سے تنگ آ کر ملک چھوڑ رہے ہیں، ان کے الفاظ تھے: ’’ہم جنگی صورتحال اور میزائلوں سے تنگ آچکے ہیں۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…