اتوار‬‮ ، 21 جون‬‮ 2026 

بلاوا آئے تو کون روک سکے۔۔۔ جہاز نے حاجی کے بنا اڑنے سے انکار کردیا، پائلٹ بے بس

datetime 30  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک لیبیائی نوجوان عامر المہدی کی سچی نیت اور غیر متزلزل ایمان کی ایسی کہانی منظر عام پر آئی ہے جس نے سوشل میڈیا پر سب کے دل جیت لیے۔ یہ واقعہ خالص یقین اور مضبوط ارادے کی ایک غیر معمولی مثال بن چکا ہے۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ جنوبی لیبیا کے سبہا ایئرپورٹ پر، عامر المہدی کو حج کے سفر کے لیے طیارے میں سوار ہونے کی اجازت نہ مل سکی۔ حکام نے اس کے سفری دستاویزات میں ایک تکنیکی خامی کی بنا پر اسے روکا، اور باقی مسافر وقت پر روانہ ہو گئے۔ مگر عامر نے ہار نہ مانی۔

ایئرپورٹ کے ہال میں بیٹھا وہ نوجوان بار بار دہراتا رہا: “میں نے حج کی نیت باندھ لی ہے، اور میں ضرور جاؤں گا!”
جہاز کے اڑ جانے کے بعد بھی وہ وہاں سے نہ ہٹا۔ لوگوں نے سمجھانے کی کوشش کی، مگر اس کا یقین متزلزل نہ ہوا۔

قدرت نے بھی گویا عامر کے جذبے کو سلام کیا۔ فلائٹ فضا میں پہنچتے ہی فنی خرابی کا شکار ہو گئی اور واپس ایئرپورٹ اتار لی گئی۔ تاہم، جب عامر نے سوار ہونے کی دوبارہ درخواست کی، تو پائلٹ نے سیڑھیاں کھولنے سے انکار کر دیا، اور طیارہ مرمت کے بعد دوبارہ روانہ ہو گیا۔

عامر اس وقت بھی ایئرپورٹ پر ڈٹا رہا۔ اس نے کہا: “یہ طیارہ میرے بغیر نہیں جا سکتا، یہ واپس آئے گا!”
اور حیرت انگیز طور پر، وہی ہوا۔ طیارے میں ایک اور فنی خرابی پیدا ہوئی اور اسے دوبارہ لینڈنگ کرنا پڑی۔

اس بار پائلٹ نے اعلان کیا: “جب تک عامر المہدی طیارے میں سوار نہیں ہوتا، ہم روانہ نہیں ہوں گے۔”
یوں آخرکار، عامر المہدی اپنے یقین، صبر اور خلوصِ نیت کے سبب اس فلائٹ کا حصہ بن گیا۔ اس کی سوار ہونے کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا۔

عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر اس واقعے کو ایمان، سچائی اور صبر کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک صارف نے لکھا:
“جب ایک طیارہ دو بار صرف تمہارے لیے واپس آئے، تو یہ اللہ سے خاص تعلق کی نشانی ہے۔”

دوسرے نے کہا:
“ایمان جب عمل سے بڑا ہو، اور یقین اللہ کی ذات پر کامل ہو، تو معجزے رونما ہوتے ہیں۔”

کچھ لوگوں نے لیبیا کے ایوی ایشن سسٹم پر تنقید بھی کی، لیکن اکثریت عامر المہدی کی استقامت پر فخر محسوس کرتی دکھائی دی۔

اب عامر المہدی بیت اللہ پہنچ چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کی احرام میں ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں، جہاں وہ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہا ہے:
“الحمدللہ! میں مکہ پہنچ گیا ہوں!”

یہ واقعہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جب نیت خالص ہو اور یقین کامل، تو دروازے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محمد بوٹا انجم


محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…