ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے ساتھ ملکر 6 ممالک نے بھارت پر سائبر حملہ کیا،بھارتی میڈیا کا دعویٰ

datetime 14  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران صرف بھارت مغربی کی سرحد ہی نہیں بلکہ سائبر اسپیس میں بھی شدید حملے کیے گئے۔ ٹائمز آف انڈیا نے سائبر سیکیورٹی ماہرین کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان، ترکی، بنگلہ دیش، ملیشیا، انڈونیشیا اور چین کے حمایت یافتہ ہیکرز اور ہیکٹیوسٹ گروپس نے بھارتی ڈیجیٹل نظام کو نشانہ بنایا۔

بھارتی اخبار کے مطابق ان حملوں کا ہدف دفاعی ادارے، ان کے ایم ایس ایم ای وینڈرز، اور اہم بنیادی ڈھانچے جیسے بندرگاہیں، ہوائی اڈے، بجلی کے گرڈز، ریلوے اور ایئرلائنز جیسی ٹرانسپورٹ سروسز، بی ایس این ایل جیسے ٹیلیکوم ادارے، یو پی آئی، ڈیجیٹل والٹس، اسٹاک ایکسچینجز اور وہ بڑے بھارتی گروپس تھے جن کی سرمایہ کاری انفرااسٹرکچر میں ہے۔

حملے کا مقصد بھارت کو عالمی سطح پر شرمندہ کرنا اور دفاعی نظام، خاص طور پر میزائل پروگرام سے متعلق حساس معلومات چُرانا تھا۔ انٹرپول ٹرینر اور سائبر فارنزک ماہر پینڈیالا کرشنا شاستری کے مطابق یہ حملے پاکستانی سائبر گروپس کی قیادت میں چلائی جانے والی منظم مہم کا حصہ تھے۔

ان گروپس نے مالویئر، فشنگ اٹیکس اور ڈینائل آف سروس حملوں کے ذریعے مالیاتی، توانائی، ٹیلیکوم، اور پبلک سروس سیکٹرز کو نشانہ بنایا۔

ویب سائٹ Zone-H، جو ویب سائٹس کی ہیکنگ کی نگرانی کرتی ہے نے بھارتی سرکاری ڈومینز کی ڈیفیسمنٹ کے کئی واقعات رپورٹ کیے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف واٹر اسپورٹس (niws.nic.in) کی ویب سائٹ ہیک کی گئی جبکہ nationaltrust.nic.in پر بھی حملہ ہوا جسے بعد میں بحال کر دیا گیا۔

منگل کے روز سنٹرل کول فیلڈز لمیٹڈ (CCL) کی ویب سائٹ پر بھی ایک بڑا تکنیکی خلل پیدا ہوا جہاں ”Mr. Habib 404“ نامی ایک ہیکر کی جانب سے پیغام دیا گیا: ”آپ نے سوچا آپ محفوظ ہیں، لیکن ہم یہاں موجود ہیں۔“

اس پر سی سی ایل کے پی آر او، آلوک گپتا نے بیان دیا: ”ویب سائٹ کو بحال کر دیا گیا ہے اور یہ اب معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔ کمپنی کا کوئی ڈیٹا ضائع یا تبدیل نہیں ہوا۔ فی الحال ہم صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک تکنیکی خرابی تھی۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہیکنگ ہوئی ہے یا نہیں۔“

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…