اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ایرانی دارالحکومت کو پاکستان کے قریب منتقل کرنے کی تیاریاں مگر کیوں؟ حیران کن وجہ سامنےآگئی

datetime 21  فروری‬‮  2025 |

تہران (این این آئی )ایرانی دارالحکومت کو گرڈ لاک ٹریفک، پانی کی قلت، وسائل کا ناقص انتظام، بدترین فضائی آلودگی اور زمین کے بتدریج دھنسنے جیسے مسائل کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ایران ایک بڑے اقدام کی تیاری پر غور کر رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوری میں ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے تصدیق کی کہ حکام دارالحکومت کی ممکنہ منتقلی کا جائزہ لے رہے ہیں جسے پاکستان کے قریب یعنی مکران کے علاقے منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مکران خلیج عمان کے کنارے واقع ایک کم ترقی یافتہ ساحلی خطہ ہے، جو ایران کے جنوبی اور پسماندہ صوبے سیستان و بلوچستان اور ہمسایہ صوبہ ہرمزگان کے چند حصوں پر مشتمل ہے۔ اس سے قبل بھی یہ علاقہ کئی بار دارالحکومت کی منتقلی کے لیے ایک ممکنہ آپشن کے طور پر زیر بحث آ چکا ہے۔ ایران گزشتہ چند عرصے سے اپنے دارالحکومت کو منتقل کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے، لیکن یہ منصوبہ کافی مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم نئے صدر مسعود پیزشکیان کی جانب سے اس مسئلے کو دوبارہ اٹھایا گیا ہے کیونکہ تہران کو بہت سے بڑھتے ہوئے مسائل کا سامنا ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی ساحلی علاقے مکران کو ایران اور آس پاس کے علاقوں کے لیے ایک بڑا اقتصادی مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ وہ مکران کو کھوئی ہوئی جنت قرار دیتے ہیں۔

اسی طرح صدر مسعود پیزشکیان نے بھی کہا کہ ایران کو اپنے اقتصادی اور سیاسی مرکز کو جنوبی ساحل پر منتقل کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔دارالحکومت کی منتقلی کے منصوبے کی بحالی نے ایک بار پھر اس کے جواز پر بحث چھیڑ دی ہے، جہاں کئی حلقے تہران کی تاریخی اور اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…