منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

بائیڈن انتظامیہ نے کورونا ویکسین پر مواد سینسر کرنے کیلئے فیس بک کو مجبور کیا تھا، مارک زکر برگ کادعویٰ

datetime 11  جنوری‬‮  2025 |

واشنگٹن(این این آئی)فیس بک میٹا کمپنی کے مالک مارک زکربرگ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر بائیڈن کی انتظامیہ نے فیس بک پر کوویڈ 19کی ویکسین کے حوالے سے مواد سینسر کرنے پر مجبور کیا تھا۔عالمی میڈیا کے مطابق میٹا کمپنی کے مالک، ٹیک جائنٹ اور دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک مارک زکر برگ نے ایک پوڈ کاسٹ میں یہ کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے کووڈ 19کی ویکسین کے حوالے سے مواد ہٹانے کا کہا تھا، جسے ہم نے تسلیم نہیں کیاجس پر بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے ہمیں کافی کچھ کہا گیا مگر ہم سچی چیزوں کو ختم کرنے والے نہیں ہیں، یہ تو مضحکہ خیز ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق یہ پہلی بار نہیں کہ مارک زکر برگ نے یہ بات کہی ہے، وہ اس سے پہلے امریکی ایوان نمائندگان میں سے ایک جِم جارڈن کو اس حوالے سے لکھے گئے ایک خط میں آگاہ کر چکے ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ نے میٹا انتظامیہ کی جانب سے کئی بار دباؤ ڈالا تھا۔فیکٹ چیکنگ کے حوالے سے مارک زکر برگ نے کہا کہ فیکٹ چیک کے حوالے سے ہماری پالیسی میں بدلاؤ آیا ہے، مجھے اس بات کی فکر رہتی تھی کہ میں کیسے طے کر سکتا ہوں کہ سچ کیا ہے، ہماری سروس استعمال کرنے والے اس کو ایک پاگل پن سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بہت جلد اس کو کمیونٹی نوٹس سے تبدیل کر دیا جائے گا، جیسا ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…