اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

یمن میں بھارتی نرس کی سزائے موت کی منظوری

datetime 31  دسمبر‬‮  2024 |

صنعاء (این این آئی )یمن میں بھارتی خاتون نرس کی قتل کے جرم میں سزائے موت برقرار رکھی گئی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والی نمیشا پریا کی سزائے موت کی منظوری یمنی صدر راشد العلیمی نے دی۔یمن کے صدر کی طرف سے سزائے موت کی منظوری کے فورا بعد بھارتی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نمیشا پریا کی ہر ممکن مدد کی جا رہی ہے۔ 36 سالہ نمیشا پریا اپنے والدین کی کفالت اور مدد کے لیے 2008 میں یمن چلی گئی تھیں جہاں انہوں نے کئی اسپتالوں میں کام کرنے کے بعد بالآخر اپنا کلینک کھول لیا۔2014 میں اس حوالے سے ان کا طلال عبدو مہدی نامی شخص سے رابطہ ہوا کیونکہ یمن میں کاروبار شروع کرنے کے لیے مقامی لوگوں کے ساتھ شراکت داری کا قانون ہے۔

بعدازاں ان دونوں کے درمیان تعلقات بگڑنے کے بعد نمیشا نے مہدی کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی جس کی وجہ سے اسے 2016 میں گرفتار کر لیا گیا لیکن رہائی کے بعد وہ شخص بھارتی خاتون کو دھمکیاں دیتا رہا۔بھارتی میڈیا کے مطابق 2017 میں ان دونوں کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا۔بھارتی خاتون نے مبینہ طور پر اپنا ضبط پاسپورٹ واپس لینے کے لیے یمنی شہری کو نیند کا انجیکشن لگایا تھا تاہم زیادہ مقدار کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو گئی۔بعد ازاں خاتون کو یمن سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا گیا تھا اور 2018 میں ان پر قتل کا مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔بھارتی میڈیا کے مطابق 2020 میں صنعا میں ٹرائل کورٹ نے بھارتی خاتون کو سزائے موت سنائی تھی جس کے بعد یمن کی سپریم جوڈیشل کونسل نے بھی نومبر 2023 میں اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔واضح رہے کہ بھارتی ریاست کیرالہ کی رہائشی نمیشا پریا 19 سال کی عمر میں 2008 میں یمن گئی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…