پیر‬‮ ، 13 جولائی‬‮ 2026 

سعودی خاتون نے مدینہ منورہ میں ایک گھر کو سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

ریاض (این این آئی )سعودی عرب میں ثقافتی ورثے کے احیا کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر نوجوان خاتون می المسلم نے مدینہ منورہ میں سو سال سے زیادہ پرانے ایک تاریخی گھر کو سیاحوں کی توجہ کے ایک منفرد مقام میں تبدیل کردیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے مستند شہری تعمیراتی انداز کو مجسم بنا کر سیاحوں کو ایک بھرپور تجربہ فراہم کرنے کے لیے کام کیا۔عرب ٹی وی کے مطابق اپنی گفتگو میں می المسلم نے وضاحت کی کہ یہ آئیڈیا صرف سیاحت تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد مختلف ثقافتی اور ورثے کی سرگرمیوں کے ذریعے مدینہ منورہ کی تاریخ اور ثقافت کے بارے میں گہرا ادراک بڑھانا ہے۔ اس میں مستقبل کے لیے ایک ویژن موجود ہے۔ اس کام کی سعودی عرب کے تمام خطوں میں توسیع کی کوشش کی جائے گی۔ یہ ایک مربوط تجربہ ہے جو شہر کے بھرپور ورثے کی عکاسی کر رہا ہے اور دنیا کی نظروں میں اس کی روشن تصویر کو پیش کر رہا ہے۔

می المسمل نے کہا کہ یہ گھر 100 سال سے زیادہ پرانا ہے۔ ہمیں ایک ایسا ہیریٹیج آئیڈیا بنانے کی ترغیب ملی جس سے سیاحوں کو فائدہ پہنچے اور انہیں شہر، اس کی تہذیب اور وہاں کی زندگی کی نوعیت سے متعارف کرایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مدینہ منورہ کے ثقافتی ورثے کو مجسم کرنے اور مقامی ماحول کے لیے مہمان نوازی کو بڑھانے کا ایک منفرد تجربہ پیش کرتا ہے۔خاتون می المسلم نے کہا کہ ہم نے اس سرائے کے اندر تعمیرات، فرنیچر اور بنیادی چیزوں اور آسائشوں کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات کے لحاظ سے ماضی کی نقالی کی ہے۔ تمام تفصیلات کی مکمل تصویر کے ساتھ ماضی میں لے جانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسے مکمل طور پر ایسے گھروں کی اشیا سے لیس کیا ہے جو یا سرائے گھر کے لوگوں یا مہمانوں کی خدمت کے لیے ہوتی تھیں۔ اس میں استقبالیہ، رہائش، مہمان نوازی، راہداری، بیٹھک وغیرہ کے ہر مقام پر توجہ دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم پڑوس میں موجود مقامی تجربے کے علاوہ شہر کے سب سے نمایاں ورثے اور مذہبی مقامات کے بارے میں جاننے کے لیے ایک خصوصی گائیڈ فراہم کرتے ہیں۔می المسلم نے مزید کہا گھر کی تاریخ 100 سال سے زیادہ پرانی ہے اور یہ پہلا موقع ہے جب اس گھر کو اس پیشہ ورانہ انداز میں بحال کیا گیا ہے۔ ہمارا مقصد، سب سے پہلے مدینہ منورہ کے ورثے اور ثقافت کی تصویر کو زندہ کرنا ہے۔ اس کی تصویر کشی کرنا ہے اور اسے اس زمانے اور دور میں ایک بار پھر دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے جیسا کہ یہ مکمل تصویر میں بغیر کسی کمی اور تبدیلی کے تھا۔ اس جگہ کو آرکیٹیکچرل کردار سے آراستہ کیا گیا۔ فرنیچر اور بیرونی فنشنگ کی گئی۔ یہاں تک کہ مکمل مہمان نوازی کے لیے اسے ہر دستاویزی وراثت کے ساتھ ہم آہنگ بنایا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سیٹی سے رزق کمانے والا انسان


بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…