ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

امریکا کی ایران کی ڈرون انڈسٹری پر نئی پابندیاں

datetime 22  مارچ‬‮  2023 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکا نے ایران اور ترکیہ میں چار اداروں اور تین افراد پر ایران کے ڈرون اور ہتھیاروں کی تیاری کے پروگراموں میں مدد کے لیے یورپی ساختہ ڈرون انجنوں سمیت آلات کی خریداری میں ملوث ہونے پر پابندیاں عائد کی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق

امریکی وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ آلات کی فراہمی کا نیٹ ورک ایرانی وزارت دفاع اور معاونت کی جانب سے کام کرتا ہے۔یہ پابندیاں تازہ ترین ہیں جو واشنگٹن نے ایران میں ڈرون انڈسٹری کو نشانہ بنانے کے ایک حصے کے طور پر لگائی ہیں۔امریکا نے اس ماہ کے شروع میں چین میں قائم ایک نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے اس پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے ڈرون تیار کرنے والی ایک ایرانی کمپنی کو طیاروں کے پرزے بھیجے ہیں جنہیں تہران آئل ٹینکرز پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا اور روس کو برآمد کرتا تھا۔دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس کے انڈر سیکرٹری برائے خزانہ برائن نیلسن نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے ڈرونز اور روایتی ہتھیاروں کی اس کے پراکسیز کے لیے دستاویزی تعیناتی علاقائی سلامتی اور عالمی استحکام کو نقصان پہنچاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کسی بھی دائرہ اختیار میں غیر ملکی سپلائی نیٹ ورکس کو ظاہر کرتا رہے گا جو ایران کے فوجی صنعتی کمپلیکس کو سپورٹ کرتا ہے۔نیویارک میں اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔پابندیوں کی فہرست میں ایرانی ڈیفنس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر، امان اللہ بیدار، جو کہ محکمہ خزانہ کے مطابق سینٹر کے کمرشل ڈائریکٹر اور پروکیورمنٹ ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں اور بیدر کی فرزان انڈسٹریل انجینئرنگ کمپنی شامل تھی۔پابندیوں کے دائرے میں آنے والوں میں مراد بوکی نام کا ایک ترک شہری بھی شامل ہے۔ محکمہ خزانہ نے اس پر بیدار کی کمپنی کے لیے کیمیکل اور بائیولوجیکل ڈیٹیکٹر سمیت دفاعی ایپلی کیشنز کے ساتھ مختلف آلات کی خریداری میں سہولت فراہم کرنے کا الزام لگایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…