ایران، حکومت مخالف 5 مظاہرین کو سزائے موت، 11 کو عمر قید

7  دسمبر‬‮  2022

تہران(این این آئی) ایران میں مھسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت پر ہونے والے ملک گیر احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے 5 مظاہرین کو موت اور 11 کو طویل عرصے کی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی عدلیہ کے ترجمان مسعود ستائشی نے

پریس کانفرنسن میں بتایا کہ مظاہروں کے دوران پیر ملٹری فورس کے ایک اہلکار کو قتل کرنے کے الزام میں 5 افراد کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔مسعود ستائشی نے بتایا کہ 27 سالہ اہلکار کو ایک گروپ نے احتجاج کے دوران برہنہ کرکے قتل کیا۔ اہلکار کو قتل کرنے والے مظاہرین پولیس حراست میں ایک نوجوان حادث نجفی کی حراست کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور اسلامی و قومی اقدار کو خطرے میں ڈالنے کے الزام میں 11 افراد کو طویل عرصے کی وید کی سزا سنائی گئی ہے۔مسعود ستائشی نے بتایا کہ ملزمان کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی ہیں اور ملزمان ان سزائوں کے خلاف اپیلیں کرنے کا بھی حق رکھتے ہیں۔یاد رہے کہ رواں برس 21 ستمبر کو درست طریقے سے حجاب نہ لینے کی پاداش میں گرفتار ہونمے والی نوجوان کرد لڑکی مھسا امینی کی پولیس کی حراست میں ہلاکت پر ملک بھر مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک 450 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں 46 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ایران نے دعویٰ کیا تھا ملک گیر مظاہروں کو مغربی ممالک کی آشیرباد حاصل ہے تاہم اب اخلاقی پولیس کی پٹرولنگ یعنی گشت ارشاد کو بند کردیا گیا ہے جب کہ حجاب قوانین پر تبدیلی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔



کالم



مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)


ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…

برداشت

بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انہیں پانچ بجے کا…

کیا ضرورت تھی

میں اتفاق کرتا ہوں عدت میں نکاح کا کیس واقعی نہیں…