جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کے اپنے ہی ریکارڈز توڑ دیے،دنیا بھر میں مذاق اور جھوٹا ترین میڈیا قرار

datetime 21  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کے اپنے ہی ریکارڈز توڑ دیے۔ بھارتی میڈیا اپنی اِس احمقانہ خواہش کو خبر بنا کر چلاتا رہا کہ کراچی میں دو فریقین کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔ اس جھوٹ پر دنیا بھر میں آج دن بھر بھارتی

میڈیا کا مذاق اڑایا جاتا رہا اور اسے دنیا کا جھوٹا ترین میڈیا قرار دیا گیا۔ بھارتی میڈیا کی اس شرم ناک مہم میں بعض بڑے چینل بھی شامل تھے۔ بھارتی میڈیا نے کہا کہ کراچی کے علاقے گلشن باغ میں جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں، جھڑپیں تو ایک طرف کراچی میں تو گلشن باغ نام کا کوئی علاقہ تک نہیں اور ہوتا بھی کیسے کیوں کہ گلشن اور باغ کا تو مطلب بھی ایک ہی ہے۔ایسا احمقانہ نام متعصب بھارتی میڈیا کو ہی سوجھ سکتا تھا۔ اس شرم ناک جھوٹ کو پھیلانے میں بھارتی چینل سی این این نیوز 18، اوپ انڈیا اور ٹائمز نا شامل تھے۔پاکستانی صحافی طلعت اسلم نے بھارتی میڈیا کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ کراچی میں سول وار کے قریب ترین چیز سول لائنز تھانہ ہے اور آرٹلری کے نام سے آرٹلری میدان تھانہ ہے جو میری کھڑکی سے نظر آتا ہے۔صحافی مبشر زیدی نے کراچی میں دو بھارتی شہروں کے نام سے معروف دکانوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ بومبے بیکری اور دہلی سوئیٹ ہاس پر صورتحال سنجیدہ ہے۔پاکستانی وکیل ریما عمر نے کہا کہ بھارتی میڈیا فکشن کو خبر بنا کر پیش کر رہا ہے۔پاکستانی مصنفہ بینا شاہ نے لکھا کہ وہ ابھی ابھی شہر سے سودا سلف خرید کر لائی ہیں اور شہر میں کوئی خانہ جنگی نہیں ہو رہی۔ اس کے علاوہ بھی سوشل میڈیا صارفین نے بھارتی میڈیا کی خوب کلاس لی اور مذاق اڑاتے رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…