ہم نے برسوں بعد آرمینیاکے زیر قبضہ شہر آزاد کروا لیا ،اب یہاں دن میں پانچ بار اللہ اکبر کی صدائیں گونجیں گی ، آذر بائیجان کے صدر کا فتح کا اعلان ‎

  پیر‬‮ 19 اکتوبر‬‮ 2020  |  21:57

باکو(مانیٹرنگ ڈیسک )آرمینیا کے زیر قبضہ ایک اور شہر آذربائیجان نے فتح کر لیا ۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف نے اپنی عوام کو خوشخبری دیتے اعلان کیا ہے کہ آرمینیا کے زیر قبضہ علاقہ فضولی شہر فتح کر لیا ہے ۔اس شہر میں موجود تمام مساجد میںپانچ وقت اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہونگی ۔ آذربائیجان کےصدر الہام علیئیف نے آرمینیا کی فوج کو دوٹوک پیغام دیا کہ وہ جلد از جلد ہمارے علاقوں سے نکل جائے ، ہم اپنی زمین کا ایک انچ بھی کسی کو نہیں لینے دیں گے ۔ دوسری جانب آرمینیا


کے خلاف جنگ میں پاکستان نے اپنا وزن آذربائیجان کے پلڑے میں ڈال کر آذری قوم کے دل جیت لیے اور اب وہاں پاکستانی پرچموں کی طلب بھی بڑھ گئی ہے۔آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نگورنو کاراباخ کے تنازع پر جنگ کئی ہفتوں سے جاری ہے اور عارضی جنگ بندی کے باوجود آرمینیا کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔پاکستان اور ترکی نے آرمینیا سے جنگ کے معاملے پر آذربائیجان کی پہلے دن سے حمایت کررکھی ہے جس کے باعث دونوں ملکوں سے اظہار یکجہتی کیلئے باکو کے گھروں کی بالکونیوں میں دونوں ممالک کے پرچم لہرائے گئے تھے۔پاکستان کی حمایت کے بعد آذربائیجان میں پاکستانی جھنڈوں کی طلب میں بھی اضافہ ہوگیا جس کی تصدیق پاکستان میں تعینات آذری سفیر علی علی زادہ نے کی ہے۔اپنی ٹوئٹ میں آذری سفیر نے کہاکہ آذربائیجان میں لوگ ترکی اور پاکستان سے بے حد محبت کرتے ہیں اور اسی وجہ سے پاکستانی جھنڈوں کی طلب بڑھ گئی ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ترکی کا ابن بطوطہ

آپ اگر حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مزار سے اتاترک برج کی طرف آئیں تو آپ کو پُل سے پہلے بائیں جانب ایک چھوٹی سی قدیم مسجد دکھائی دے گی‘ یہ مسجد چلبی کہلاتی ہے اور اس مناسبت سے اس پورے علاقے کا نام چلبی ہے‘ چلبی کون تھا؟ یہ تاریخ کا انتہائی دل چسپ کردار تھا‘ پورا ....مزید پڑھئے‎

آپ اگر حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مزار سے اتاترک برج کی طرف آئیں تو آپ کو پُل سے پہلے بائیں جانب ایک چھوٹی سی قدیم مسجد دکھائی دے گی‘ یہ مسجد چلبی کہلاتی ہے اور اس مناسبت سے اس پورے علاقے کا نام چلبی ہے‘ چلبی کون تھا؟ یہ تاریخ کا انتہائی دل چسپ کردار تھا‘ پورا ....مزید پڑھئے‎