ٹرمپ نے امریکی معیشت غرق کردی  بجٹ خسارہ 3100 ارب ڈالر ہوگیا

  ہفتہ‬‮ 17 اکتوبر‬‮ 2020  |  17:15

واشنگٹن(این این آئی) امریکی حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمارمیں بتایاگیا ہے کہ 30ستمبر 2020 کو ختم ہونے والے مالی سال میں فیڈرل بجٹ کا خسارہ 3100 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکی تاریخ کا سب سے زیادہ بجٹ خسارہ بھی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی معیشت کو دنیا بھر میں سب سےزیادہ خسارے والی معیشت بھی قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے امریکی معیشت کا خسارہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ ہوگیا جس کے نتیجے میں امریکی معیشت مجموعی طور پر گزشتہ


سال کے مقابلے میں 15.2 فیصد سکڑ چکی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے اس سال فروری میں تخمینہ لگایا تھا کہ فیڈرل بجٹ کا خسارہ 984 ارب ڈالر رہے گا لیکن اندازوں کے مقابلے میں یہ خسارہ تین گنا سے بھی زیادہ ہو کر 3.1 ٹریلین ڈالر 3100ارب ڈالرپر پہنچ گیا۔یہ 2008 کے عالمی معاشی بحران کے بعد 1.4 ٹریلین ڈالر خسارے کے دگنے سے بھی زیادہ ہے۔2019 تا 2020 کے مالی سال میں امریکی حکومت کی آمدن پچھلے سال کے مقابلے میں 1.2 فیصد کم ہو کر 3.42 ٹریلین ڈالر رہی جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کے اخراجات 47.3 فیصد اضافے کے ساتھ 6.55 ٹریلین ڈالر رہے۔ان اخراجات کا بیشتر حصہ کانگریس کے منظور کردہ ہنگامی اقدامات کی مد میں صرف ہوا جو کورونا وبا سے پیدا ہونے والی صورتِ حال سے نمٹنے کیلئے کیے گئے تھے۔بتاتے چلیں کہ امریکا میں کورونا وبا سے مارچ اور اپریل کے دو مہینوں میں تقریبا سوا دو کروڑ لوگ بے روزگار ہوئے تھے جن میں سے اب تک صرف ایک کروڑ لوگوں کا روزگار ہی بحال کیا جاسکا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎