اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

بھارتی ریاست جونا گڑھ کے نواب نے بھارت کے خلاف آواز بلند کر دی، پاکستان کے حق میں بیان جاری کرکے بھارتی مکروہ چہرے سے پردہ ہٹا دیا

datetime 30  ستمبر‬‮  2020 |

ایودھیا(مانیٹرنگ ڈیسک) بابری مسجد کے فیصلے کے بعد بھارت میں مسلمانوں کی طرف سے شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ بھارت کے مکروہ چہرے سے پردہ ہٹاتے ہوئے بھارتی ریاست جوناگڑھ کے نواب محمد جہانگیر خان نے بابری مسجد کیس میں ملوث ملزمان کی رہائی پر کہا کہ بھارت منافقت، دہرے معیار، اقلیتوں اور بنیادی حقوق کی پامالی کا نام ہے۔انہوں نے تقسیم ہند کی

داستان بیان کرتے ہوئے کہا کہ 9 نومبر 1947 کو نواب آف جونا گڑھ نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس کے جواب میں جونا گڑھ پر بھارت نے فوج کشی کرکے قبضہ کر لیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سے الحاق کا اعلان جونا گڑھ اسٹیٹ کونسل کی منظوری سے ہوا تھا۔ بھارت نے بندوق کے زور پر جوناگڑھ کے پاکستان سے قانونی الحاق کوروند ڈالا۔بندوقوں کے سائے میں ہی ایک نام نہاد ریفرنڈم بھی کرایا گیا جس میں طاقت کے زور پر اپنا ہدف حاصل کیا گیا تھا۔انہوں نے بھارت سے کشمیر میں ریفرنڈم کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔ دوسری جانب آل انڈیا مسلم اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی کا کہنا ہے کہ سی بی آئی کورٹ کا فیصلہ بھارتی عدلیہ کی تاریخ کے لیے سیاہ دن ہے۔ بابری مسجد شہادت کیس کے فیصلے پر آل انڈیا مسلم اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے اپنے ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج افسوس ناک دن ہے، عدالت کہتی ہے کہ کوئی سازش نہیں ہوئی تھی۔ اسد الدین اویسی نے کہا کہ سپریم کورٹ آف انڈیا بابری مسجد پراپرٹی کیس میں اسے منصوبہ بندی سے تباہ کرنے کا کہہ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت میں ملوث افراد کو سیاسی طور پر نوازا گیا، انہیں وزارتیں دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد شہید کرنے کے واقعے کی وجہ ہی سے بی جے پی اقتدار میں آئی۔  بھارت میں مسلمانوں کی طرف سے شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…