سعودی جوڑے کی گلاس آرٹ سے معذوروں کی زندگیاں بدلنے کی شاندار کوشش

  منگل‬‮ 15 ستمبر‬‮ 2020  |  17:49

ریاض (این این آئی )سعودی عرب میں فائن آرٹ کے آرٹسٹ میاں بیوی نے معذور افراد کو معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے لیے ایک منفرد اور قابل تحسین مشروع کیا ہے۔ یہ مشن اور مہم کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور سعودی عرب میں معذوری سے دوچار افراد کی زندگیاں بدلنے میں اس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق فائن آرٹ کے ماہر فہد اور لولو الیحیی نے شیشے پر کندہ کاری کے آرٹ کو فروغ دینے کا پروگرام وضع کیا۔ یہ پروگرام بالعموم تمام نوجوانوں بالخصوص معذوروں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔


اس فن کو گلاس آرٹ بھی کہا جاتا ہے۔معذوری سے دوچار ہونے والے نایف العصیمی اور فہد الحاذور نے اپنی معذوری گلاس آرٹ کا فن سیکھنے کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔ دونوں معذور نوجوانوں نے 2019 کے آخر میں یہ فن سیکھنا شروع کیا اور بہت تیزی کے ساتھ وہ اس میں مہارت حاصل کرتے چلے گئے۔ اس میں انہیں سماجی بہبود اور کمیونٹی سروس کے میدان میں کام کرنے والی ایک پیشہ ور کمپنی نے بھرپور مدد فراہم کی۔گلاس آرٹ میں مہارت حاصل کرنے والے 32 سالہ نائف العصیمی پیدائشی دماغی عارضے کا شکار ہیں۔ صرف 9 ماہ کی مسلسل محنت سے وہ نہ صرف گلاس آرٹ کے خود ماہر بنے بلکہ انہوں نے دوسرے معذور افراد کو اس کی ٹریننگ دینا بھی شروع کر دی ہے۔آرٹسٹ فہد اور لولو الیحیی کا کہنا تھا کہ انہوں نے معذور افراد کو گلاس آرٹ سے آشنا کرنے کا پروگرم 2018 میں شروع کیا جو تیزی کے ساتھ مقبول ہوا ہے۔ وہ اس فن میں مختلف شخصیات اور مقامات کی تصاویر کو شیشے پر کندہ کاری کے ذریعے تیار کرنے اور انہیں فن پاروں کی شکل میں تیار کرنے کے بعد فروخت کرتے ہیں۔ اب تک انہوں نے 70 معذور افراد کو اس آرٹ کی تربیت فراہم کرکے انہیں اس آرٹ سے فن پارے تیار کرنے کے قابل بنا دیا اور وہ اپنے پاوں پر کھڑے ہو گئے ہیں۔


زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎