ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ریاست اور مذہب الگ، سوڈان میں 30 سال سے جاری اسلامی قوانین ختم

datetime 9  ستمبر‬‮  2020 |

خرطوم (مانیٹرنگ ڈیسک) سوڈان نے ملک میں 30 سال سے جاری اسلامی قوانین کا خاتمہ کر دیا ہے۔ سوڈان کی عبوری حکومت نے باغی گروپوں کے ساتھ معاہدے پر اتفاق کیا ہے جس کے مطابق ملک میں تیس سال سے جاری اسلامی قوانین کو ختم کر دیا گیا ہے اور مذہب کو ریاست سے الگ کر دیا گیا ہے۔ سوڈان کے وزیراعظم عبداللہ ہمدوک اور سوڈانی عوام کی آزادی تحریک کے باغی

گروپ کے ایک کمانڈر عبدالعزیز کے درمیان ایتھوپیا کے دارالحکومت، ادیس ابابا میں ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے۔اس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ریاست کوئی سرکاری مذہب قائم نہیں کرے گی۔کسی بھی شہری کو ان کے مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔معاہدے میں کہا گیا ہے کہ سوڈان کے لئے ایک جمہوری قوم بننے کے لئے جہاں تمام شہریوں کے حقوق کا تدارک کیا گیا ہو، وہاں پر آئین کو ریاست اور مذہب کی علیحدگی کے اصول پر قائم کیا جانا چاہئے، جس کی عدم موجودگی میں خود ارادیت کے بنیادی حق کا احترام کرنا ضروری ہے۔ یاد رہے کہ جنوبی سوڈان کے شہر جوبا میں سوڈان انقلابی فرنٹ (ایس آر ایف) میں باغی گروپوں کے اتحاد کے ساتھ حکومت نے امن معاہدے پر اتفاق کیا تھا اس سے امید کی جا رہی ہے کہ دارفور خطے اور ملک کے دیگر حصوں میں تنازعات بھی ختم ہوسکتے ہیں۔اسلامی قانون جیسے تیس سال قبل عمر البشیر نے نافذ کیا تھا اب انہیں ختم کیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان اصلاحات کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ دوسری جانب اسلام پسند جماعتوں نے ملک میں پاپولر کانگریس پارٹی سمیت عوامی سطح پر تنقید کی ہے۔ پاپولر کانگریس پارٹی کا کہناہے کہ یہ واضح ہے کہ حکومت مغرب کی اطاعت کر رہی ہے ملک کو سیکولرسیشن کی طرف لے جایا جا رہا ہے جو ہماری اقدار اور مذہب کے منافی ہے۔ یہ بھی انکشاف ہواہے کہ اسرائیل کے

موساد کے سربراہ نے متحدہ عرب امارات میں سوڈان کے ایک اعلی عہدیدار سے ملاقات بھی کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…