ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

خفیہ ایجنسیوں کی نگرانی کا پروگرام غیر قانونی تھا امریکی عدالت نے فیصلہ سنا دیا

datetime 3  ستمبر‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے عوام کی نگرانی کیے جانے سے متعلق جس پروگرام کا انکشاف ایڈورڈ سنوڈن نے کیا تھا اسے ایک وفاقی عدالت نے بھی اپنے اہم فیصلے میں غیر قانونی قرار دیا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا میں ایک وفاقی عدالت نے نیشنل سکیورٹی ایجنسی(این ایس اے)کی جانب سے خفیہ طورعوام کی نگرانی کے پروگرام کو غیر قانونی بتایا ہے۔ امریکی شہری ایڈورڈ سنوڈن نے بھی اسی محکمے میں کام کرتے تھے اور انہوں نے ہی متنازعہ نگرانی کے اس خفیہ پرگرام کا پردہ فاش کیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس پروگرام کو غیر آئینی تو نہیں قرار دیا، تاہم ممکنہ طور پر آئین کی خلاف ورزی ضرور بتایا۔اس خفیہ پروگرام کے تحت امریکا کی تمام مواصلاتی کمپنیاں این ایس اے کو اپنا ڈیٹا فراہم کرتی تھیں اور پھر خفیہ ایجنسی ڈیٹا کی تفتیش اور اس کی چھان بین کے لیے اس کا تجزیہ کرتی تھی۔ امریکی کورٹ آف اپیل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ پروگرام فارن اینٹلیجنس سرویلنس ایکٹ کے بالکل منافی ہے اور بہت ممکن ہے کہ یہ عمل آئین کے خلاف ہو۔این ایس اے کی ان خفیہ سرگرمیوں کا کسی کو بھی علم نہیں تھا اور پھر اسی محکمے سے وابستہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر ایڈورڈ سنوڈن نے اس کو بے نقاب کر دیا تھا۔

انہوں نے اس کا پردہ فاش کیا اور شاید وہ نتائج سے آگاہ تھے اسی لیے وہ امریکا چھوڑ کر روس فرار ہوگئے تھے۔ قانون نافذ کرنے والے امریکی اداروں نے اس بات پر سنوڈن کے خلاف کیس درج کر لیا تھا۔این ایس اے کی ان خفیہ سرگرمیوں کا کسی کو بھی علم نہیں تھا اور

پھر اسی محکمے سے وابستہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر ایڈورڈ سنوڈن نے اس کو بے نقاب کر دیا تھا،امریکی عدالت کے فیصلے کے رد عمل میں سنوڈن نے ٹویٹر پر لکھاکہ سات برس قبل جب اس کی خبر آئی تھی تو سچ بولنے کے لیے مجھ پر مجرمانہ قسم کے مقدمات دائر کیے گئے تھے۔

میں نے کبھی تصور بھی نہیں تھا کہ ہماری عدالتیں این ایس اے کی سرگرمیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیں گی اور اسی فیصلے میں اس کو بے نقاب کرنے کے لیے میری پذیرائی بھی ہوگی۔ لیکن بہرحال وہ دن آہی گیا۔سنوڈن پر تاہم اب بھی امریکا میں جاسوسی کرنے جیسے مقدمات قائم ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…