ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینے کیلئے رقم نہیں،اہم اسلامی ملک کے وزیر خزانہ کا انتباہ

datetime 22  اگست‬‮  2020 |

کویت سٹی(این این آئی)تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ریاست کویت کا خزانہ خالی ہوتا جارہا ہے اور اس کے وزیرخزانہ نے خبردار کیا ہے کہ نومبر میں سرکاری ملازمین کو تن خواہوں کی ادائی کے لیے سرکار کے پاس رقوم نہیں ہوں گی۔کویت کے مقامی میڈیا کے مطابق وزیر خزانہ براک الشیتان نے واضح کیا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اس وقت صرف دو ارب دینار(چھ ارب 54 کروڑ ڈالر)رہ گئے

جبکہ حکومت کو ہر ماہ سرکاری ملازمین کی تن خواہوں کی ادائی اور دوسرے اخراجات پورا کرنے کے لیے ایک ارب 70 کروڑ ریال درکار ہوتے ہیں۔وزیر خزانہ نے اس مالی خسارے پر قابو پانے کے لیے کویتی پارلیمان سے رجوع کیا ہے اور وہ قرض کے حصول کے لیے ایک قانون کی منظوری چاہتے ہیں جس کے تحت آیندہ دس سال کے دوران میں حکومت 20 ارب دینار قرض حاصل کرسکے گی تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی سے پیدا ہونیوالے بجٹ خسارے پر قابو پاسکے۔ اورکرونا وائرس کی وبا کے معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے نمٹ سکے۔اخبار کی اطلاع کے مطابق کویتی پارلیمان کے ایک رکن ثامر السویط کا کہنا تھا کہ وزیرخزانہ نے ہمیں تو یہ کہہ کر صدمے سے دوچار کردیا ہے کہ حکومت نومبر میں تن خواہیں ادا کرنے کے قابل نہیں رہے گی جبکہ اس وقت ملک کے اثاثوں کی مالیت 205 ارب دینار ہے۔ایک اور رکن پارلیمان حمدان العظیمی نے وزیر خزانہ کو ہاتھ کھڑا کرنے پر آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ان کا کہناتھا کہ یہ تو بہت ہی شرمناک امر ہے کہ ہم دنیامیں چوتھے بڑے خود مختار فنڈ کے مالک ہیں اور حکومت تن خواہوں کی ادائی کے لیے قرض لینا چاہتی ہے۔وزیر خزانہ کی قرضہ لینے کے لیے قانون کی وکالت سے دو روز قبل ہی یہ خبر سامنے آئی تھی کہ کویت کے بجٹ خسارے کا حجم بڑھ گیا ہے اور 2020/21 کے مالی سال میں اس کی مالیت 14 ارب دینار ہوجائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…