ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ اس قیمت پر تعلقات معمول پر لائے گا، سعودی شہزادے نے دیگر عرب ریاستوں سے بھی حیرت انگیز مطالبہ کر دیا

datetime 22  اگست‬‮  2020 |

ریاض (این این آئی)سعودی شاہی خاندان کے سینئر رکن نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ سعودی عرب اس قیمت پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے گا جب خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے جس کا دارالحکومت یروشلم ہو۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق شہزادہ ترکی الفیصل نے بظاہر یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے ردعمل میں دیا جس میں انہوںنے کہا تھا انہیں امید ہے کہ سعودی عرب بھی،

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے معاہدے میں شامل ہوجائیگا۔انہوں نے سعودی اخبار میں لکھا کہ کوئی بھی عرب ریاست جو متحدہ عرب امارات کے راستے پر چلنا چاہتی ہے اسے بدلے میں قیمت کا مطالبہ کرنا چاہیے، جبکہ یہ قیمت بڑی ہونی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے اسرائیل اور عربوں کے درمیان امن کی قیمت مقرر کر لی ہے اور یہ خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت یروشلم ہو۔خیال رہے کہ 2002 کے عرب لیگ کے منصوبے میں اسرائیل کو تمام قابض علاقوں (مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی یروشلم) سے پیچھے ہٹنے کے بدلے تعلقات معمول پر لانے کی پیشکش کی گئی تھی، فلسطین کے ان علاقوں پر اس نے 1967 کی مشرق وسطیٰ جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔شہزادہ ترکی الفیصل نے اپنے مضمون میں متحدہ عرب امارات کے فیصلے کے حق میں بھی بات کی اور کہا کہ ریاض کے قریبی اتحادی نے اہم شرط منوالی ہے کہ اور وہ اسرائیل کے انضمام کے منصوبوں کو روکنا ہے۔امریکا میں سابق سعودی سفیر اور سابق انٹیلی جنس سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل کے پاس اس وقت کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے تاہم وہ کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹڈیز کے چیئرمین کی حیثیت سے اب بھی بااثر ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بحال ہوجائیں گے۔معاہدے کے مطابق اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کے یکطرفہ الحاق کے اپنے منصوے کو مؤخر کردے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…