ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

امارات کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ سے انسانی حقوق کی 10 بڑی پامالیاں سامنے آگئیں

datetime 16  اگست‬‮  2020 |

جنیوا (این این آئی)انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنیوالے ادارے ہیمومیڈیانے بتایا ہے کہ صہیونی ریاست اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوستانہ تعلقات کے اعلان سے خطے میں انسانی حقوق کی 10 بڑی پامالیوں کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق ھیمومیڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا کہ امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے میں اقوام متحدہ کی طرف سے جن بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت فراہم کی گئی ہے انہیں نظرانداز کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے غرب اردن میں ہرقسم کی یہودی آباد کاری پر مکمل پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کررکھا ہے مگر امارات نے اس حوالے سے عالمی ادارے کے اصول اور مطالبے کو نظرانداز کیا ہے۔اس معاہدے میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر صہیونی ریاست کے غاصبانہ قبضے کے اسٹیٹس کو تبدیل نہیں کیا گیا بلکہ امارات نے غیراعلانیہ طور پر فلسطینی علاقوں پر قابض ریاست کے وجود اور اس کے تصرفات کو قبول کرلیا ہے۔ یہ انسانی حقوق کی ایک بڑی پامالی ہے۔معاہدے میں فلسطینی علاقوں غرب اردن اور القدس میں یہودی آباد کاری اور توسیع پسندی کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل مرتب نہیں کیا گیا اور نہ ہی غزہ کا محاصرہ ختم کرنے،جیلوں میں قید ہزاروں فلسطینیوں کی رہائی یا حق واپسی کی کوئی ضمانت دی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ریاست کھلے عام فلسطین کے قدرتی وسائل پرقبضے اور ان کی لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب اس لوٹ مار میں متحدہ عرب امارات بھی سرمایہ کاری کی آڑ میں شامل ہوگیا ہے اور یہ بنیادی حقوق کی پامالی ہے۔

القدس کے تاریخی اسلامی تشخص کو نظرانداز کرتے ہوئے امارات نے اسرائیل کے ساتھ مذہبی اور سیاحتی پروازیں چلانے پر اتفاق کرکے انسانی حقوق کی سنگین پامالی کا ارتکاب کیا ہے۔امارات نے اسرائیلی ریاست کے ساتھ سیکیورٹی اور فوجی تعاون کے میدان میں تعاون کا اعلان کیا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف فلسطین بلکہ یمن، شام اور لیبیا میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کے واقعات میں اضافہ ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…