دنیا کوایٹم بم کے استعمال کی دوبارہ غلطی نہیں کرنی چاہیے، ترک صدر نے اہم پیغام جاری کر دیا

  جمعہ‬‮ 7 اگست‬‮ 2020  |  0:54

انقرہ( آن لائن ) ترک صدر رجب طیب اردوان دنیا کے پہلے ایٹمی حملے کے 75 سال مکمل ہونے پر کہا ہے کہ دنیا کوایٹم بم کے استعمال کی دوبارہ غلطی نہیں کرنی چاہیے۔تفصیلات کے مطابق جاپان کے شہر ہیروشیما ،ناگاساکی پر ایٹم بم حملے کے 75سال مکمل ہونے پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دنیا کوایٹم بم کے استعمال کی دوبارہ غلطی نہیں کرنی چاہیے،جوتباہی جاپان کے عوام نے دیکھی اس غلطی کودہرانے سے روکنے کی ضرورت ہے۔یاد رہے 75 برس قبل 6 اگست 1945 کی صبح امریکا نے ہیرو شیما پر


ایٹم بم گرایا تھا ، جس کے نتیجے میں 1 لاکھ 40 ہزار افراد لقمہ اجل بنے تھے اور ہزاروں افراد معذور و زخمی ہوگئے تھے۔جاپان کے مقامی وقت کے مطابق صبح کے 8 بج کر 16 منٹ پر امریکی بی 29 بمبار طیارے نے لٹل بوائے ہیرو شیما پر گرا دیا، لٹل بوائے اس پہلے ایٹم بم کا کوڈ نام تھا، بم گرائے جاتے ہی لمحے بھر میں 80 ہزار افراد موت کی نیند سوگئے جبکہ 35 ہزار زخمی ہوئے اور سال کے اختتام تک مزید 80 ہزار لوگ تابکاری کا شکار ہو کر موت کی آغوش میں چلے گئے۔ہیرو شیما کے واقعے کے 3 دن بعد امریکہ نے ناگا ساکی پر بھی حملہ کیا، 9 اگست 1945 کو بی 29 طیارے کے ذریعے ناگا ساکی پر ایٹم بم گرایا گیا جس کا کوڈ نام ’فیٹ مین‘ رکھا گیا تھا۔ ترک صدر رجب طیب اردوان دنیا کے پہلے ایٹمی حملے کے 75 سال مکمل ہونے پر کہا ہے کہ دنیا کوایٹم بم کے استعمال کی دوبارہ غلطی نہیں کرنی چاہیے۔تفصیلات کے مطابق جاپان کے شہر ہیروشیما ،ناگاساکی پر ایٹم بم حملے کے 75سال مکمل ہونے پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دنیا کوایٹم بم کے استعمال کی دوبارہ غلطی نہیں کرنی چاہیے، جوتباہی جاپان کے عوام نے دیکھی اس غلطی کودہرانے سے روکنے کی ضرورت ہے۔یاد رہے 75 برس قبل 6 اگست 1945 کی صبح امریکا نے ہیرو شیما پر ایٹم بم گرایا تھا


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎