ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

جرمنی مسلسل  تیسرے برس بھی پسندیدہ ترین ممالک میں شامل امریکی لیڈر شپ کیلئے ناپسندیدگی یورپی ممالک میں سب سے زیادہ ریکارڈ

datetime 28  جولائی  2020 |

برلن (این این آئی)رائے عامہ کے عالمی جائزے کے مطابق سال 2019ء  میں بھی جرمنی نے نہ صرف پسندیدہ ترین ملک کا اعزاز برقرار رکھا بلکہ امریکا، روس اور چین اس دوڑ میں مزید پیچھے رہ گئے۔گیلپ کی طرف سے کرائے جانے والے گلوبل لیڈرشپ پول کے مطابق سال 2019ء  میں جرمنی کے لیے عالمی حمایت میں مزید اضافہ ہوا تو دوسری طرف امریکا کا تاثر خراب ہوا۔44

فیصد اپروول ریٹنگ یا پسندیدگی کے درجے کے ساتھ جرمنی اس فہرست میں سب سے آگے ہے۔ امریکا جرمنی سے 11 پوائنٹ پیچھے ہے اور بطور عالمی لیڈر امریکا کے بارے میں سب سے زیادہ ناپسندیدگی یورپ میں دیکھی گئی۔    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2015ء  میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے مہاجرین کے لیے سرحدیں کھولنے کے فیصلے کو ایک بہت بڑی غلطی سے تعبیر کیا تھا۔ وہ جرمنی کی پالیسیوں پر تنقید بھی کرتے رہے ہیں اور کبھی ان حق میں بیان بھی دیتے رہے ہیں۔گیلپ کی طرف سے یہ سروے کورونا وبا شروع ہونے سے قبل کرایا گیا تھا اور چونکہ اس وباء سے نمٹنے میں امریکا بْری طرح ناکام رہا ہے اس لیے اس بات کا قوی امکان ہے کہ عالمی سطح پر امریکا کے بارے میں ناپسندیدگی مزید بڑھ گئی ہو۔سابق صدر باراک اوباما کے دور میں امریکا کا تاثر کافی بہتر ہوا تھا سوائے 2011ء  کے جب وہ ریٹنگ میں جرمنی سے کچھ پیچھے رہ گیا تھا۔ تاہم جب ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت سنبھالی تو امریکا کی  اپروول ریٹنگ ایک دم سے گر گئی اور 18 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ یہ اپنی کم ترین سطح 30 فیصد تک پہنچ گئی۔135 ممالک میں امریکا کے لیے اپروول ریٹنگ سال 2019ء میں تھوڑی بہتری کے ساتھ 33 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔  قبل ازیں امریک صدر جارج بش کے دور میں سال 2008ء  میں امریکا کی یہ ریٹنگ 34 فیصد پر آ گئی تھی۔امریکی لیڈر شپ کے لیے ناپسندیدگی یورپی ممالک میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی جہاں سروے میں شامل 61 فیصد لوگوں نے موجودہ امریکی انتظامیہ کے لیے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ محض تین یورپی ممالک ایسے ہیں جہاں امریکا کے لیے پسندیدگی کا درجہ زیادہ رہا۔ ان میں کوسوو، البانیا اور پولینڈ ہیں۔آسٹریلیوی شہریوں میں 67 فیصد نے امریکا کے لیے نامنظوری یا استرداد کا اظہار کیا۔افریقہ میں تاہم امریکا کے لیے پسندیدگی کا درجہ کسی حد تک بہتر ہے جہاں 52 فیصد لوگوں نے واشنگٹن کے لیے مثبت رائے دی۔ مگر یہ 2009ء  کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ باراک اوباما کے دور صدارت میں 85 فیصد افریقیوں نے امریکا کے لیے اچھی رائیکا اظہار کیا تھا۔چین اور روس امریکا کے بعد بتدریج تیسرے اور چوتھے نمبر پر رہے۔ اس سروے میں چین کے لیے 32 فیصد افراد نے بطور عالمی لیڈر اپنی حمایت کا اظہار کیا جبکہ روس کے لیے 30 فیصد لوگوں نے۔ 2018ء  میں چین 34 فیصد اپروول کے ساتھ امریکا کے مقابلے میں تھوڑا آگے تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…