ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

آیا صوفیہ میں 86سال بعد پہلے جمعے کا خطبہ تلوار تھام کرکیوں دیا گیا؟ روح پرور مناظر دیکھنے والوں پر جلال طاری ،حیرت انگیز تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 26  جولائی  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ترک شہر استنبول میں 86 برس بعد تاریخی اور عالمی ثقافتی اہمیت کی حامل آیا صوفیہ مسجد نمازِ جمعہ کے لیے کھولی گئی۔ترکی کے وزیر مذہبی امور پروفیسر ڈاکٹر علی ایرباش نے ہاتھ میں تلوار تھام کر خطبہ جمعہ دیا تو دنیا بھر میں یہ روح پرور مناظر دیکھنے والوں پر جلال طاری ہوگیا۔قومی موقر نامے جنگ کی رپورٹ کے مطابق

پروفیسر ڈاکٹر علی ایرباش نے خطبہ جمعہ کے دوران قسطنطینیہ (استنبول) فتح کرنے والے سلطان محمّد فاتح کی یادگار تلوار ہاتھ میں تھامی رہی۔تلوار تھامے خطبہ دینا خلافت عثمانیہ کے دور کی ایک روایت ہے اور فتح کی علامت سمجھی جاتی ہے۔انہوں نے الٹے ہاتھ میں تلوار پکڑی جو ایک طرف تو دشمنوں کے دلوں پر ہیبت طاری کرنے اور دوسری طرف اتحادیوں کو تقویت اور اعتماد دینے کا پیغام دیتی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ترک صدر رجب طیب اردوان کے علاوہ ترکی کی دیگر سیاسی شخصیات نے بھی آیا صوفیہ میں نمازِ جمعہ ادا کی، نماز کی ادائیگی کے لیے ناصرف آیا صوفیہ مسجد کے اندر بلکہ باہر بھی لوگوں کی بڑ ی تعداد موجود تھی۔نماز جمعہ کی ادائیگی کے تاریخی موقع پر شرکت کے لیے دنیا بھر سے مسلمان استنبول پہنچے ہیں، مسجد آیا صوفیہ کے اردگرد کی تمام گلیوں، بازار اور سڑکوں پر لاکھوں لوگوں نے جائے نماز بچھا کر نماز ادا کی۔خیال رہے کہ رواں ماہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے استنبول کی تاریخی اہمیت کی حامل عمارت آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے تھے ترک صدر رجب طیب اردوان نے یونیسکو کے عالمی تاریخی ورثے میں شامل اس مقام کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کی تجویز دی تھی۔ آیا صوفیہ مسیحی بازنطینی اور مسلمان سلطنت عثمانیہ دونوں کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…