ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

احتجاج کے خوف سے ایران میں سیکیورٹی سخت، گرفتاریاں، انٹرنیٹ محدود

datetime 18  جولائی  2020 |

تہران (این این آئی )ایران میں متعدد بڑے شہروں میں سیکیورٹی فورسز اور بلوا پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ ملک میں ہونے والے مظاہروں کو زیادہ پھیلنے سے روکا جا سکے۔دوسری طرف پولیس نے مظاہروں کے خوف سے لوگوں کی پکڑ دھکڑ شروع کی ہے۔

کئی شہروں میں انٹرنیٹ سروس محدود کر دی گئی ہے۔ بہبہان شہر میں پولیس نے کریک ڈائون میں کم سے کم تیس مظاہرین کو حراست میں لیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق سماجی کارکنوں نے بتایا کہ دارالحکومت تہران میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں اور پولیس کے ساتھ ساتھ نیم فوجی دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ تہران میں سعادت آباد کےمقام پر پولیس کو موٹرسائیکلوں اور کاروں میں سڑکوں پر گشت کرتے بھی دیکھا گیا ہے۔بڑے شہروں میں ہونے والے مظاہروں کے بعد جنوبی مغربی شہر بہبہان کی سڑکوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی جس نے حکومت کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے شہریوں کو منتشر کردیا۔اطلاعات کے مطابق ارومیہ، مشہد اور شیراز جیسے بڑے شہروں میں لوگوں کی باہمی رابطہ کاری محدود کرنیکے لیے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس محدود کردی گئی ہے جب کہ ان شہروں کی سڑکوں پرپولیس کی بھاری نفری بھی گشت کر رہی ہے۔تہران، رشت، زنجان، ابھر، شیراز، کرج، شہریار، اہواز اور دیگر شہروں میں انٹرنیٹ کی رفتار کی شکایات ملی ہیں۔شہریوں کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام نے احتجاج کے دوران انٹرنیٹ منقطع کردیا ہے تاکہ لوگوں کو مظاہروں کے لیے رابطہ کرنے سے روکا اور معلومات کے تبادلے کو روکا جا.سکے۔ایرانی پاسداران انقلاب کے انٹلیجنس نے خراسان اور فارس صوبوں میں حکومت مخالف مظاہروں کی تیاری میں مصروف متعدد نوجوانوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…