ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

چین نے دنیا کے طویل ترین اور آسمان کو چھونے والے بریج کو ٹریفک کیلئے کھول دیا، خوبصورت تعمیراتی شاہکار کے بارے میں جانئے

datetime 1  جولائی  2020 |

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین اپنے کروڑوں افراد کو اپنے دیگر بڑے شہروں میں منتقل کرنے کا خواہش مند ہے، اسی وجہ سے چین میں بہت سے میگا پراجیکٹس پر کام ہو رہا ہے، اسی طرح کا ایک پراجیکٹ دریائے یانگتیز پر بنایا گیا طویل اور دیو قامت پل ہے۔ چین نے دنیا کے طویل روڈ ریل کیبل پر لٹکتے پُل کی تعمیر مکمل کر لی ہے۔اس برج کو شنگھائی سوژوو نانتونگ کا نام دیا گیا ہے جو دریائے یانگتیز پر پھیلا ہوا ہے۔

یہ پُل 11 ہزار 72 میٹر طویل ہے اور یہ دنیا کا پہلا برج ہے جس میں روڈ ریل کیبل ایک ہزار میٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔پراجیکٹ کنٹریکٹر ننگ چاؤشین کا کہنا ہے کہ اس کے 2 کیبل ٹاور اس پل کے اہم ترین سٹرکچر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جتنا پل طویل ہوگا،اتنا ہی کیبل ٹاور اونچا ہونا ضروری ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ دنیا کے مصروف ترین دریائی راستوں میں سے ایک ہے اور پل کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس کی زندگی طویل ہو۔چاؤشین نے اس کی خصوصیات بتاتے ہوئے کہا کہ اس پل کی تعمیر میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ وہ شدید ترین سیلاب کا سامنا کرسکے، ان کے مطابق یہ پُل 8 شدت کے زلزلہ کا سامنا بھی کر سکتا ہے اور ایک لاکھ ٹن وزنی بحری جہاز کی ٹکر بھی سہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پل کی تعمیر کے لیے 73 ہزار کیوبک میٹر کنکریٹ اور 11 ہزار ٹن سٹیل بار ہر ٹاور کے لیے استعمال کی گئی ہے اور ہر ٹاور کی بلندی 110 منزلہ عمارت کے برابررکھی گئی ہے۔  چین اپنے کروڑوں افراد کو اپنے دیگر بڑے شہروں میں منتقل کرنے کا خواہش مند ہے، اسی وجہ سے چین میں بہت سے میگا پراجیکٹس پر کام ہو رہا ہے، اسی طرح کا ایک پراجیکٹ دریائے یانگتیز پر بنایا گیا طویل اور دیو قامت پل ہے۔ چین نے دنیا کے طویل روڈ ریل کیبل پر لٹکتے پُل کی تعمیر مکمل کر لی ہے۔اس برج کو شنگھائی سوژوو نانتونگ کا نام دیا گیا ہے جو دریائے یانگتیز پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ پُل 11 ہزار 72 میٹر طویل ہے اور یہ دنیا کا پہلا برج ہے جس میں روڈ ریل کیبل ایک ہزار میٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…