ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

کیا کیٹ مڈلٹن بھی شاہی فرائض سے تنگ آ گئیں؟ برطانوی شہرادی کی جانب سے بھی ردعمل آگیا

datetime 26  جون‬‮  2020 |

لندن (این این آئی)برطانوی شاہی خاندان کی بڑی بہو، ڈچز آف کیمبرج کیتھرین مڈلٹن سے متعلق پچھلے دنوں افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ انہیں شاہی فرائض انجام دینے میں دشوار ی کا سامنا ہے اور وہ شاہی معاملات سے تنگ آ گئیں ہیں جس کی کیٹ مڈلٹن کی جانب سے تردید کی گئی ہے۔غیر ملکی میڈیا پر گزشتہ دنوں افواہیں گردش میں تھیں کہ شاہی خاندان کی چھوٹی بہو میگھن مرکل کے

شاہی حیثیت سے دستبرداری، اپنے شوہر پرنس ہیری سمیت شاہی خاندان چھوڑنے کے بعد اب بڑی بہو کیتھرین مڈلٹن بھی شاہی فرائض انجام دیتے ہوئے تھک گئیں ہیں اور شاہی معاملات انجام دینے میں انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔برطانوی جریدے نے ایک قریبی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کیتھرین مڈلٹن نے شاہی فرائض انجام دینے میں دشواری سے متعلق افواہوں اور میڈیا کی جانب سے حد سے زیادہ انہیں کوریج دینے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے ۔کیٹ مڈلٹن خود کو میڈیا میں غلط پیش کیے جانے پر ناراض ہیں ، کیٹ پہلے سے کہیں زیادہ موثر طریقے سے شاہی فرائض انجام دے رہی ہیں اپنی پوری صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئیکوشش کر رہی ہیں ، ذرائع کا کہنا ہے کہ کیٹ اس بات سے پریشان ہیں کہ میڈیا ان سے متعلق جھوٹ پھیلا رہا ہے ۔ذرائع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کیٹ شاہی فرائض سے متعلق پریشان نہیں ہیں مگر ان کی پریشانی خود سے متعلق ہوسکتی ہے کہ عوام میں ان کی ساخت کیسی ہے، وہ صحیح برانڈ کے کپڑے زیب تن کر رہی ہیں یا نہیں، ان کے بچے کس قسم کے کپڑے پہن رہے ہیں ، چھوٹی چھوٹی چیزیں مگر جو بہت اہمیت رکھتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…