ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں موجود افراد میں سے بھی 1000 سے 10 ہزار افراد ہی حج کا فریضہ ادا کر سکیں گے، مناسک حج کی ادائیگی کے بعد آئسولیشن میں بھی رہنا ہوگا،سعودی حکومت کے حفاظتی اقدامات کے پیش نظر کچھ مزید فیصلے

datetime 24  جون‬‮  2020 |

ریاض (آن لا ئن) سعودی حکومت نے اس سال حج کو محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کے تحت ایک ہزار سے 10 ہزار عازمین فریضہ حج ادا کریں گے۔کورونا کے باعث پہلے ہی طے کیا جا چکا ہے کہ رواں سال بیرون ملک سے عازمین حج سعودی عرب نہیں آسکیں گے تاہم اب سعودی حکومت نے حفاظتی اقدامات کے پیش نظر کچھ مزید فیصلے کیے ہیں۔

سعودی حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ سعودی عرب میں موجود افراد میں سے بھی 1000 سے 10 ہزار افراد ہی حج کا فریضہ ادا کر سکیں گے جب کہ عازمین کو مناسک حج کی ادائیگی کے بعد گھروں میں آئسولیشن میں بھی رہنا ہوگا۔سعودی وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر صالح اور وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ محدود تعداد میں حج پر جانے والے عازمین کا بھی حج سے پہلے مکمل طبی معائنہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ 65 سال سے زائد عمر کے ہوں گے وہ حج نہیں کر سکیں گے جب کہ اس کے علاوہ مستقل بیماریوں سے محفوظ افراد ہی حج کر سکیں گے۔ حجاج کی تعداد کے بارے میں ڈاکٹر صالح کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ یہ تعداد 1000 سے 10 ہزار تک ہو تاہم اس کا جائزہ لیا جاتا رہے گا۔انہوں نے بتایا کہ مختلف ملکوں کے سفارتی مشن سے رابطہ کرکے ٹھوس حکمت عملی طے کی جائے گی جب کہ بیرون ملک سے کسی بھی عازمین حج کو سعودی عرب آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام عازمین حج کو مناسک حج کے بعد بھی ایک مخصوص مدت تک گھروں میں الگ تھلگ رہنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…