ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

چینی فوج کے ہا تھوں 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے معاملے کو کینیڈین اخبار نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی سے جوڑ دیا،نئی بحث چھڑ گئی

datetime 18  جون‬‮  2020 |

بیجنگ (این این آئی)چینی فوج کے ہا تھوں 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے معاملے کو کینیڈین انگلش اخبار نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی سے جوڑ دیا۔کینیڈیا کے اخبار نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی بی جے پی سرکار کے متنازع فیصلے کا نتیجہ ہے کہ چین کو مقبوضہ کشمیر میں مداخلت کا راستہ دے دیا گیا ۔

اخبار میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی سے انجانے میں بیجنگ کو ایک نیا ہتھیار مل گیا ہے۔ اخبار کے مطابق جموں و کشمیر کی خودمختاری پر بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا ایک دیرینہ مقصد رہا ہے۔اخبار میں بتایا گیا کہ چین نے نئی ریاست کی تشکیل کو جارحیت اور مداخلت کے طور پر لیا اور بھارت کے ساتھ خارجہ پالیسی مذاکرات میں لداخ کی تشکیل کرنے والی نئی قانون سازی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اخبار کے مطابق مجموعی طور پر آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے پر اعتراض کرنے کا یہ ایک مختلف طریقہ ہے، اور اس اقدام سے متعدد محاذوں پر چین کو فائدہ ہوتا ہے اور اس سے چین پاکستان کے ساتھ اپنا اتحاد مضبوط کرسکتا ہے۔ادھر مشرقی لداخ میں 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارتی فوج نے علاقے میں چینی فوج کے ساتھ اپنے rules of engagement بدلنے پر غور شروع کر دیا ہے ۔یاد رہے کہ 2 روز قبل چین اور بھارت کے درمیان متنازع سرحدی علاقے لداخ میں چینی افواج سے جھڑپوں میں بھارتی فوج کے کرنل سمیت 20 فوجی مارے گئے تھے۔فوجیوں کی ہلاکت کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان 5 دہائیوں بعد سامنے آیا ہے ، اس سے قبل آخری بار ارونا چل پردیش کی سرحد پر دونوں فوجوں میں مسلح تصادم ہوا تھا جس کے نتیجے میں 4 بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…