اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

23 ماہ کے بچے نے 17 سالہ لڑکے کی جان بچا لی

datetime 6  جون‬‮  2020 |

نئی دہلی(آن لائن)بھارت میں 23 مہینے کے بچے نے مرتے مرتے گردوں کے عارضے میں مبتلا 17 سالہ لڑکے کو نئی زندگی دے دی۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی شہر احمد آباد میں 1سال 11 مہینے کے بچے ’وید زِنزے واڈیا ‘ کی دماغ کے کینسر کے آپریشن کے دوران برین ڈیتھ ہو گئی جس کے بعد بچے کے والدین نے اپنے بچے کے اعضاء￿ عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق اس بچے کے عطیہ کیے اعضاء سے گردوں کے عارضے میں مبتلا زندگی موت کی جنگ لڑتے 17 سالہ لڑکے کی جان بچ گئی۔ بچے کے والدین کے مطابق لاک ڈائون کے دوران اْ ن کے بچے کی اچانک طبیعت بگڑنے پر اْسے اسپتال پہنچایا گیا جہاں اْس میں برین ٹیومر کی تشخیص سامنے آئی۔ ڈاکٹر کی جانب سے وید کے دماغ کی سوجن کم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا، آپریشن کے دوران چند پیچیدگیوں کے با عث ٹیومر پھٹ گیا اور اْن کے بچے کی دماغی موت و اقع ہو گئی۔وید کے والدین کے مطابق ڈاکٹروں کی جانب سے مشورہ دیا گیا کہ اگر وہ وید کے دیگر اعضاء عطیہ کر دیتے ہیں تو اْن کے اس فیصلے سے کسی دوسرے بچے کی جان بچ سکتی ہے۔بھارتی چیف آف ٹرانسپلانٹ ڈاکٹر پرانجال مودی کے مطابق وید کے والدین کی اجازت کے بعد بچے کو دوسرے اسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں ٹرانسپلانٹ کے منتظر دو مریض موجود تھے مگر اْن کی حالت آپریشن کے لیے سازگار نہ ہونے کے سبب آپریشن نہ کیا جا سکا۔ڈاکٹر پرانجال مودی کے مطابق دوسرے دن دو اور مریضوں کے ساتھ وید کے اعضاء میچ کیے گئے جن میں سے احمد آباد کے ایک 17 سالہ لڑکے کے ساتھ وید کے اعضاء میچ ہو گئے، 17 سالہ مریض گزشتہ ڈیڑھ سال سے گردوں کے عارضے میں مبتلا تھا اور ڈایئلائیسس کے سہارے زندہ تھا۔ رپورٹ کے مطابق 17 سالہ لڑکے کو ویڈ کے دونوں گردے لگا دیئے گئے ہیں اور اس ٹرانسپلانٹ پر آنے والا سارا خرچہ حکومت برداشت کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…