منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

چینی شہر ووہان میں ایک کروڑ شہریوں کے کورونا ٹیسٹ،ایک بھی مثبت نہ آیا، دوسری لہر آنے کااب کوئی خطرہ نہیں،چینی حکام کا اعلان‎

datetime 4  جون‬‮  2020 |

ووہان( آن لائن )چین کے شہر ووہان میں سب سے پہلے کورونا وائرس پھیلا تھا تاہم چین نے جلد ہی اس وائرس پر قابو پالیا۔تاہم کچھ دن قبل یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ووہان میں کورونا وائرس کی دوسری لہرائے گی۔جس کے بعد چینی حکام نے شہر میں موجود تمام افراد کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔

ووہان انتظامیہ نے صرف 19 دن میں ایک کروڑ شہریوں کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کیے جن میں ایک بھی شخص کا ٹیسٹ مثبت نہیں آیا۔گویا ایک کروڑ شہریوں میں ایک بھی کورونا وائرس کا مریض نہیں نکلا۔ووہان کے حکام کا کہنا ہے کہ اس ٹیسٹنگ مہم کے نتائج کے بعد حتمی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ شہر میں کورونا وائرس کی دوسری لہر آنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔حکام کے مطابق کورونا وائرس کا پہلا مرکز بننے والایہ شہر اب اس وبا کے حوالے سے محفوظ ترین شہر ہے جہاں کورونا کے لوٹنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔رپورٹ میں بتایا ہے کہ ٹیسٹنگ مہم کے دوران صرف 300 ایسے مشکوک لوگ سامنے آئے جن میں وائرس کا شبہ پایا گیا مگر ان میں کوئی علامات موجود نہیں پائیں گی اس کے باوجود انہیں قرنطینہ بھیج دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ چین کی حکومت نے وہوان میں کورونا وائرس کے کیسز دوبارہ سامنے آنے کے بعد پورے شہر کی آبادی کا کورونا ٹیسٹ کرانے کا اعلان کیا گیا تھا۔یحکومت نے ایک کروڑ دس لاکھ افراد پر مشتمل ووہان کی پوری آبادی کو کورونا ٹیسٹ کروانے کا حکم دیا تھا۔ حکام کو شہر کے تمام علاقوں میں ٹیسٹ کا منصوبہ پیش کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔بق چین نے 3 ماہ سے زائد لاک ڈان کے بعد ووہان اور دیگر شہروں سے کورونا کا خاتمہ کر دیا تھا اور 3 اپریل کے بعد ووہان میں کوئی کیس نہیں ملا۔

چین نے سخت اقدامات کرتے ہوئے پورے شہر کو سیل کیا اور 76 روزہ سخت لاک ڈان کے بعد ووہان میں سفری پابندیاں ختم کیں۔چینی حکام کا کہنا گرچہ کورونا کی وبا پر کنٹرول کے بعد پہلی بار چین میں کوئی موت سامنے نہیں آئی تاہم گذشتہ ماہ مزید پانچ متاثرہ افراد کی اطلاع ملی تھی جنہیں کورونا کے مشتبہ کیسز کی کیٹیگری میں رکھا گیا تھا کیوں کہ بظاہر ان میں کورونا کی کوئی علامات موجود نہیں تھیں۔۔#/s#

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…