اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

اقوام متحدہ کا امریکہ طالبان امن معاہدے پر نئے شکوک و شبہات کا اظہار‎

datetime 2  جون‬‮  2020 |

اقوام متحدہ کا امریکہ طالبان امن معاہدے پر نئے شکوک و شبہات کا اظہار‎واشنگٹن (این این آئی)اقوام متحدہ کے رکن ملکوں کی انٹیلی جنس اطلاعات پر مبنی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے طالبان قیادت اپنے پیرو کارجنگجوؤں کو مسلسل یہی تلقین کر رہی ہے کہ پر اعتماد رہو، ہم اقتدار طاقت کے زور پر حاصل کر سکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی مرتب کردہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ رکن ممالک شکوک و شبہات کا

اظہار کر رہے ہیں کہ طالبان امریکہ کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کی پاسداری کرنے کی نیت نہیں رکھتے۔ اس معاہدے کا مقصد تقریباً دو عشروں پر محیط افغانستان میں جنگ کا خاتمہ اور مستقل امن کا قیام ہے۔اقوام متحدہ کی بین الاقوامی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم نے نہ صرف حالیہ دنوں میں طالبان کے افغان فورسز پر حملوں کا ذکر کیا، بلکہ ان کے اندرونی پیغامات کا بھی حوالہ دیا، جن میں سخت گیر رویہ قائم رکھنے کی تلقین کی جاتی رہی ہے۔ طالبان کو اعتماد ہے کہ وہ طاقت کے بل پر اقتدار حاصل کر سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ خطرہ موجود ہے کہ وہ بین الافغان مذاکرات کو کسی نہ کسی وجہ سے اس وقت تک زیر التوا رکھیں گے جب تک بین الاقوامی فوجوں کا افغانستان سے انخلا نہیں ہو جاتا۔‎اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان فورسز کی فضائی حفاظت امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی فورسز کر رہی ہیں اور اسی وجہ سے طالبان فورسز بھرپور طور پر سرگرم نہیں ہیں۔ اسی لیے اچانک اور غیر متوقع انخلا کئی صوبوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اس وقت 21 اضلاع پر طالبان کا کنٹرول ہے، جب کہ افغانستان کے 60 فیصد حصے کے حصول کے لیے جد و جہد جاری ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان جنگجوؤں کی تعداد پچپن ہزار سے پچاسی ہزار کے درمیان ہے اور پندرہ ہزار سے زیادہ سہولت کار ہیں۔نگرانی کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم نے یہ بھی لکھا ہے کہ

طالبان 30 کروڑ سے لے کر ڈیڑھ ارب سالانہ تک کما رہے ہیں۔ ان کی اس آمدنی کے مختلف ذرائع ہیں، جن میں مقامی سطح پر ٹیکس اور منشیات کی ناجائز تجارت وغیرہ شامل ہیں۔اس کے علاوہ طالبان کے القاعدہ کے ساتھ تعلقات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک رکن ملک نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران بھی طالبان کا القاعدہ کے لیڈروں سے رابطہ رہا اور یہ ان سے ہدایات لیتے رہے۔اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے باوجود امریکہ کے اعلی عہدے دار یہ توقع رکھتے ہیں کہ طالبان معاہدے پر قائم رہیں گے اور یہ کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو جائیں گئے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…