اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس کے باعث شیڈول سے قبل افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا شروع

datetime 28  مئی‬‮  2020 |

کابل (این این آئی)افغانستان میں قیام امن کے لیے طالبان کے ساتھ ہوئے امن معاہدے کے بعد امریکی افواج کا انخلا طے شدہ وقت سے پہلے ہی شروع ہوگیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب عید الفطر کے موقع پر 3 روز کی تاریخی جنگ بندی کے بعد افغانستان کی طویل جنگ کے اگلے مرحلے سے متعلق سوال اٹھ رہے ہیں۔طالبان کی جانب سے عیدالفطر کے موقع پر اعلان کردہ جنگ بندی 26 مئی کی رات کو ختم ہوگئی تھی

جس کے بعد افغان شہری بے چین تھے کہ اس میں توسیع ہوگی یا دوبارہ جھڑپوں کا آغاز ہوگا۔جنگ بندی کے خاتمے کے بعد بھی تشدد کی سطح کم رہی تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے افغانستان کے جنوبی علاقے میں فضائی حملے کیے جس میں 18 جنگجو ہلاک ہوگئے۔رواں برس فروری میں طالبان اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت مئی 2021 میں غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا سے قبل پینٹاگون کو فوجیوں کی تعداد جولائی کے وسط تک 12 ہزار سے کم کرکے 8 ہزار 6 سو کرنی تھی تاہم امریکا کے سینئر دفاعی عہدیدار نے کہا کہ فوجیوں کی تعداد پہلے ہی ساڑھے 8 ہزار کے قریب ہے کیونکہ کورونا وائرس کے خدشات کے پیش نظر کمانڈرز انخلا میں تیزی لارہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر کی وجہ سے انخلا میں تیزی لائی گئی تاہم اس سلسلے میں صحت کے خدشات یا ایک مخصوص عمر کو ترجیح دی جارہی ہے۔2 روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اس وقت امریکی سپاہیوں کی تعداد 7 ہزار تک ہے اس کے اگلے روز ہی انہوں نے کہا تھا کہ امریکا کو افغانستان میں ‘پولیس فورس’ کا کردار نہیں ادا کرنا چاہیے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ 19 سال کے بعد اب وقت آیا ہے کہ وہ اپنے ملک کے لیے پولیسنگ کریں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سپاہیوں کو وطن واپس لائیں لیکن قریب سے دیکھیں کہ کیا ہورہا ہے اور اگر ضرورت پڑے تو ایسا زوردار حملہ کریں جو پہلے کبھی نہ ہوا ہو۔

پینٹاگون کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل تھامس کیمپ بیل نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا، طالبان سے کیے گئے معاہدے پر قائم ہے۔علاوہ ازیں افغان شہریوں نے 19 سالہ جنگ کے دوران غیر معمولی جنگ بندی کا لطف اٹھایا جو طویل جنگ کے دوران صرف دوسری مرتبہ ہی نافذ کی گئی تھی۔گزشتہ روز جنگ بندی کے خاتمے کے باوجود تشدد میں اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا جبکہ جنوبی صوبے زابل میں فضائی حملے کیے گئے تھے۔صوبائی پولیس کے ترجمان لعل محمد امیری نے بتایا کہ ضلع شاہ جوئے میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کے جواب میں فضائی حملوں میں 18 جنگجو ہلاک ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ آپریشن میں 3 بچے بھی زخمی ہوئے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ جنگجوؤں کا تعلق کس گروہ سے تھا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر کہا کہ حکومت کے فضائی حملے میں 5 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے جن میں 4 بچے بھی شامل تھے۔افغانستان کے آزاد انسانی حقوق کمیشن کے مطابق جنگ بندی کے دوران شہری ہلاکتوں میں 80 فیصد کمی آئی۔کمیشن نے کہا کہ رمضان میں یومیہ بنیادوں پر اوسطاً 30 شہری ہلاک یا زخمی ہوتے تھے لیکن جنگ بندی کے دنوں میں یہ تعداد کم ہو کر 6 ہوگئی۔واضح رہے کہ طالبان نے عید الفطر کے موقع پر ملک میں 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جسے نہ صرف افغان حکومت بلکہ اس کے پڑوسی ممالک اور افغان جنگ میں اہم ترین حریف امریکا نے بھی سراہا تھا۔بعدازاں افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا تھا۔افغان صدر اشرف غنی نے اعلان کیا تھا کہ طالبان کی جانب سے عید الفطر پر 3 روز کی جنگ بندی کے اقدام کے بعد جذبہ خیر سگالی کے تحت افغان حکومت مزید 2 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کردے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…