اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

بنگلہ دیش اور بھارت میں خوفناک طوفان سے تباہی، بڑی تعداد میں ہلاکتیں، لاکھوں افراد بجلی کی سہولت سے بھی محروم ہو گئے

datetime 22  مئی‬‮  2020 |

ڈھاکہ/نئی دہلی (این این آئی)بنگلہ دیش اور بھارت میں طوفان امپھن کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے جس سے اب تک 84 افراد ہلاک ہوگئے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت کی مغربی ریاست بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنیرجی نے کہا کہ 72 افراد یا تو بجلی سے یا درختوں کے گرنے سے ہلاک ہوگئے جبکہ پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں حکام نے ہلاکتوں کی تعداد 12 بتائی۔

حکام کے مطابق طوفان ایمپھن سے لینڈ فال سے قبل حکام نے لاکھوں لوگوں کی نقل مکانی کی جس کی وجہ سے ان گنت لوگوں کی جانیں بچ گئی تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی صحیح تعداد مواصلات کے نظام کے بحال ہونے کے بعد معلوم کی جاسکے گی۔بھارت اور بنگلہ دیش میں لاکھوں افراد طوفان کی وجہ سے بجلی کی سہولت سے محروم ہوگئے ہیں۔ممتا بنیرجی نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایمپھن سے ہونے والے نقصانات کورونا وائرس سے بھی زیادہ بدتر ہیں۔پڑوسی ریاست بنگلہ دیش میں حکام کا کہنا تھا کہ درخت گرنے سے 5 سالہ بچے اور 75 سالہ شخص اور ڈوبنے سے ایک رضاکار کے ہلاک ہونے کے علاوہ کل 12افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔بنگلہ دیش میں اقوام متحدہ کے دفتر نے اندازہ لگایا ہے کہ طوفان سے تقریباً ایک کروڑ افراد متاثر ہوئے جبکہ 5 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔بنگلہ دیش کے ساحلی علاقے کے 49 سالہ اصغر علی کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنی زندگی میں کبھی ایسا طوفان نہیں دیکھا، ایسا لگ رہا ہے کہ دنیا ختم ہورہی ہے اور ہم صرف دعا کرسکتے ہیں، اللہ ہماری مدد کرے‘۔ڈھاکا میں موجود نیوز میڈیا کے نمائندے نے بتایا کہ حکام نے ایک ارب ڈالر سے زائد کے نقصانات کا اندازہ لگایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 50 لاکھ کے قریب لوگ بجلی سے محروم، نقصان بہت زیادہ ہوا ہے بالخصوص جنوب مغربی بندلا میں مینگروو جنگلات طوفان کے براہ راست نشانہ بنے ہیں اور ہزاروں گھر لہروں میں بہہ گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…