اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

ترک حکومت نے ماں، بچوں کو جیلوں میں پھینک دیا ترک رکن پارلیمنٹ کےحیرت انگیز انکشاف

datetime 15  مئی‬‮  2020 |

انقرہ (این این آئی )ترکی میں کرونا وائرس کو قابو کرنے حوالے سے احتیاطی اقدام کے طور پر صدر رجب طیب ایردوآن کے قید مخالفین کو بند جیلوں سے دیگر کھلی جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس کے باوجود ان قیدیوں کے حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔ کرونا وائرس کی وبا ترکی میں درجنوں جیلوں تک پہنچ چکی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق عرب ٹی وی سے گفتگو میں اس سلسلے میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے

رکن پارلیمنٹ اور ترکی میں انسانی حقوق کے دفاع کے میدان کی ایک با اثر شخصیت عمر فاروق جرجرلی اولو نے باور کرایا ہے کہ ان کے ملک میں تمام جیلوں کی حالت خراب ہے۔اولو نے گذشتہ ماہ کے وسط میں جاری معافی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس معافی سے ترکی میں ہزاروں غیر سیاسی قیدیوں نے فائدہ اٹھایا۔اولو کے مطابق ایردوآن نے مذکورہ معافی کے ذریعے قیدیوں کے لیے انصاف کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ صدر کا مقصد ان جیلوں کو خالی کرنا تھا جو انہوں نے غیر قانونی طریقے سے بھڑ ڈالی تھیں۔ اس لیے کہ یہاں گنجائش سے زیادہ افراد کو ٹھونس دیا گیا تھا۔ لہذا ایردوآن نے جلدی میں معافی کی تجویز پیش کی۔ اس طرح ایک لاکھ کے قریب قیدیوں کو رہا کر دیا گیا اور سیاسی اپوزیشن کے قیدیوں کو اکیلے رہنے دیا گیا۔رکن پارلیمنٹ کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس کو معافی کا نام نہیں دے سکتے ،، یہ ایک بے رحمانہ استبدادی معاملہ تھا۔ یہاں تک کہ موجودہ قیدیوں کے اہل خانہ کو بھی نظر انداز کر کے انہیں اذیت میں مبتلا کیا گیا۔ کرونا وائرس کے احتیاطی اقدامات کے باعث یہ لوگ جیلوں میں ملاقات نہیں کر سکتے۔ اسی طرح ان گھرانوں کے افراد کو سنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معافی سے دور رکھا گیا۔اولو نے واضح کیا کہ اس معافی میں چوروں، اغوا کاروں اور مافیا کے لوگوں کو شامل کیا گیا۔ ان مجرموں نے معافی سے فائدہ اٹھایا۔ ان میں سے بعض نے تو رہائی کے بعد نئے جرائم کا بھی ارتکاب کیا اور پھر سے جیلوں میں واپس آ گئے ،،، تاہم سیاسی قیدی ابھی تک سلاخوں کے پیچھے سڑ رہے ہیں۔ ان میں ماں یا باپ ہیں جو اپنے بچوں کے ساتھ ہیں۔ ان کے علاوہ مریض اور عمر رسیدہ افراد بھی ہیں۔ وبا پھیلنے کے باوجود ان سب کو رحم کھائے بغیر بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…