اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں کورونا وائرس کا قہر جاری ، 24گھنٹوں میں ہزاروں مریض،سینکڑوں افراد ہلاک ‎

datetime 5  مئی‬‮  2020 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت میں کورونا وائرس کا قہر جاری ہے، پچھلے 24 گھنٹوں میں تقریباً چار ہزار نئے کیسز سامنے آئے جب کہ 195افراد لقمہ اجل بن گئے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی وزارت صحت نے کہاکہ کووڈ انیس سے اب تک 1568 لوگوں کی موت ہوچکی ہے اور مصدقہ مریضوں کی تعداد 46437 ہوگئی ہے، جبکہ پچھلے 24 گھنٹے میں کورونا کے 3900 نئے کیسز سامنے آئے اور 195 لوگوں کی موت ہوگئی۔

متاثرین اور اموات دونوں ہی لحاظ سے ایک دن میں یہ اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ حالانکہ تھوڑی راحت کی بات یہ ہے کہ اب تک 12727 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔ادھرنوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات ابھیجیت بنرجی نے بھارت کو مشورہ دیا کہ کورونا وائرس کی مار سے غریب عوام کو فوری راحت دینے کے لیے ان کے ہاتھوں میں پیسے دیے جائیں اور بھارت اس سلسلے میں امریکہ سے سبق لے سکتا ہے۔ابھیجیت بنرجی نے یہ مشورہ کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی کے ساتھ بات چیت کے دوران دیا۔ وہ ماہرین اقتصادیات کے ساتھ راہول گاندھی کی بات چیت کے سلسلے کی دوسر ی کڑی کے مہمان تھے۔ راہول گاندھی نے گزشتہ ہفتے ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنر رگھو رام راجن سے بات چیت کی تھی۔ابھیجیت بنرجی کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ جن لوگوں کے پاس راشن کارڈ نہیں ہے انہیں کم از کم تین ماہ کے لیے فوری طور پر راشن کارڈ جاری کرے جس سے ہر کسی کو مفت راشن مل سکے، کیوں کہ ہر کسی کو چاول، دال، گیہوں اور چینی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ غریبوں تک کیش ٹرانسفر کا براہ راست نظم ہونا چاہیے جیسا کہ انڈونیشیا میں ہورہا ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…